طالبان نے حیا کا مفہوم سمجھا دیا کیسے جانیے قلم کتاب پر
تحریر: قانتہ رابعہ
قرآن مجید پڑھتے ہوے جب بھی ،،قل للمومنین یغضضن من ابصارھن،،۔۔
( کہہ دیجئیے مومنوں سے کہ اپنی نظروں کی حفاظت کریں) پڑھتی تھی تو مفہوم پر صدق دل سے ایمان رکھتے ہوے بھی اک تشنگی سی محسوس ہوتی تھی ۔۔کہیں نظروں کی حفاظت لکھا ہوتا تھا تو کسی نے نظروں کو جھکا کر رکھیں ۔۔۔نظروں کو جھکا کر رکھنے یا حفاظت سے اصل میں کیا مراد ہے یا میرا اونچی شان والا رب اس سے کیا چاہتا ہے پر سوچ بچار کی بھی توفیق عطا ہوتی رہی
کل طالبان کے امور خارجہ کے سادہ سے شلوار سوٹ اور پگڑی باندھنے والے عہدیدار کا امریکی خاتون اینکر پرسن کی طرف سے وڈیو کلپ دیکھنے کو ملا
سوال بڑے چبھتے ہوے تھے اور شکست کھانے والی قوم کو سوال کرنے کا حق بھی تھا مگر وہ افغان عہدیدار جو ہماری پارلیمنٹ کے اندر تو شائد پینٹ کوٹ پہنے ہوے ٹائی باندھے اور لاکھوں کی ملکیت کی گھڑی اپنی کلائی کی زینت بنانے لاکھ دولاکھ کا جدید ماڈل کا آئ فون ہاتھ میں لینے والے خود ساختہ ماڈرن سمجھے جانے والے ارکان اسمبلی شائد سلام کا جواب دینے کے قابل بھی نہ سمجھیں۔۔۔۔اس جی دار عہدیدار نے ایسی شستہ اور رواں انگریزی میں اس کے سوالات کا جواب دیا کہ یقین نہیں آرہا تھا ۔۔۔یہ ۔۔۔۔۔۔جاہل اجڈ اور پتھر کے زمانے کے قرار دئیے جانے والے بھی اتنی اہلیت رکھتے ہیں کہ دور حاضر کے تقاضوں کو پوری طرح سمجھنے کے ساتھ ان کا حل بھی جانتے ہیں
اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ تھی کہ پورے وڈیو کلپ میں اس جاہل اور اجڈ قرار دئیے جانے والے افغان عہدیدار نے ایک مرتبہ بھی خاتون اینکر کی طرف نہیں دیکھا ۔۔اس کی نظروں کا زاویہ ان ساڑھے تین منٹوں میں ایک مرتبہ بھی عورت کی طرف نہیں ہوا ۔۔۔ ذہن میں ایکدم کوندا سا لپکا ۔۔یہ ہے وہ آیت جس کی تمہیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ نظروں کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے !!!
اور جو نظروں کو جھکانا مراد لیتے ہیں وہ اس کے اصل مفہوم تک نہیں پہنچ سکتے کیونکہ جس طرح برقعہ پہن کر بھی کوی عورت بے پردہ ہوسکتی ہے اسی طرح نظریں جھکا کر بھی اگر ان کے اندر ہوس موجود ہو تو حفاظت تو نہیں ہوسکتی۔۔۔!!! حفاظت کے لیے تقوی لازمی چیز ہے اور تقویٰ کا مرکز ؤ محور دل ہے ۔۔۔جی ہاں جس کے متعلق محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ مبارکہ ہیں
التقوی ھھونا،،
اس سے ایک بات تو یہ پتہ چلتی ہے کہ نظروں کی حفاظت کا حکم پہلے مردوں کو دیا گیا ہے ۔۔تقوی اور ضبط نفس ایک ہی چیز کے دو رخ ہیں ۔ جب اللہ ہر ایمان اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر عمل کرتے کرتے وہ مقام آجاے کہ مسلمان مرد کے سامنے عورت باپردہ ہو یا بے پردہ اسے اس سے کوی فرق نہ پڑتا ہو ۔۔اس کا ایمان اور پرہیز گاری اس درجہ پر پہنچ چکی ہو کہ ملکہ حسن بھی عریاں ہوکر سامنے آجاے ان کی نظریں باپردہ ہوں کوی ہوس کی رال نہ ٹپکے ۔۔۔
تاریخ اسلام میں عورت کے ذریعے سے سازشوں کا شکار کرنے کے بہت سے واقعات موجود ہیں مگر الحمد للّٰہ کسی پر یہ فتنہ اثر انداز نہ ہوسکا ۔۔
کیوں ؟؟؟
اس کی پہلی وجہ ایمان مضبوط رکھنے کا عملی مظاہرہ نظر کی حفاظت ہے ۔۔ایک صحیح مسلمان کبھی بھی نظر باز نہیں ہوتا ۔۔جس طرح سنجیدہ اور ذمہ دار مریض شوگر کا شکار ہو تو ہر طرح کے میٹھے سے پرہیز کرتا ہے اسی طرح مسلمانوں کو تعلیم دی گئی ہے کہ وہ ایمان کو آزمائ جانے والی تمام چیزوں سے پرہیز کریں جس میں پہلی چیز ہی نظر کی حفاظت ہے
انکھیں گیٹ کی مانند ہوتی ہیں گھر کے اندر کا منظر دکھا دیتی ہیں اور حدیث مبارکہ میں بھی ہے کہ نظر ابلیس کے تیروں میں سے ایک تیر ہے ،،
ہمارے ہاں پہلی نظر کی محبت ,,First sight love,,جو بہت اہمیت دی جاتی ہے ۔۔اس کا دوسرا سادہ سا مفہوم ہے ،،دعوت گناہ ،،۔۔انسان دوسرے انسان کو اپنی آنکھوں سے دعوت گناہ دیتا ہے تو کمزور ایمان والے نظر کے تیر کا شکار ہوجاتے ہیں اور پھسل جاتے ہیں جبکہ نظر کی حفاظت کا احساس ہو تو پھسلنا اور بہکنا نا ممکن ہوجاتا ہے
بد قسمتی سے نماز روزے کو ہم دین سمجھتے ہیں لیکن نظر کی حفاظت ،عصمت کی حفاظت عاجزانہ چال کو دین کا جزو نہیں سمجھتے ۔۔جاننے والے جانتے ہیں تو اپنی عصمت و عفت کی حفاظت مرد کے لئے بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی عورت کے لیے ۔۔۔سورہ یوسف کا مرکزی نقطہ بھی یہی ہے کہ عصمت کی حفاظت کے لیے جیل جانا قبول کرلیا بے شمار احادیث میں اس کی اہمیت بہان کی گئی ہے بنی اسرائیل کے تین مرد طوفانی بارش میں پناہ کے لیے غار میں گھس گئیے ۔۔۔غار کے دہانے پر پتھر رکاوٹ بن گیا موت یقینی تھی کہ پتھر انسانی ہاتھوں سے ہلانا ناممکن تھا تو تینوں نے نیک اعمال کا واسطہ دیا ۔۔کس کی یہ درخواست تھی کہ پتھر مکمل طور پر پیچھے کھسک گیا
حجاب میری حیات کاحصہ بنامگرکیسے؟
جی اس نوجوان کی یہ درخواست جس نے مجبور خاتون کو مالی مدد کے عوض دعوت گناہ دی جب عورت دسترس میں تھی تو وہ رونے لگ گئی کہ مجھے خدا سے ڈر لگتا ہے میں بچوں کو پالنے کے لیے اتنی مجبور ہوگئی کہ جسم فروشی پر اگئی اس نوجوان پر یہ سن کر لرزہ طاری ہوگیا اس نے عورت کو گھر بھیج دیا کہ میں تو مجبور بھی نہیں پھر بھی گناہ کر رہا ہوں ،،
اس نیک عمل نے ماں کے سرہانے پانی کا پیالہ لے کے کھڑے رہنے پر فضیلت کیوں حاصل کی؟؟؟ کہ ماں کے رتبے سے ہر کوی واقف ہے اور اس کے سرہانے ساری رات کھڑے رہنا اسے نیند سے بیدار نہ کرنااتنی اہم بات نہیں جتنی مرد کے لیے اپنی عصمت کی حفاظت،،
عرش کے ساے تلے روز حشر جن دس لوگوں کو جگہ دی جاے گی ان میں سے بھی ایک وہی ہے جو اپنی عفت و پاکدامنی کی حفاظت کرتا ہے ،،
اس کی پہلی سیڑھی نظروں کی حفاظت ہو ۔۔تیز اندھی میں گھر کا گیٹ ہی بند نہیں کیا جاتا ۔۔۔کھڑکیاں دروازوں سے لے کے ہر وہ سوراخ بند کیا جاتا ہے جہاں سے مٹی آنے کا امکان ہوتا ہے ۔۔۔اسلام بھی بےحیای اور بدکاریوں کے تیز آندھی طوفان میں ہر سوراخ بند کرتا ہے ۔۔عورتیں ننگے منہ باہر نہ نکلیں ،محرم نامحرم کی تفصیل،آواز کو حتی الامکان نارمل رکھنے کی کوشش،عورت کے لیے تیز خوشبو کی ممانعت بناو سنگھار کی صرف
اپنے محرم کے لیے اجازت،اپنی چال کو
متوجہ کرنے کاعث بنانا اور گھروں میں داخل ہونے سے پہلے داخلے کی اجازت لینا
یہ سب الہامی ہدایات ہیں ۔۔۔اور اس کے لیے باقاعدہ پریکٹس کرنا پڑتی ہے اللہ سے مدد مانگنا پڑتی ہے ۔۔بدنظری کی نحوست کا معلوم ہونا ضروری ہے۔۔۔
مگر افسوس صد افسوس اب تو دو انچ کی سکرین ہی بدنظری کی پہلی سیڑھی ہے ماں باپ بچوں کو یہ موبائل فون کیا لے کے دیتے ہیں نظروں کی آزمائش کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔۔ذہن منتشر ہوجاتے ہیں اور لذت گناہ کا ادراک ابتدائی عمر میں فراہم کر دیا جاتا ہے فیس بک ہو یا ٹویٹر،ڈرامے ہوں یا فلمیں سب بے حیائ اور گندگی کا شاہکار۔۔۔۔بازار میں چپے چپے پر بل بورڈز ،پینا فیلیکس ،عریانی فحاشی کا منبع ۔۔۔یہ کوئ بھی نہیں سوچتا کہ جہاں تصویر ہو وہاں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔۔تو اب شہر ہو یا گاؤں۔۔کہاں امن ہے ؟؟؟ بازاروں میں سجی سجای عورتیں بھاو تاو کرتے ہوے دس بیس روپے کم کروانے کے لیے دکانداروں سے بے تکلفی کا مظاہرہ کرتی ہیں ۔۔انکھوں سے آنکھیں دوچار ہوتی ہیں واقفیت کے حوالے دئیے جاتے ہیں اور نظر کو آلودہ کر لیا جاتا ہے ؟؟؟
خدارا ۔۔۔اب بھی سنبھلیئے ۔۔۔ہوش کے ناخن لیں اسلام میں حیا کا دارومدار جن باتوں پر رکھا گیا ہے ان کا مطالعہ کیجئیے ۔۔کونفیڈینس کے جھوٹے اور دلفریب لفظ کے دھوکے میں نہ آئیں عورت کبھی بھی مرد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کرتی اور مرد کبھی غیر عورت کی آنکھوں میں انکھیں ڈال کر بات نہیں کر سکتا ۔۔۔آپ ملازمت کرتے ہیں ہا نہیں آپ ہر جگہ اپنی شناخت بہادر مسلمان کی بنائیں جس کا ایمان ایک غیر محرم کی مسکراہٹ پر ڈانواڈول نہیں ہوتا ۔۔۔ان دعاؤں کو یاد کیجئیے جو اس حیا کے حصول میں مدد گار ہوسکتی ہیں ۔۔۔کہ حیا اسلام کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے ۔اگر تیرے اندر حیا نہیں تو جی چاہے کر ۔۔۔۔،،یعنی رب ذوالجلال نے اس سے اپنا معاملہ ختم کر لیااسے اس کے نفس کے سپرد کردیا اور جو نفس کا بندہ بن جاے پھر وہ ابلیس کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہوجاتا ہے ۔۔۔اللہ امت مسلمہ کے ہر مرد و زن کو پہاڑوں جیسی مضبوطی والا ایمان عطا فرمائے۔۔۔۔جس پر پہنچ کر نظروں کی حفاظت اور پاکدامنی قائم رکھنے کی تگ و ڈو میں اللہ رب العزت وہ لذت عطا کرتے ہیں جو بے حیای کے مرتکب لوگوں کو بے حیای کے ارتکاب میں بھی محسوس نہیں ہوتی بہرحال گناہ کی لذت سے زیادہ رب کی فرمانبرداری اور تقویٰ میں کشش ہوتی ہے ۔۔۔##
طالبان نے حیا کا مفہوم سمجھا دیا