483

قرآن پہنچاؤ گھرگھر

تحریر شئیر کریں

قرآن پہنچاؤ گھر گھر مگر کیسے۔۔۔؟جانیے قلم کتاب پر

قرآن اللہ رب العزت کا وہ کلام جس کے زریعے وہ دنیا والوں سے آخری بار مخاطب ہوا۔یقینا یہ آخری کلام پڑھنے کے لائق اور موجب ہدایت ہے۔دنیا کو اس کی جتنی ضرورت کل تھی اتنی ہی آج اور رہتی دنیا تک ہے۔

یہ بھی پڑھیے

قرآن سے رابط بحال کیجیے3

میں ایم اے اسلامیات کی طالبہ تھی۔پنجاب ہونیورسٹی میرا مسکن تھا۔سیکنڈ شفٹ میں تھی۔جہاں اکثریت کھاتے پیتے گھرانوں سے تھی۔میں اپنی کلاس کی ان نمایاں طالبات میں سے تھی۔جن کو عربی نسبتا باقی کلاس سے زیادہ آتی تھی اور قرآن بھی ترجمہ تفسیر سے پڑھ رکھا تھا۔ان دو چیزوں نے ایم فل تک ساتھ دیا کبھی زیادہ محنت نا کرنی ہڑی۔خیر بات ہو رہی تھی قرآن کی تو عجیب چیز دیکھنے میں آئی اکثریت پڑھے لکھے گھرانوں سے آئی تھی مگر نماز کے ضروری مسائل اور بعض کو نماز تک نا آتی تھی۔قرآن بھی ناظرہ بچپن میں پڑھ رکھا تھا۔تجوید کیا ہوتی؟کم ہی طالبات جانتی تھیں۔خیر ان دوسالوں میں اندازہ ہوا کہ قرآن کا فہم رکھنے والے اور دعوة الی اللہ کا فریضہ نبھانے والوں پر کتنی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد کو نوٹس میں لائیں کہ کن گھرانوں میں قرآن پہنچانے کی ضرورت ہے اور پھر دوسرا کام اس فریضے پہ عمل درآمد ہے۔سوشل میڈیا کے زریعے یہ کام آسان ہو گیا ہے۔واٹس ایپ اور زوم کی مدد سے قرآن کی اصل تعلیمات کو گھر گھر پہنچایا جاۓ۔

درج بالا جو مشاہدہ آپ سے شئیر کیا وہ ایک تجزیہ تھا مڈل کلاس گھرانوں کا،ایم اے میں ایڈمشن سے پہلے میں ایک سکول چلاتی تھی جہاں جھگیوں والے بچوں کو پڑھایا جاتا تھا۔تو نچلا طبقہ بھی زیر مشاہدہ آیا جہاں ادراک شعور تک نا تھا کہ یہ کام بھی کرنے والا ہے مگر جو چیز قابل ذکر ہے ان جھگیوں میں رہنے والے بچے انتہائی ذہین اور دوسری خوبی انڈر پریشر نا ہو ناہے۔یہ لوگ بہت جلدی پک کرتے اور سیکھتے ہیں۔مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس دونوں سطح پر قرآن کا پیغام پھیلانا ہماری قومی ذمہ داری اور مذہبی فریضہ بھی ہے۔ لوگ ہیں جو ماسٹرز کر جاتے مگر ٹھیک سے کلمہ پڑھنا نہیں اتا تو ایسے میں کیا کیا جاۓ؟

قرآن گھر گھر پہنچاؤ تحریک اسی سلسلے کی کڑی ہے۔آپ سوچ رہے ہوں گے قرآن پہنچاؤ تحریک کونسی؟جی ہاں ضرور سوچیے۔مگر اللہ کی مدد اور توفیق سے میں اس مشن کو تحریک کا نام دوں گی۔اور یہ تحریک بن کر رہے گی۔انشاء اللہ

کرنا یہ ہے کہ ایک لسٹ بنانی ہے جس میں اہنے اردگرد محلے والوں میں سے ایسے لوگ جو دین سے نابلد ہیں۔ان کو یا تو خود پڑھانا ہے روزانہ آدھا گھنٹہ۔۔اور یہ نہیں کر سکتے تو ان کے لیے آن لائن یا آف لائن قرآن پڑھانے والی ٹیچرز سے مدد لی جاۓ فیس دے کر۔

ایک ٹیچر بھی رکھی جا سکتی جو آن لائن 10 سے پندرہ لوگوں کو قرآن اور نماز وغیرہ سکھاۓ۔

اگر یہ دونوں کام بھی مشکل ہیں تو میری اس تحریک میں شامل ہو کر قرآن متوسط اور لوئر مڈل کلاس طبقے تک پہنچانے میں مدد فراہم کریں۔ہم لوگ اس نیک کام کے لیے رضاکارانہ طور پر ٹیچرز اور ان کو مدد فراہم کریں گے۔مشوروں کی ضرورت ہے کہ اس تحریک کو کیسے فعال بنایا جاۓ اور رضاکارانہ ٹیچرز کی بھی جو مفت یہ خدمات فراہم کر سکیں۔میسج کر کے ایک یا دو بچے جتنے آپ اسانی سے پڑھا سکیں لے لیں۔پڑھا نہیں سکتے تو ان کی فیس ادا کر کے اس کارخیر میں شامل ہو جائیں۔رابط کریں۔میسج صدقہ جاریہ سمجھ کر شئیر کریں۔
رابط کے لیے درج ذیل پیج کو فالو اور میسج کریں

https://www.facebook.com/Read-Quran-by-Mphill-Scholar-1458017217839109/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں