481

قرآن ڈائری توکل

تحریر شئیر کریں

قرآن ڈائری توکل
سورہ آل عمران ایات ۵٠ تا ٦٠

قرآن کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ اپنے پڑھنے والے کو کونیکٹ کر دیتی ہے۔ capture کر لیتی ہے۔پھر آپ بھاگ نہیں سکتے۔بس اس کتاب کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔آغاز اسلام میں کفار مکہ کے بارے میں پڑھتے آئے ہیں کہ وہ چھپ چھپ کے سنا کرتے تھے۔کنیکٹ ہونا اسی کو کہتے ہیں۔مگر کونیکٹ ہونا نہیں ایمان لانا اصل تقاضا ہے۔خیر یہ الگ موضوع ہے۔

اج قرآن پڑھتے جن آیات نے کیپچر کیا ان کا موضوع توکل الی اللہ ہے۔ فاذا عزمت فتوکل الی اللہ۔ ۔”پس جب آپ عزم کر لیں تو پھر اللہ۔ پہ توکل کریں۔ اللہ توکل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔ “

توکل اردو زبان میں عام استعمال ہوتا ہے۔ توکل کا لفظ آتے ہی نا جانے کیوں میرے دماغ میں پرندے آنے لگے ہیں۔ اگر انسان بھی اللہ پر ایسے ہی توکل کرے جیسے پرندے کرتے وہ صبح کو خالی پیٹ نکلتے مگر بھرے پیٹ واپس آتے ہیں۔ اپنی غربت اور شکستہ حالی کا کبھی رونا نہیں روتے۔

یقین کی سپ سے اونچی منزل توکل ہے۔ یقین یہ ہے کہ آپ کو یقین ہو کہ اللہ ہے جو تھام لے گا اور توکل یہ کہ اس کے سوا کوئی اور تھامنے والا ہے ہی نہیں۔

سوال یہ ہے کہ بے یقینی کے اس دور میں یقین کیسے پیدا کیا جائے وہ بھی ایسے میں جب شک کے ناگ ہر طرف پھن پھیلائے بیٹھے ہوں۔اس سلسلے جدید سائنس نے لوگوں کو یہ بتا کر کمال کر دیا ہے کہ یقین کو پیدا کیا جا سکتا ہے اور بڑھا کر توکل تک لے جایا جا سکتا ہے۔یقینا یہ دریافت بے یقین لوگوں کے لیے کسی کمال سے کم نہیں ہے۔

یقین کیسے پیدا ہو؟


یقین سوچ سے جنم لیتا ہے۔آج

سوشل سائنسز کا بڑا موضوع یقین ہے۔اس شعبے کا نام نیورولنگوسٹک ہے جو یقین پہ کام کر رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہمارا دماغ اتنا طاقتور ہے کہ جس چیز پہ یقین کر لیتا ہے پھر کچھ بھی ہو جائے اسے کر کے چھوڑتا ہے۔یہ حقیقت موجودہ صدی کی سب سے بڑی دریافت ہے۔یقین کسی چیز پر ایمان لانا ہے کہ یہ ہو جائے گی یا پھر نہیں۔ہو گی۔اگر آپ کے دماغ میں یقین بیٹھ جائے کے آپ کامیاب ہو۔جائیں گے تو یقینا ایسا ہو کررہے گا۔اسے ایک باقاعدہ لاء یعنی قانون کا نام دیا گیا ہے۔جسے لاء آف اٹریکشن کہتے ہیں۔اس موضوع پر۔فلم بھی بنائی گی جس نے کامیابی کے ریکارڈ توڑ ڈالے۔دی سیکریٹ نامی مووی اگر نہیں دیکھی تو دیکھیے۔دی سیکریٹ رونڈا بائرن کی ایک کتاب ہے جس ہر مووی بنائی گی۔اس مووی کے شروع میں ایک سین ہے وہ یہ کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے پاس گاڑی ْ جائے تو بس آنکھیں بند کیجیے اور ہاتھ سٹیرنگ پہ رکھیں اور گاڑی چلانا شروع کر دیں۔

اس تصور کی روزانہ مشق کریں۔مزے کی بات یہ کہ میری ایک کزن نے گاڑی خریدی اور یم لانگ ڈرائیو تھے تب اس نے انکشاف کیا کہ پتہ میرا گاڑی والا خواب کیسے پورا ہوا،جواب میں اس نے جو بتایا اس سے اس مووی اور اس کے فلسفے پہ یقین گہرا ہوتا چلا گیا۔اصل میں جب میں نے دی سیکریٹ مووی دیکھی تو واٹس ایپ پہ اسے سینڈ کرنا چاہی،ظاہر ہے پوری مووی تو سینڈ نہیں۔ہو۔سکی مگر ابتدائی شارٹس سینڈ ہوگئے وہی آنکھیں بند کریں اور گاڑی چلائیں والے،اس کزن نے بھی یہی پریکٹس کی تھی۔

اپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ صرف سوچنے سے گاڑی کیسے مل گی؟

جی ہاں اسی مووی میں اس فلسفے کو کھول کر بیان کرتے ہویے بتایا گیا ہے کہ فٹ بال کے کھلاڑیوں کو جب وہ کھیل رہے تھے ان کے دماغوں کو مانیٹر کیا گیا اور جب وہ ایزی ہو کر بیٹھے ہوئے تھے انھیں کہا گیا کہ آپ سوچیں کہ ہم کھیل رہے ہیں۔دونوں کی مانیٹرنگ ایک جیسی تھی۔سمجھ آئی کہ صرف سوچنے سے گاڑی کیسے ملی؟اصل میں دماغ کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ کام حقیقت میں ہو رہا۔یا نہیں۔جب اسے کوئی میسج ملتا ہے تو دماغ سے لہریں نکلتی ہیں۔یہ لہریں کائنات میں پھیل جاتی ہیں اور جو میسج دماغ کو ملا۔اس سے ملتی جلتی لہروں اور چیزوں کو کھینچنا شروع کر دیتی ہیں۔جتنا یقین پاور فل ہوتا اتنا ہی زیادہ امکان ہوتا ہے کسی چیز کے حصول کا۔

اپ کو کچھ بھی چاہیے آپ اس کا امیج بنائیں اور سوچنا شروع کر دیں اس سے بھی پہلے کچھ لفظ اور جملے بنائیں روزانہ ان جملوں کو دہرائیں۔لفظ آپ کے دماغ سے بار بار گزر کر لاشعور میں بیٹھ جائیں گے۔یہی یقین کا مقام ہے۔جس کی اونچی منزل توکل ہے۔

مثال لیجیے میں نماز کے بعد آیت الکرسی ضرور پڑھتی حدیث مبارکہ ہے کہ جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھتا ہے وہ مرتے ہی جنت میں چلا جائے گا۔کچھ عرصہ ہوا میں نے اس عادت کا امیج بنایا۔جنت کو آیت الکرسی پڑھتے ہوئی سوچتی ہوں اور انجوائے کرتی ہوں۔اہنا گھر دیکھنا وہ بھی جنت میں بڑا مسحور کن احساس ہے۔میں۔اس یقین کو کامل یقین کی شکل میں دیکھنا چاہتی ہوں۔اور توکل الی اللہ کے مقام تک پہنچنا میری منزل ہے۔جو اللہ نے چاہا تو ضرور پوری ہوگی۔

قرآن کا ایک موضوع توکل بھی ہے۔مگر مومن کا سب کچھ یہی موضوع ہے۔توکل یقین کی چوٹی ہے۔قرآن ڈائری توکل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں