قرآن کو خراج تحسین پیش کرنے والی ہستیاں اور ان کے الفاظ
قرآن اللہ رب العزت کا وہ کلام جس کے زریعے اللہ اپنے بندوں سے آخری بار مخاطب ہوا۔یہ وہ کلام ہے جو بذات خود معجزہ ہے۔ چودہ سو سال گزر گۓ اس کے معجزے بڑھتے جا رہے۔اس کا پڑھنا پڑھانا ہر سعادت سے بڑھ کر ہے۔عالم اسلام کے جید علماء اور اکابرین نے قرآن کی عبادت کو اپنے لیے انمول قرار دیا ۔اس انمول نعمت کو بیان کرنے کے لیے ان اکابر نے کن الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ۔۔ملاحظ کیجیے۔
ابوھریرہؓ
آپ ؓ فرمایا کرتے تھے جس گھر میں قرآن کی تلاوت ہوتی وہ اپنے رہنے والوں کے لیے کشادہ کر دیا جاتا ہے۔اور جیسے جیسے قرآن کی تلاوت کم ہوتی جاتی خیر بھی کم ہوتی جاتی۔جہاں قرآن نہیں پڑھا جاتا وہ گھر اپنے رہنے والوں پہ تنگ ہوجاتا اور وہاں شیاطین بسیرا کرنے لگتے اور فرشتے وہاں سے نکل جاتے۔
سفیاں بن عینیہ
آپ فرمایا کرتے تھے قرآن سے محبت دراصل اللہ سے محبت ہے۔
ابن تیمیہ
آپ جیسا عالم فاضل انسان اس بات پہ پشیمان ہوا کرتا تھا کہ میں نے قرآن کے علاوہ باقی چیزوں میں وقت صرف کیا۔
سفیان ثوری
آپ اس بات پہ پشیمان اور رنجیدہ ہوتے تھے کہ میں صرف قرآن تک محدود کیوں نہیں؟
ابن القیم
آپ نے فرمایا جب تم اللہ کی نعمتوں کا دوسروں سے موازنہ کرنے لگو تو سب سے بڑی محبت کے طور پر قرآن کی محبت دیکھ لو۔
ؓعبداللہ بن عمر
آپ فرماتے ہیں کہ قرآن کا سیکھنا تم پر واجب ہے لہذا اسے خود بھی سیکھو اور دوسروں کو بھی سکھاؤ اور یہ ہر اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو صاحب عقل ہے۔
عبداللہ بن مسعودؓ
آپ فرماتے ہیں کہ اپنے دلوں کو قرآن کے ساتھ مصروف رکھو کیونکہ یہ دل سمیٹنے والے ہیں۔اس کے علاوہ کسی اور چیز میں مشغول نا کرو۔
ابن قتادہ
ابن قتادہ ؒ فرماتے ہیں کہ اپنے دل اور گھروں کو قرآن کے ساتھ آباد کروْ
حسن بصری ؒ
فرماتے ہیں کہ مٹھاس کو تین چیزوں میں تلاش کرو سب سے پہلے نماز میں پھر قرآن میں اور تیسرے نمبر پر اللہ کے اذکار میں۔۔۔جب تم مٹھاس کو پا لو تو خوش ہو جاؤ اگر مٹھاس حلاوت نہیں ملتی تو کم ازکم اس کے ذائقے سے آشنا ہو جاؤ گے”وہ مزید کہا کرتے تھے قرآن سے بہتر کوئی غنی نہیں۔یہ ایسی دولت ہے اس کے بعد کوئی محتاجی نہیں۔
اعمش
آپ فرمایا کرتے تھے۔قرآن بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے۔اور اسی نے مجھے بلند کیا۔
کعب بن احبارؒ
کعب بن احبار السابقون السابقون کی تفسیر بیان کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ اس سے مراد قرآن پڑھنے پڑھانے والے اہل القرآن مراد ہیں۔وہ مزید فرماتے ہیں کہ اس میں عقل کی سمجھ بوجھ ،حکمت کے خزینے اور تمام علوم کا سرچشمہ ہے جو رحمن کی طرف سے آنے والی ماڈرن کتاب ہے۔
ابی بن کعبؓ
ابی بن کعب ؓ نے وصیت کرتے ہوۓ فرمایا “ہر معاملے میں قرآن کو سامنے رکھو اور اس کو ہر معاملے میں اپنا حاکم مانو کیونکہ یہ ایسا سفارشی یے جس کی سفارش رد نہیں کیجاۓ گی۔اور یہ وہ کتاب ہے جس میں تمہارا ذکر ہے اور انکا بھی جو تم سے پہلے گزر چکے۔
ابن مسعود کہا کرتے تھے کہا اس کے ساتھ دلوں کو حرکت دو اور کوئی اس فکر میں ہلکان نا ہو کہ یہ جلدی سے ختم ہو جاۓ۔آج کل کے والدین کے لیے یہ بات لمحہ فکریہ ہے جو قرآن کو ختم کرنے کی فکر میں ہلکان ہوتے رہتے ہیں۔آپ نے فرمایا اسے گا کہ نا پڑھو۔۔۔بلکہ اس کے عجائبات پر غور کرو۔
حضرت عثمانؓ
آپ رضی اللہ عنہ قرآن کے حوالے سے فرمایا کرتے تھے کہ پاک دلوں کی نشانی یہ ہے کہ وہ قرآن سے کبھی بھی سیر نہیں ہوتے۔
حضرت حسنؓ بن علی
آپ فرمایاکرتے تھے تم سے پہلے ایسی قومیں گزریں ہیں جو قرآن کو رات کی گھڑیوں میں غوروفکر کرتیں اور دن بھر اس کا جائزہ لیا کرتیں تھیں۔
الضیاء ؒ
آپ فرماتے اگر تم چاہو کہ آسانی سے حدیث سیکھو تو قرآن کو زیادہ سے زیادہ پڑھو۔یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ایسا کرنے سے حدیث کا لکھنا آسان اور نا کرنے سے مشکل ہو جایا کرتا تھا۔
ابراہیم بن عبدالواحد
آپ فرماتے ہیں المقدسی نے مجھے وصیت کرتے ہوۓ کہا کہ قرآن کو بہت زیادہ پڑھو اور کبھی ترک مت کرنا کیونکہ جتنا زیادہ وقت قرآن کو دو گے اسی کے حساب سے تمہیں آسانیاں ملیں گیں۔
الغرض قرآن سے دل لگانا ہر شے سے افضل ہے۔اس سے محبت اللہ اور اس کے
قرآن کو خراج تحسین پیش کرنے والی ہستیاں اور ان کے الفاظ