قرآن کے اکیسویں بائیسویں پارے کے اہم نکات ملاحظ کیجیے
Para # 21,22
Dawrah e Qur’an
Scholar Nighat Hashmi
اہم نکات
سورة السجده
سورة الاحزاب
پارہ نمبر 21
سورۃ السجدہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جن سورتوں کی تلاوت کرتے تھے ان میں سے ایک سورۃ السجدہ ہے۔۔۔
جمعے کے دن فجر کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ السجدہ اور سورۃ الدھر کی تلاوت کرتے تھے۔۔
صحیح بخاری: 891
نصیحت قبول کرنے والے
یہ شعور رکھتے ہیں کے اللہ کی عبادت سے تکبر کرنا جہنم میں جانے کا سبب بنتا ہے لہذا وہ عاجزی سے اپنے رب کے لئے سجدہ کرتے ہیں۔
امت مسلمہ اگر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کو سر انجام نہیں دے گی تو یہودیوں کی طرح ان پر بھی ذات مسلط کر دی جائے گی۔۔۔
سورۃ الاحزاب
بیوی کو ماں کہہ دینے سے وہ ماں نہیں بن جاتی۔۔
منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کے نام سے پکارنے کا حکم دیا گیا ہے۔۔
غزوہ احزاب
اہل عرب غزوہ احزاب میں مسلمانوں پر چڑھ دوڑے تھے۔ سارے کے سارے قبائل نے مدینہ کے اردگرد خیمے لگا لیے اور ایک ماہ تک محاصرہ جاری رہا۔ پھر اللہ تعالیٰ کی فوج آندھی نے ان کے خیمے اکھاڑ دیے۔ ان کی ہمتیں پست کر دی گئں ،صورتحال بہت ذیادہ خوف ذدہ تھی کہ ان کے دل حلق تک آ گئے تھے۔
سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے۔
نمونہ تو سب کیلئے ہے مگر نمونہ ہر کوئی بنا نہیں سکتا
اللہ اور قیامت پر ایمان لانے والے اور اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نمونہ بناسکتے ہیں۔
ہماری ذندگی کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو follow کرنا ہے۔۔آج ہماری society میں سنت کے لیے احادیث کا علم ناگزیر ہے۔
کل قیامت کے دن بھی اللہ کے رسول نے یہ بات کہنی ہے کہ میری قوم نے قرآن کو چھوڑا ہوا بنا رکھا تھا۔۔
پارہ نمبر 22
ازواج مطہرات کو اللہ تعالیٰ نے رب العزت نے تلقین کی ہے کہ ایسا کوئی قول یا فعل سر زدر نہ ہو جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی آنچ آۓ اور دنیا والوں کو آپ کے گھرانے کے خلاف propaganda کا موقع ملے۔۔
اللہ تعالیٰ نے نرمی سے بات کرنے سے منع کر کے کہا ہے کہ اپنے گھروں میں قرار سے رہو۔۔
Stay home, stay safe
گھروں میں فضول گپ شپ اور سونے کے لیے نہیں رہنا بلکہ اللہ کی آیات کو اچھے طریقے سے یاد کرنا ہے۔۔
محمد تمھارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔۔
آیت حجاب
نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر کے دسترخوان پر آنے سے اور پردے کے پیچھے سے کچھ مانگنے کا حکم دیا۔۔
اپنے آپ کو سر سے پاؤں تک ڈھانپنے کا ازواج مطہرات اور مومن عورتوں کو حکم دیا گیا ہے۔۔
حجاب
کبھی کسی پھل یا سبزی کو بغیر کور کے دیکھا ھے؟
کبھی کسی ڈرائی فروٹ کو؟
تو کیا ھم قیمتی نہیں؟ جو بغیر حجاب کے ھی پھرتے چلے جا رھے ھیں؟
اور سونے پہ سہاگہ کہ کوئی فکر ھی نہیں۔۔۔
کیوں حجاب کا نام سن کے دل بےزار ھو جاتے ھیں؟
کیوں سوچتے ھیں کہ لوگ کیا سوچیں گے؟
یہ تو رب العالمین کی طرف سے تحفہ ھے ،اسے قبول کریں ،اور اللہ کا شکر کریں کہ اللہ نے آپ کو یہ تحفہ دیا ھے۔۔۔۔
حجاب کی شرائط
امام البانی نے حجاب کی آٹھ شرائط بیان کی ہیں۔
حجاب سر سے پاؤں تک ڈھانپے۔۔
حجاب باعثِ زینت نہ ہو۔۔
حجاب باریک کپڑے کا نہ ہو۔۔
حجاب کشادہ ہو جس سے جسم کی shape واضح نہ ہو۔۔
حجاب کے ساتھ کوئی خوشبو استعمال نہ کی جائے۔۔
حجاب مرد کے مشابہ نہ ہو۔۔
حجاب کافر عورتوں کے مشابہ نہ ہو۔۔
حجاب شہرت کا لباس نہ ہو۔۔
*ہم کیا کریں ؟
رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم كے بتاۓ ہوۓ طریقے کے مطابق زندگی گزارنى ہے
اللہ تعالی کی خاطر حجاب كى پابندی كرنى ہے
ان شاءاللہ
قرآن کے اکیسویں بائیسویں پارے کے اہم نکات آپ نے پڑھے۔انھیں عمل میں لائیے اور قرآن آگے پہنچائیے۔