580

قرآن کے ایک آیت سے آنکھوں کے قطرے ایجاد کر لیے۔

تحریر شئیر کریں

مسلمان سائنس دان نے قرآن کے ایک آیت سے آنکھوں کے قطرے ایجاد کر لیے۔
*

سویٹزر لینڈ کی ایک دوا بنانے والی فیکٹری نے یہ نٸی دوا تیار کی ہے جسے قرآن کی دوا کا نام دیا گیا ہے- جو آنکھوں کے موتیا کیلئے ہے اس سے موتیا سرجری کے بغیر ٹھیک ہو جاٸے گا-
جیسا کہ قطر کے ایک اخبار الراية میں نشر کیا گیا ہے، کہ ایک مصری ڈاکٹر عبدالباسط محمد نے اپنی بہترین تحقیق سے یہ نسخہ تیار کیا ہے، یہ دوا انسان کے پسینے والے غدود سے بناٸی گٸی ہے اور اس سے شفاء یابی کے امکانات ٩٩ فی صد ہیں جو یورپ میں اور امریکہ میں رجسٹرڈ ہو چکی ہے، اور یہ رپورٹ بھی شایع ہو چکی ہے کہ آنکھ میں ڈالنے والے قطرے بنائے جا چکے ہیں-
اور یہ کیسے ہوا ہے اس کیلیئے ایک بہت ہی خوبصورت واقعہ ہوا جس سے ڈاکٹر صاحب کے اندر ایک طوفان برپا کر دیا اور اتنا بڑا جذبہ پیدا ہوا-

ڈاکڑ کے مطابق ایک معمول کی صبح جبکہ وہ قرآن کی سورہ یوسف تلاوت کر رہے تھے۔کہ اچانک میری توجہ ان آیات پر پڑی جہاں ذکر ہے کہ حضرت یعقوب کی یوسف ؑ کے غم میں رو روکر آنکھیں چل نکلیں ۔۔۔اور پھر حضرت یوسف نے اپنی قمیض بھیجی جسے لگانے سے انکی نظر ٹھیک ہوگئ۔جب ان کا موتیا ٹھیک ہو گیا اور نظر واپس آ گٸی! یہاں آ کر میرا دماغ روشن ہوا۔۔ تو میں نے سوچنا شروع کر دیا، کہ سیَّدنا یوسف علیہ السلام کے کرتے میں کیا ایسی چیز ہو سکتی ہے۔جس سے ان کی نظر واپس آگی۔ان کی آنکھوں کا موتیا کیسے ٹھیک ہوا؟کرتے میں ایسی کءا خاص بات تھی؟زرا غور فرمائیں کہ ہم میں سے کتنے اس طرح سے سوچتے ہیں۔نبی کی کرامت سمجھ کر اپنی عقل استعمال نہیں کرتے۔حالانکہ قرآن واضح طور پر کہتا ہے عقل والوں اور غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

اس کے بعد میں نے اس پر سوچنا شروع کیا اور پسینہ اور اس کے اندر کون سے کیمیکل اجزا ہوتے ہیں اس پر تحقیق شروع کر دی، اور پھر میں نے ٢۵٠ مریضوں پر اس کا تجربہ شروع کر دیا، اور یہ دوا تین مرتبہ روزانہ دو ہفتوں کیلٸے استعمال کروائی-

مجھے سو فیصد نتائج درست مے۔یقینا یہ قرآن کا معجزہ تھا۔یہ دعا بہت جلد مارکیٹ میں آنے والی ہےیورپ اور امریکہ کی کمپنیاں اسے جلد مارکیٹ میں لاونچ کرنے والی ہیں۔اس دوائی کا نام “قرآن کی دوا “ہوگا۔اس مقصد کے لیے انھوں نےا یک سوئس کمپنی سے معاہدہ بھی کر لیا ہے اللہ تعالی فرماتا ہے: ہم نے قرآن کو زمین پر بھیجا جو کہ شفاء ہے اور رحمت ہے مگر جو اس پر یقین رکھتے ہیں!!
دوستو! قرآن کو نازل ہوٸے ١۴۴٢ سال ہو گٸے اور سیَّدنا یعقوب علیہ السلام کے زمانے کو ہزاروں سال!
مگر آج بھی اگر قرآن کو آنکھیں کھول کر پڑھا جاٸے تو ڈھونڈنے والوں کیلیئے ہزاروں نشانیاں اور نٸے دور کے نٸے تقاضوں کے تحت ایجادات موجود ہیں-
کتنا بڑا معجزہ ہے یہ کہ ایک بندہ ١۴۴٢ سال بعد قرآن کی ایک ایسی بات پر تحقیق کرتا ہے جو کہ معجزہ تھا اس وقت کا، اور آج کے دور کا ایک بہت بڑا مسٸلہ حل ہو گیا، تو کیا قرآن کے ایک ایک حرف میں ایسے معجزے پوشیدہ نہیں ہو سکتے؟ بے شک آج کے دور کی ضروریات کے مطابق بھی اس میں معجزے موجود ہیں مگر؟
کیا ہم اس درجہ تک گہرائی میں پڑھتے ہیں قرآن کو؟ سمجھتے ہیں قرآن کو؟

تحریر: ڈاکٹر غلام یٰسین لاہور

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں