قرآن کے پچیسویں پارے کے اہم نکات ملاحظ کیجیے۔
Para # 25
Dawrah e Qur’an
Scholar Nighat Hashmi
اہم نکات
١. سورة حم السجدة
٢. سورة الشوریٰ
٣. سورة الزخرف
٤. سورة الدخان
٥. سورۃ الجاثیہ
پارہ نمبر 25*
سورۃ حم السجدہ
اللہ تعالیٰ العلیم ہے
تمام مخلوقات کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹایا جاتا ہے۔۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں کوئی شریک نہیں جیسا کہ:
قیامت کا علم
پھل جن شگوفوں سے نکلتے ہیں ہر ایک کا علم
ہر مادہ کے حاملہ ہونے، پیدائش اور موت کا علم
سورۃ الشوریٰ
ذات پرستی
دنیا میں لوگ بت پرستی کرتے رہے، اولیاء پرستی کرتے رہے، قبر پرستی کرتے رہے لیکن آج ذات کا بت ہی انسان کو چین نہیں لینے دیتا۔
آج کا انسان تکبر میں مبتلا ہو چکا ہے۔۔
توبہ کسے کہتے ہیں
علماء نے توبہ کو اس طرح define کیا ہے:
دل سے نافرمانی کو ترک کرنا
عملاً گناہ کو چھوڑ دینا
دل سے اطاعت کا ارادہ کرنا اور عملاً اطاعت کرنا
انسانوں کے معاشی حالات میں فرق کیوں ہے
اکثر لوگوں کا یہ problem ہے کہ انھیں سمجھ نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ نے معاشی حالات میں difference کیوں رکھا۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے دیا ہے کہ اگر ہم ان لوگوں کا رزق کشادہ کر دیتے تو وہ سرکش ہو جاتے۔۔۔
باہمی مشاورت کرنا
اللہ تعالیٰ کو مشورہ دینے کا عمل بہت پسند ہے چاہے وہ دینی معاملات میں ہو یا دنیاوی معاملات میں۔۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام سے ہر مہم میں برابر مشورہ لیتے تھے۔۔۔
مشورہ عاقل اور عبادت گزار شخص سے لینا چاہیے جسکی بے وقوفی اور بدیانتی سے کام خراب کرنے کا اندیشہ نہ ہو۔۔
سورۃ الزخرف
یہ سورت مکی دور کی مشکلات کو واضح کرتی ہے وہ اعتراضات جو نبی پر کیے جا رہے تھے قرآن نے ان کو دور کر کے عقیدے کی اصلاح کی ہے اور جھوٹی values کو ذہنوں سے نکالنے کی کوشش کی ہے۔۔
قرآن سے اندھا پن دکھانے کی سزا
جو قرآن سے اندھا بن کر رہنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اسکی سزا متعین کر دی ہے کہ ان کہ ساتھ ایک شیطان مقرر کر دیا جاتا ہے۔۔ شیطان اسے سیدھے راستے پر چلنے نہیں دیتا۔۔ یعنی chances پورے پورے ہیں کہ اب اس کی واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔۔
قریش کے طعنوں کا جواب
قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو طعنوں کا نشانہ بنایا کہ آپ فقیر ہو گئے ہیں، مال اور عزت نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اسی سے مشابہت رکھنے والے فرعون کا حال بیان کیا ہے جس کو اپنے مال پر بہت غرور تھا۔۔ مگر اس کا مال اسے بچا نہ سکا۔۔
سورۃ الدخان
بنی نوع انسان کے لیے یہ کتاب warning لے کر آئی ہے۔۔ اس کتاب کی رحمت، برکت اور ہدایت سارے جہاں میں پھیل گئی۔۔
لیلۃالقدر
جس رات یہ قرآن نازل ہوا اس رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند مرتبہ ملا۔۔ یہ وہی رات ہے جس میں روح الامین اور فرشتوں کا نزول ہوتا ہے۔۔۔ زندگی،موت ،خیر، شر، رزق میں کشادگی اور تنگی اور دیگر تقدیری فیصلے اسی رات ہوتے ہیں۔۔
سورۃ الجاثیہ
اللہ کی نشانیوں پر غوروفکر کرنا
ایمان وہ قوت ہے جو دل کے دروازے کھول دیتی ہے۔۔ جس سے انسان کے دلوں میں روشنی آتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر غوروفکر کے قابل ہوتے ہیں۔۔
غوروفکر کرنے والا اپنے رب کو پا لیتا ہے
بنی اسرائیل نے علم آنے کے بعد اللہ تعالٰی کے احکامات کو جھٹلایا۔۔ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو تنبیہ کی ہے کہ اگر انھوں نے بھی قرآن وسنت کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کیا جیسا کہ یہود ونصاریٰ نے کیا تھا تو وہ بھی اللہ کے عذاب کا انتظار کریں۔۔۔
ہم کیا کریں ؟
اس يقين کے ساتھ قرآن مجيد كو سننا اور پڑهنا ہے کہ یہ درست راستے كى طرف ميرى رہنمائی کرے گا
پچھلے لوگوں کے حالات سے سبق لينا ہے،دنيا كى زندگى کے دھوکے سے بچنا ہے
اللہ تعالى کے ليے خرچ كر کے اس كى محبت حاصل كرنى ہے
ان شاءاللہ
قرآن کے پچیسویں پارے کے اہم نکات قرآن کی کئ اہم سورتوں پر مشتمل ہیں۔ان سورتوں میں چھپے گہر کو تالش کیجیے اور اپنے حصے کا کام کیجیے۔