470

قرآن کے چھبیسویں پارے کے اہم نکات

تحریر شئیر کریں

قرآن کے چھبیسویں پارے کے اہم نکات ملاحظ کیجیے

Para # 26
Dawrah e Qur’an
Scholar Nighat Hashmi

اہم نکات

١. سورة الاحقاف
٢. سورة محمد
٣. سورة الفتح
٤. سورة الحجرات
٥. سورۃ ق
٦. سورة الذريت

سورۃ الاحقاف

مشرکین جن کو خدا کے سوا پکارتے ہیں یعنی بت، انبیاء ، فرشتے، حضرت عیسیٰ، حضرت عزیر علیہ السلام ، قیامت کے دن وہ سب ان کے دشمن ہو جائیں گے(اظہار برات کریں گے) اور کہیں گے کہ یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھےیعنی ہم نے ایسا کرنے کا نہیں کہا.

ایمان کے بغیر جنت نہیں ملے گی
جس طرح مال ہی نہ ہو تو منافع کیسے ملے گا؟؟ اسی طرح اگر ایمان نہ ہو تو جنت نہیں ملے گے اور جہنم ہی مقدر ہو گا۔

احقاف
احقاف سیدنا ہود علیہ السلام کے علاقے اور قوم عاد کے مسکن کا نام ہے۔۔ یہ علاقہ سرسبز و شاداب تھا انھوں نے عذاب طلب کیا تو بادلوں کے ساتھ آندھی آئی اور انھیں غرق کر دیا۔

اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کے انجام سے عبرت دلائی ہے کہ قوم عاد کے پاس مال ، علم ، قوت سب تم سے زیادہ تھا مگر انھوں نے اپنی صلاحیتوں کا درست استعمال نہ کیا اور ہلاک ہو گئے لہٰذا تم اپنی فکر کر لو۔

سورۃ محمد

اس سورت کا دوسرا نام القتال بھی ہے۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ محمد پڑھا کرتے تھے۔۔
اس سورت کا مرکزی موضوع جہاد فی سبیل اللہ ،ایمان اور کفر کی جنگ ہیں۔۔

قیدیوں سے حسن سلوک
جنگ میں قیدی بنانے کا مقصد مال حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ جب قیدیوں کا غرور ٹوٹ جاۓ تو انھیں احسان کرتے ہوۓ یا معاوضہ لے کر معاف کر دیا جاۓ۔۔

اللہ کی مدد کرنا
اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی مدد کرتے ہیں۔۔ یعنی اللہ کے دین کی خاطر جہاد کرتے ہیں۔۔

قرآن آپ کا mission ہے نا، تو دیکھیں آپ کتنا وقت قرآن کے ساتھ گزارتے ہیں

جہاد کی فرضیت پر منافقین کا طرز عمل
جب نماز، روزہ، حج اور صدقات جیسے احکامات آۓ تھے تو منافق لوگ کہتے تھے کہ جہاد کا حکم کیوں نہیں آیا ؟ ہم جہاد کریں گے۔۔
جب جہاد کا فرض ہوا تو ان پر غشی طاری ہو گئی اور وہ اس حکم کو ناپسند کرنے لگے۔۔

سورۃ الفتح

صلح حدیبیہ سے واپسی پر جب رسول اللہ کو عمرہ کرنے سے روکا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ کیا ۔۔ صحابہ پریشان تھے، حدیبیہ کے مقام پر ہی قربانی کی۔۔ کچھ مسلمان پیچھے ہٹ گئے مگر اللہ تعالیٰ نے اسے بڑی کامیابی قرار دیا۔۔

اصحاب شجرہ کا عہد
اصحاب شجرہ نے درخت کے نیچے رسول اللہ سے بیعت رضواں کی تھی۔۔
اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیعت لی تھی کہ
سیدنا عثمان مکہ میں رہ گئے تھے ،اندیشہ تھا کہ وہ قتل ہو گئے۔۔

کھلی فتح
جب صلح حدیبیہ ہوئی تب یہ معاہدہ تھا کہ اب جنگ نہیں ہو گی۔۔ جب کافروں سے جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تو اسکی وجہ سے مسلمانوں کو دین پھیلانے کا بہت موقع ملا۔ اس کے بعد بہت وفود آۓ اور اسلام تیزی سے پورے عرب میں پھیل گیا۔۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی فتوحات مسلمانوں کو دی۔۔ یہودیوں کے قلعے فتح ہوۓ، بہت سا مال ملا اور اسلام ایک قوت کی صورت میں ابھر آیا۔۔

سورۃ الحجرات

اس سورت کا نام حجرات اس لیے رکھا گیا کیونکہ اس کی آیات مبارکہ ایسے انسان کی انسانیت کی نفی کرتی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم نہیں کرتا۔۔
اس سورت کو الاخلاق والاداب بھی کہا گیا۔۔

آداب و احکامات
اللہ کے رسول کے سامنے پیش قدمی نہ کرو اور اپنی آوازیں رسول کے سامنے پست رکھو۔۔
جب دو گروہ لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرواؤ۔
کوئی قوم کسی دوسری قوم کا مذاق نہ اڑاۓ۔
کوئی کسی پر عیب نہ لگاۓ۔
کوئی کسی کو برے القابات سے نہ پکارے۔
بدگمانی سے بچو۔۔
جاسوسی اور غیبت نہ کرو۔

سورۃ ق

رسول اللہ عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز اور فجر کی نماز میں سورۃ ق پڑھتے تھے۔۔

قرآن المجید ہے
قرآن بلند مرتبے والا اور کثیرالعطا ہے۔ قرآن کا نظم اور معنی کے لحاظ سے اعجاز اس کے بلند مرتبہ ہونے کی دلیل ہے۔۔
اس بنا پر قرآن مجید کو ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے طور پر پیش کیا گیا۔۔

اللہ تعالیٰ کی تسبیح
صبر کرنے کے لیے صبح شام اپنے رب کی تسبیح بیان کرو۔۔

*سورۃ الذریت

اس سورت کا مرکزی موضوع عبادت ہے۔

آخرت حق ہے
زمین و آسمان اور انسانی وجود میں بہت سی نشانیاں ہیں جو یقین کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔۔
اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی قسم کھا کر قیامت کے حق ہونے کی گواہی دی ہے۔۔

ہم كيا کریں؟

قرآن حکیم پر غور وفکر کرنا سیکھنے کے لئے اس کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کرنا۔

اپنی ضرورت پر دوسروں کی ضرورت کو ترجیح دینی ہے اور حرص سے خود کو بچانا ہے

اللہ کی راہ میں صدقہ کر کے حرص سے خود کو بچانا ہے ان شاء اللہ

قرآن کےچھبیسویں پارے کے اہم نکات اپنے عمل میں لا کر جنت کے حق دار بنیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں