مومن ہو اور موت سے ڈرے یہ ہو نہیں سکتا۔موت کی تلاش مومن کا مقصد۔ہونا چاہیے۔جانیے قلم کتاب پر وہ راز جس سے اب تک آپ نا آشنا تھے
آدم! تیرا کھایا ہوا وہ لقمہ تجھے اگر یونہی بخش دیا جاتا تو تیرے حاسد کہتے: ایک حرص کی ماری مخلوق جو پیڑ پہ پھل دیکھ کر ضبط نہ کر پائی، کیونکر سب پر فضیلت پاگئی! تجھے تب جنت میں ہی چھوڑ دیا گیا ہوتا تو خدا کے وفادار جو زمین میں خدا کے دشمنوں کے ساتھ دو دو ہاتھ کریں، کیونکر پہچان میں آتے؟! ’کیا کوئی ہے جو مانگے اور میں اس کو دوں‘ کی منادیِ نیم شب پھر اِس تسلسل کے ساتھ کیونکر چلتی اور خدا کے طلبگار راتوں کو اٹھ اٹھ کیونکر اس کے آگے اپنا دامن پھیلاتے؟! خدا سے مانگنے کے یہ انداز بھلا کہاں دیکھے جاتے؟! اُس کے آگے آہ و زاریاں، زمین اِس حسن کا نظارہ کیسے کرتی اور فرشتوں کے قلم یہ مناظر کیونکر محفوظ کرتے؟! ’روزے دار کے منہ کی بو‘ عرش والے کے ہاں اپنے دامن کیونکر پھیلاتی۔موت کی تلاش مومن کی سب سے بڑی آرزو نہیں ہونی چاہیے؟!
یہ بھی پڑھیے
وہ ایک لقمہ جو کسی وقت کھا لیا گیا تھا، برابر اپنا اثر کرتا رہا یہاں تک کہ اِس کی اولاد میں بیماری کا اثر صاف دیکھا جانے لگا۔ تب اُس لطیف اور خبیر نے اطبائے وجود کو اپنے یہاں سے وہ تریاق دے کر بھیجا جس پر فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ کی مہر تھی! ان طبیبوں نے اِن کو نہایت خوب ’پرہیز‘ بتائے۔ قوت کی بحالی کیلئے ’احکامات‘ کے کامیاب ترین اکسیر پلائے۔ ’توبہ وانابت‘ کے عمل سے اِن کے ہاں جمع شدہ سب فاسد مادوں سے ان کو پاکیزگی دلائی۔ تب ہر سمت تندرستی کا دور دورہ ہوا!
ارے اے نادان جس نے شفایاب ہونے کے یہ سب مواقع کھو ڈالے، جس نے انبیاء کے بتائے ہوئے کسی پرہیز کو مان کر دیا اور نہ نفس میں بیٹھے غلیظ مادوں سے پاک ہونے کی تکلیف گوارا کی.. خاطر جمع رکھ، تباہی آیا ہی چاہتی ہے! کیا ہی بہتر تھا تو خدا کے فرستادہ اِن طبیبوں سے علاج کرا لیتا اور یہ ہلکی سی تکلیف جو تجھ پر گراں گزرتی ہے برداشت کر لیتا! تب ہزارہا نفیس لذتوں سے ہمیشہ ہمیشہ لطف اندوز ہوتا؛ کون تجھے وہاں منع کرنے آتا؟! وائے عاقبت نا اندیشی! ایک ساعت صبر نہ کر سکا اور ابد کی ذلت اور عذاب سہنے پر کس شدت کے ساتھ تیار ہے!
جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ نفیس کو خسیس کے بدلے بیچ رہا ہے، اور اس پر خوشی کے مارے بےحال ہوا جاتا ہے، تو جان لو احمق یہی ہے!
٭٭٭٭٭
فَتَلَقَّى آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
ابن آدم کے اجزائے ترکیبی میں ’گناہوں کا سرزد ہوجانا‘ شامل نہ ہوتا، تو فرشتوں سے سجدے کروانے والی اس مخلوق کا نخرہ ساتویں آسمان سے باتیں کرتا! خاک کی اس مخلوق کو خاک پر رکھنے کیلئے ضروری تھا کہ اس سے گناہ ہوجایا کریں اور پھر یہ خدا سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کرے۔ بخشش کی التجائیں کرتے ہوئے سجدوں میں پڑا یہ اِسی مٹی پہ ماتھا رگڑے اور ہوسکے تو اسی کو آنسوؤں سے تر کرے!
پس ’گناہ کر بیٹھنا‘ اگر اِس کی ترکیب میں نہ ہوتا تو ’توبہ کی ذلت‘ جو مالک کی نگاہ میں اس کا نہایت قیمتی زیور ہے، اس کے ماتھے پر نہ سجتا! اس کو وہ انکساری نصیب نہ ہوتی جو مالک کے آگے اس کی کمر دہری کروا دیتی ہے!
صاحبو! خدا کے آگے ذلت ایسی عزت کہیں نہیں! خدا کے آگے عاجزی ایسی سربلندی کہیں نہیں! اِس نفس کو آرام دینا چاہو تو آج اِسے خدا کی خاطر تھکاؤ! اِسے خوشیاں دینا چاہو تو ذرا اِسے خدا کی خاطر پریشانیاں اٹھواؤ! اسے سیر کرانا چاہو تو آج اسے خدا کی خاطر بھوکا رکھو! اسے بے خوفی کی نعمت دلوانا چاہو تو آج اِسے ڈرا کر رکھو۔ یہ خُلد میں جا کر اُنس پائے، اس کےلیے ضروری ہے آج اِس کا کہیں دل نہ لگے سوائے اپنے خالق اور اپنے فاطر ہی کے ساتھ! اِس کے زندگی پانے کی اس سے بہتر کوئی صورت نہیں کہ آج یہ موت کی تلاش میں پھرے!
مَوتُ النفوسِ حیاتُها …. من شاءَ اَن یحیا، یموت!
۔۔۔
ایمان کا سبق۔ استفادہ از کتاب ’’الفوائد‘‘ مؤلفہ ابن القیمؒ