سنیپ۔ویڈیو اور ٹک ٹاک کا پہلا رخ آپ نے پڑھا یقینا وہ کڑا سچ ہے مگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھے یقینا آپ اس سے متفق ہوں گے ۔
کچھ دن پہلے قاسم علی شاہ کا آرٹیکل نظروں سے گزرا جس میں انھوں نے ٹک ٹاک کے حوالے سے کچھ دلائل دیے تھے ۔وہ یہ کہ جب تک ان ویب سائیٹس پہ۔مثبت سوچ رکھنے والے لوگ نہیں آئیں گے تب تک منفی سوچ رکھنے والے لوگ۔گند مچاتے رہیں گے۔کبھی یوٹیوب بھی شجر ممنوعہ ہوا کرتی تھی۔پھر اچھے لوگ اچھی مفید اور معیاری چیزیں لے کر آے آج۔یوٹیوب ایک انسائیکلوپیڈیا کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔بلکہ ایک ہنرکدہ بن چکی ہے جہاں کچھ بھی سیکھا جا سکتا ہے۔
یہ سب کیسے ممکن ہوا ؟
اگر یوٹیوب پہ۔مثبت سوچ رکھنے والے نا آتے اور وہ شجر ممنوعہ ہی رہتی۔جیسا کہ آج کل ٹک ٹاک اور سنیپ ویڈیو بنی۔ہوئی ہیں تو بہت حد تک
امکان تھاکہ یہ سب نا ہوتا ۔
میرا خیال ہے۔کہ۔آپ۔اگر کچھ مثبت کرنا چاہتے ۔کار خیر میں حصہ ڈالنا چاہتے تو آپ کو ان پلیٹ فارم پہ ضرور کچھ نا کچھ کرنا چاہیے۔۔ جیسا کہا اسلام کے حوالے سے قرآن اور حدیث کے حوالے سے اسلامی تاریخ کے حوالے سے چینل بنا سکتے۔کوئ اچھی بات کوئی تجربہ لائف سکل کی بات۔شئیر کر سکتے ہیں۔
رہی بات سنیپ چیٹ اور ٹک۔ٹاک پہ۔روزانہ۔پانچ سو کمانے کی تو آپ گانے میوزک فحاشی والی ویڈیو کو۔لائیک مت۔کریں۔۔اس کے علاوہ کوکنگ نعت وغیرہ کی ویڈیو کو لائیک کر سکتے ھیں ۔
یہ بھی پڑھئے
کیا ٹک ٹاک اور سنیپ ویڈیو سے پیسہ کمانا جائز ہے
ایک بات یاد رکھیں کہ۔ان پلیٹ فارم کو آپ۔مشہور ہونے سے نہیں۔روک۔سکتے۔بلکہ جدید زرائع ابلاغ کی مدد سے اسلام کو پر موٹ کر سکتے ہیں۔اور قرآن کی بات برائی کواچھائی سے ختم کرو ۔برائی سے ڈر کے بیٹھنا نہیں ہے بلکہ اس کا مقابلہ کرنا ہے۔شر کی قوتوں پہ غالب آنآ ہے۔اپنے حصے کا کام کرنا ہے ۔اس مقصد کے لیے سوشل میڈیا بہترین پلیٹ فارم ہے بس آپ نے اپنی آواذ یعنی کونٹینٹ کو موثر بنانا ہے۔
نیت وہ بنیاد ہے جو قیامت کے دن معیار بنے گی۔آپ کی نیت خالص ہونی چاہیئے ۔باقی دعا اور اللہ کی مدد سے حق غالب ہو کے رہنا ہے۔ہم نہیں تو کوئی اور کر لے گا یہ کام۔۔۔۔سؤال یہ کہ ہم نے کیا کیا۔سوال نہیں کھلا سچ ہے جو سامنے آ کر رہے گا۔