397

کیا ٹک ٹاک اور سنیپ ویڈیو سے پیسہ کمانا جائز ہے

تحریر شئیر کریں

قسط نمبر 1

کیا ٹک ٹاک اور سنیپ ویڈیو سے پیسہ کمانا جائز ہے جانیئے قلم کتاب پر

ہم ایسے دور میں داخل ہوگئے ہیں جہاں شیطان ناچ گانوں سے بھرپور ایپس پر پر آنے کیلیے مسلمانوں کو پیسے دے رہا ہے۔ TikTok اور SnackVideo نے اپنی فحاشی کی مشہوری کرنے والوں کو 440 روپے دینے کی پیشکش کی ہیں۔۔۔۔ یہ شیطان کا خطرناک ترین وار ہے۔۔۔۔۔۔

بدقسمتی سے مسلمان اتنے اندھے دین سے لاعلم ہیں کہ بنا سوچے سمجھے پیسہ کمانے کی لالچ میں دھڑا دھڑ شیطانی ایپس کو شیئر کرتے جارہے ہیں۔

درحقیقت آپ فحاشی کو پھیلانے میں شیطان کی مدد کر رہے ہیں۔

یاد رکھیں۔۔۔۔۔

اگر اپکی وجہ سے کوئی ایک انسان بھی ان ایپس پر گیا اور وہاں ناچ گانوں کی وڈیوز دیکھ کر آنکھوں کا گناہ کرتا رہا تو جب تک وہ ایسی وڈیوز دیکھتا رہے گا اسکا گناہ اسکے اپنے نامہ اعمال کے ساتھ ساتھ اپکے نامہ اعمال میں بھی لکھا جاتا رہے گا کیونکہ اسے اس گناہ میں مبتلاء کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ آپ ہی تھے۔

یہ بھی پڑھیئے

ٹک حرص و ہوس کو چھوڑ میاں

اصل گناہ تو آپکو ملے گا ان سے بھی زیادہ جو آپکی وجہ سے گناہ میں مبتلائ ہوئے کیونکہ اپ نے ہی پیسے کمانے کی لالچ میں اتنے اتنے بندوں کو اس لت میں مبتلاء ہونے کے لیے انوائٹ کیا تھا، خصوصی درخواستیں کی تھیں کہ ان ایپس پر آکر اکاونٹ بناو مجھے اور تمہیں پیسے ملیں گے لیکن یہ نہیں سوچا تھا کہ اس سے جو گناہ کا در کھلے گا اسکا زمہ دار کون ہوگا ۔۔۔۔؟؟

اسکے زمہ دار آپ خود ہوں گے کیونکہ معاشرے میں فحاشی پھیلانے میں آپ نے شیطان کی مدد کی۔

اور ہاں ان ایپس کی مشہور کرنے سے جو پیسہ آپ کمائیں گے وہ کوئی حلال کمائی نہیں ہوگی بلکہ سو فیصد حرام کمائی ہوگی۔ یوں آپ خود بھی حرام کھائیں گے اور لالچ کی آڑ میں کود کر اور دوسروں کو بھیج کر انہیں بھی حرام کھانے پر آمادہ کریں گے۔ اسکا بھی الگ سے گناہ آپ کو مفت ملتا رہے گا۔

ذرا تصور کریں ۔۔۔۔۔ روز قیامت اللہ نے پوچھ لیا کہ جب میں فحاشی پھیلانے سے سختی سے منع کیا تھا تو تم نے پیسے کی لالچ میں فحاشی کیوں پروموٹ کی تو آپکے پاس کیا جواب ہوگا ۔۔۔۔؟؟

اللہ عزوجل فرماتا ہے :

“اور وہ جو مسلمان معاشرے میں فحاشی پھیلانا چاہتے ہیں انکے لیے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے” (سورہ نور 19:24)

ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے ایسی کسی بھی ایپ کو پروموٹ مت کریں، پیسے کی لالچ میں حرام مت کھائیں، دوسروں کو اس گناہ میں مت دھکیلیں۔۔۔۔۔۔

ہم مسلمان ہیں اگر معاشرے میں فحاشی پھیلاتے رہے تو اللہ کا قرآن بڑا واضع کہتا ہے کہ پھر ہمیں دنیا میں بھی زلیل و رسوا کیا جائے گا اور آخرت میں بھی جہنم کا ایندھن بنایا جائے گا۔۔۔۔۔
لہذہ اتنا پروموٹ کیجیے جتنا آپ جہنم کی آگ کو برداشت کرسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں