417

ہم اور ہمارے موسی علیہ السلام

تحریر شئیر کریں

قسط 3 ہم اور ہمارے موسی علیہ السلام

“اور جب موسیٰ علیه السلام نے اپنے نوجواں ساتھی سے کہا۔۔۔”
داستان یہاں سے شروع ہوتی ہے سورۂ کہف میں۔ اور یہیں انسان کو لمحہ بھر کو رک جانا پڑتا ہے۔
موسیٰ علیه السلام کی زندگی پہ ذرا سوچیں تو ایک بڑا لطیف نکتہ ہے۔ ہمارے موسیٰ ہمدم اور ساتھی کے معاملے میں بہت خوش نصیب واقع ہوئے تھے۔ انہیں ان کی زندگی میں کہیں بھی دیکھ لیں، کسی بھی موڑ پہ۔ وہ ہمیشہ آپ کو کسی ساتھی کے ہمراہ ملیں گے۔


پیدا ہوئے تو گھر والے ہر لمحہ آغوش میں خاص طور پہ سنبھال کے رکھتے تھے۔ وہ صندوق میں رکھ کر سپردِ دریا کیے گئے تو بہن ساتھ ساتھ تھی۔ دربارِ فرعون میں پہنچے دودھ پلانے کو والدہ کا لمس ہمہ وقت میسر آ گیا۔ بڑے ہوئے تو زوجۂ فرعون نے ہمیشہ قریب رکھا۔ ایک لڑائی کے بعد شہر سے بھاگ کر کسی پرائی جگہ جا پہنچے تو وہیں رفیقۂ حیات سے ملاقات ہو گئی۔ بارِ نبوت کاندھوں پہ پڑا تو بڑے بھائی ہارون علیه السلام ان کے ہمدم و شریکِ کار بنے۔ برسوں بعد آج اس سفر پہ چلے ہیں تو آج بھی ایک ساتھی ان کے ساتھ ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ موسیٰ علیه السلام کے رفیق اس قدر اہم ہیں کہ الله نے قصے کا آغاز ہی ان کی ہمراہی سے کیا ہے۔

قسط 1,2پڑھیے

ہم اور ہمارے موسی علیہ السلام

کیا ہی خوبصورت بات ہے۔ کس قدر دلنشیں نکتہ ہے، جذبہ ہے، رشتہ ہے۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ موسیٰ علیه السلام ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں تنہا کرنے بلکہ ان کی جان لینے کی قدم قدم پہ کوششیں کی گئیں۔ وہ تو وہ شخص تھے کہ جن کے پیدا ہونے پہ ہی پابندی تھی! کتنے ہی بچے مارے گئے کہ موسیٰ پیدا نہ ہوں۔ ان پہ قتل کے الزام کی وجہ سے جان لینے کا حکم تھا۔ وہ جان بچانے کو کبھی دریا میں بہے کبھی ویرانوں کو چلے۔
اور اس سے زیادہ حیرت کی بات ہے کہ جن لوگوں نے سب سے زیادہ ان سے نفرت کی، انہی نے سب سے زیادہ ان سے محبت کی۔ فرعون نے انہیں بیٹے کی طرح پالا۔

انہی درباریوں نے برسوں شہزادوں کی طرح ان کی تکریم کی۔ وہی جادوگر جو ان کے حریف بن کر میدان میں آئے تھے وہی ان کے ہمدم و پیروکار بنے۔


موسیٰ علیہ السلام تاریخ کی ان چند شخصیات میں سے ہیں جن سے ہر دور نے بےپناہ محبت کی ہے۔ آج تک کسی بھی مذہب کا ماننے والا ان سے نفرت نہیں کر سکا۔ ذرا قرآن اٹھا لیجیے، ان سے بڑھ کر تو کسی بھی انسان کا ذکر نہیں آیا۔ ہر کچھ صفحات بعد موسیٰ کا ذکر چل نکلتا ہے۔ ربِ کونین نے جب بھی موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا ہے، محسوس ہوتا ہے بڑے پیار سے، بڑے دلار سے کیا ہے۔ بتایا ہے کہ ان کی محبت لوگوں کے دلوں پہ انڈیلی گئی۔
موسیٰ علیہ السلام کی رفاقتوں کے کیا کہنے! ان کی کسی سائے میں بیٹھ کر سانسوں کی آہستگی میں مانگی ہوئی دعا آج تک حصولِ رفیقِ جاں کا حوالہ ہے،


“رب اني لما انزلت الي من خير فقير”
کبھی سوچوں کہ انہیں اتنے پیارے دوست ملتے ہی رہنے کی وجہ کیا ہے، تو جواب ملتا ہے کہ انہوں نے حقیقت میں الله کو دوست بنایا تھا۔ وہ رب کے حکم کے آگے ہمیشہ سرتسلیم خم کیے رہے۔ فرعون کے دربار میں جانے کا کہا گیا تو ایک لمحہ کو بھی نہیں کہا کہ الله! جس کی وجہ سے وہ شہر چھوڑ کے آیا تھا، اب کیا خود اسی کے دربار میں جاؤں؟ اپنی موت کی طرف؟ برسوں اس کے ظلم و استبداد کا مقابلہ کیا۔ فقط الله کو اپنا ہم راز رکھا۔
کتنے ہی لوگ ہیں آج بھی جنہیں رب کے راستے پہ چلتے یہ فقرے سننے پڑتے ہیں،


“تم اکیلے ہو جاؤ گے۔ اس معاشرے میں کیسے جی سکو گے؟ تنہا کیسے جیو گے؟ کوئی تمہیں جیون کا ساتھی نہیں بنائے گا۔”
موسیٰ علیه السلام کی زندگی گواہ ہے کہ ساتھی الله دیتا ہے۔ اور ایسے دیتا ہے کہ لوگ زمانے بعد بھی ان کے جملوں کو تسبیح بنا کے پڑھتے ہیں کہ ان سے ساتھی ملتا ہے۔
اے میرے دوست!
وہ کہ جسے تنہائیاں ستاتی ہیں۔ دعا ہے کہ ربِ کریم تمہاری زندگی کو بہترین رفاقتوں سے گل رنگ کر دے۔ تمہاری محبت تمہاری جاں کا قرار ہو۔ بہت سوں کے لیے ایک مثال ہو۔ الله تمہارا تیسرا ہو ہمیشہ!

مریم خالد

طائرِحرم

ہم اور ہمارے موسی علیہ السلام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں