۔۔۔۔۔۔
اگر آپ 2020 میں ایک بھر پور اور پر اعتماد شخص بننا چاہتے ہیں۔ تو ہر کام الٹ کریں۔وہ کیسے اور کس طرح یہ ہم بتائیں گے اس آرٹیکل میں۔
۔۔۔۔۔۔
خود اعتمادی کیا ہے؟
۔۔۔۔
خوداعتماد ہونے سے مراد یہ ہے کہ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا۔خود اعتمادی کی دو قسمیں ہیں۔
اندرونی خود اعتمادی
بیرونی خود اعتمادی
اندرونی طور پر خود اعتماد لوگ ہی اصل میں خوداعتماد ہوتے ہیں۔انکی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں کے پاس بیٹھنے سے آپ کے اندر بھی انرجی پیدا ہونے لگتی ہے۔جبکہ بیرونی طور پہ خوداعتماد والے لوگ ایکٹنگ کرتے ہیں اور وہ کبھی کبھار اس میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں مگر چونکہ وہ اندرونی طور پر خوداعتماد نہیں ہوتے جبھی اعتماد زیادہ دیر تک ایسے لوگوں کا ساتھ نہیں نبھاتا۔کیونکہ یہ بیرونی چیزوں گھر ،دولت اچھی گاڑی اچھے لباس وغیرہ کی بدولت آتا ہے جیسے ہی یہ چیزیں منظر سے غائب ہونا شروع ہوتیں ہیں۔خوداعتمادی کی خود ساختہ عمارت بھی دھیرے دھیرے زمین بوس ہونے لگتی ہے۔کبھی ایسے بھی ہوتا ہے جیسے ہی چیزوں کی بدولت خوداعتماد لوگوں کو اپنے سے زیادہ مال دار بندہ دکھائی دیتا ہے وہ احساس کمتری میں مبتلا ہونے لگتا ہے۔
جبکہ اندرونی طور پہ خوداعتماد لوگ بیرونی چیزوں کی بجاۓ اپنی ذات کو ویلیو ایبل سمجھتے ہیں۔یہ حقیقت پسند ہوتے ہیں۔کتنا ہی دولت مند کیوں نا سامنے آ جاۓ یہ احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہوتے۔یہ جانتے ہیں کہ دنیا کا ایک نظام ہے کوئی امیر ہے اور کوئی غریب۔یہ کبھی خود کو حقیر نہیں جانتے۔یہی انکی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔
۔۔۔۔
جو لوگ خود کو کمتر سمجھتے ہیں۔ان کے لیے یہ بہترین ٹپ ہے کہ وہ ہر کام الٹا کریں۔ اس مراد یہ ہے کہ اگر آپ کے گھر مہمان آ رہے ہیں اور آپ احساس کمتری محسوس کرتے ہوۓ ان کے سامنے جانے سے کترا رہے ہیں تو اس سے الٹ کریں۔یعنی ان کا سامنا ضرور کریں۔یہ ٹپ ہر اس کام سے متعلق ہے جو آپ کی پر اعتمادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔اپنے دماغ میں یہ بات فیڈ کر لیں کہ میں نے خوداعتمادی کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو عبور کرنا ہے۔پھر آپ کا دماغ خود بخود آپ سے ایسے کام کرواتا ہے کہ آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا۔جیسا کہ لوگوں کو پبلک سپیکنگ کا فوبیا ہوتا ہے۔یہ صرف فوبیا ہوتا ہے حالانکہ ان کے منہ میں زبان بھی ہوتی ہے اور بولنے کے لیے الفاظ بھی۔مگر چونکہ انکے دماغ میں یہ بات بیٹھ چکی ہوتی ہے کہ وہ نہیں بول سکتے او ان کا دماغ سانس اکھاڑ کر کبھی آواز بند کر اور کبھی بندہ پورے کا پورا کانپنے لگتا ہے۔یہ سب اس لیے ہو رہا ہوتا ہے کہ اچھے وقت میں آپ نے اپنے دماغ سے کہا تھا کہ میرے سے بولا نہیں جاتا۔اور بار بار آپ نے اپنے دماغ کو یہ باور کروایا جس سے آپ کے دماغ نے یہ بات سیکھ لی کہ کچھ بھی ہو بولنے نہیں دینا اب جب تک آپ اپنے دماغ کی پروگرامنگ بدلیں گے نہیں آپ کا خوف دور نہیں ہوگا۔دماغ کی پروگرامنگ کی مدد سے آپ اپنی خوداعتمادی کی طاقت کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔
جن لوگوں کا بچپن محرومیوں میں گزرتا ہے وہ بڑے ہوکر سب کچھ پالینے کے باوجود بھی پر اعتماد نہیں ہو پاتے کیونکہ انھوں نے اپنے بچپن میں دماغ میں بٹھا لیا تھا سو وہی دماغ ویسے کا ویسا ہی رہا۔اسکی مثال اس ہاتھی کی سی ہے جسے بچپن میں رسی سے باندھا جاتا ہے۔کچھ دن وہ رسی تڑوانے کی کوشش کرتا ہے پھر ہار مان لیتا ہے۔پھر ایک دن آتا ہے اسے بغیر رسی کے صرف زرا سا باندھا جاتا ہے تاکہ اس احساس رہے کہ وہ بندھا ہوا ہے۔مگر ہاتھی یہی سمجھتا ہے کہ وہ رسی نہیں تڑوا سکتا ۔حالانکہ وہ بڑا اور طاقتور ہو چکا ہوتا ہے۔ایک جھٹکے سے رسی تڑوا سکتا۔انسان اور اس کے خوف بھی اس ہاتھی کی طرح ہوتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ انسان کے نوے فیصد خوف بے بنیاد ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔
خود اعتماد کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ
۔۔۔۔۔
خود اعتمادی کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ انسان کی اپنی سوچ ہے۔اگر وہ سوچ بدل لے تو سب کچھ بدلنا شروع ہو جاۓ گا۔
اگر ڈویلپ ہو کر بھی احساس کمتری نہیں جاتا تو مطلب آپ ابھی ڈویلپ نہیں ہوۓ۔آپ اندرونی طورپر خوداعتماد نہیں ہیں۔
۔۔۔۔۔
سوچ بدلنے کے بعد دوسرا کام اپنے لباس اور اندازو اطوار بدلنا ہیں۔کبھی بھی جوتے میلے نہیں ہونے چاہیے۔لباس مہنگا نا ہو مگر صاف ستھرا ہو۔کبھی بھی کمر جھکا کر مت بیٹھیں ،یہ ہارے ہوۓ لوگوں کی نشانی ہے۔کھڑا ہونے کی صورت میں دونوں ٹانگوں کے دوران کتنا فاصلہ ہونا چاہہے یہ سب باڈی لینگویج کا موضوع ہیں۔
ہمیشہ سوچیں کہ مجھے کائنات کا بادشاہ پانچ وقت اپنی ملاقات کے لیے بلاتا ہے۔تو کیا میں معمولی انسان ہوں۔ہرگز نہیں۔اتنا بڑا اعزاز کسی معمولی انسان کے پاس نہیں ہو سکتا۔
۔جو کچھ ہے اس پہ شکر اد کرنا شروع کر دیں نعمتیں برھنا شروع ہو جائیں گیں۔اللہ سے دعا کی شکل میں مانگتے رہیں۔خوداعتمادی کا سوال کریں۔ضرور ملے گی۔
ہمیشہ اپنے سے نیچے کی طرف دیکھیں گے تو شکر بھی آے گا اور اعتماد بھی۔
کبھی کبھی ریڈیو یا ٹی وی کے کسی پروگرام میں کال کریں۔اس سے بھی آپ میں اعتماد پیدا ہوگا۔
روزانہ دس بار آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر کہیں۔
میں خوبصورت ہوں،خوب سیرت ہوں
میں پر اعتماد ہوں،ذہین ہوں
اور تصور میں خود کو محسوس کری جیسا آپ دکھنا چاہتے۔
380