257

تیس سال بعد اپنوں سے ملن

تحریر شئیر کریں

1992 میں اسلام آباد کے معروف علاقےبری امام میں دو سالہ محمد صدیق اپنے اہل خانہ کے ہمراہ دربار پر آیا ہوا تھا۔ اسی دوران ایک عورت نے اسے اغواء کر لیا۔ اغواء کرنے والی عورت اپنی ماں اور تین بھائیوں کے ساتھ تھی۔ وہ محمد صدیق کو سرگودھا کے نواحی گاؤں جھانوریا لے گئی، جہاں اس کی پرورش ایک نام بدل کر کی گئی۔ اغواء کے وقت اس کے والدین نے بہت کوششیں کیں، ہر ممکن جگہ تلاش کیا، اخبارات میں اشتہارات دیے، لیکن کوئی سراغ نہ مل سکا۔

بچپن میں ہی اسے اندازہ ہونے لگا تھا کہ وہ جس گھر میں رہتا ہے، وہ اس کا اصلی گھر نہیں۔ لوگوں کے رویے، لہجے اور غیر مانوس ماحول نے اس کے دل میں سوالات پیدا کیے۔ نو دس سال کی عمر میں جب اغواء کرنے والوں نے بھی وہ علاقہ چھوڑ دیا، تو محمد صدیق تنہا رہ گیا۔ اسی دوران ایک مقامی وکیل نے اس بچے کو گاؤں میں بھٹکتے دیکھا اور اسے اپنے ساتھ رکھا۔ وکیل نے نہ صرف تعلیم، بلکہ رہائش اور روزگار کا بھی بندوبست کیا۔ اب اس کا نیا نام آصف تھا اور وہ یہی نام استعمال کرنے لگا۔

تعلیم سے زیادہ اس کی دلچسپی محنت مزدوری میں تھی۔ اس نے الیکٹریشن کا کام سیکھا اور اسی سے اپنی روزی روٹی کمانے لگا۔ 2017 میں اس کی شادی ہوئی اور وقت کے ساتھ وہ ایک گھر بھی خریدنے میں کامیاب ہو گیا۔ اگرچہ بچپن کی یادیں دھندلی ہو چکی تھیں، مگر دل میں کہیں ایک خلا ہمیشہ رہتا تھا۔ ایک دن وہ ایک سونے کے زیورات بنانے والے کاریگر کے پاس کام کے دوران بیٹھا ہوا تھا کہ اپنی زندگی کی کہانی سنا بیٹھا۔ وہاں موجود ایک شخص نے اسے ولی اللہ معروف سے رابطہ کروایا، جو کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کام کر رہے تھے۔

ولی اللہ معروف نے آصف کی کہانی سن کر اس کی اصل شناخت معلوم کرنے کے لیے تحقیق شروع کی۔ انہوں نے آصف کی تصویر، یادداشت کے مطابق تفصیلات، اور کچھ پرانی معلومات کو بنیاد بنا کر اس کے خاندان کو تلاش کرنا شروع کیا۔ ہفتوں کی کوشش کے بعد، وہ اس کے والدین تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ جب یہ اطلاع دی گئی کہ آصف کو اس کے حقیقی والدین مل گئے ہیں، تو سب کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

جیو نیوز کے پروگرام “جرگہ” میں آصف کو اس کے والدین کے سامنے پیش کیا گیا۔ ماں نے اپنے کھوئے ہوئے بیٹے کو گلے لگا کر بے ساختہ رونا شروع کر دیا۔ باپ کی حالت بھی غیر ہو گئی۔ کمرے میں موجود ہر شخص کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ یہ لمحہ صرف ایک خاندان کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک امید کا پیغام بن گیا۔ تین دہائیوں کے بعد بچھڑا بیٹا والدین سے ملا تو یہ لمحہ صرف جذباتی نہیں بلکہ ناقابلِ فراموش بھی بن گیا۔ اس ملاقات نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر نیت صاف ہو، کوشش مسلسل ہو اور درد کو سمجھنے والے لوگ موجود ہوں تو گمشدگی کا اندھیرا بھی کسی دن ختم ہو جاتا ہے۔

تیس سال بعد اپنوں سے ملن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں