طیبہ شہزادی
آتے ہوئے اذاں جاتے ہوئے نماز
بس اتنے سے وقت کے لیے آئے چلے گئے
دنیا کی یہ زندگی مختلف مراحل اور ادوار سے گزر کر اپنے اختتام کو پہنچتی ہے… انسان جو ایک خون کے لوتھڑے کا ایک حقیر سا ٹکڑا ماں کے پیٹ میں مختلف مراحل سے ہوتا ہوا ایک مکمل انسانی شکل وصورت حاصل کرتا ہے اور ماں کے پیٹ کو چاک کر کے اس دنیائے فانی میں اپنا قدم رکھتا ہے… پھر اس پر بچپن, لڑکپن, جوانی اور بڑھاپے جیسے مراحل گزرتے ہیں اور آخرکار وہ پھر اپنی حقیقی قیام گاہ کی طرف لوٹ جاتا ہے… اور یہ مراحل سب کے لیے یکساں نہیں ہوتے بلکہ کچھ کو موت درمیان (جوانی) میں ہی اچک لیتی ہے اور بعض تو بچپن میں ہی لقمہ اجل بن جاتے ہیں… اور کچھ کا یہ سفر بڑھاپے تک جاری رہتا ہے لیکن آخر کار… وہ بھی وہیں لوٹ جاتے ہیں جہاں دوسروں نے ان سے اس میں سبقت لی… .
دنیا کی یہ زندگی اپنے اندر دوام نہیں رکھتی… اس کی ہر چیز فانی ہے… ہر چیز اپنے فانی ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہے… یہ چاند, یہ سورج, یہ ستارے اور ان کی یہ آنکھ مچولی اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کو دوام حاصل نہیں… اور ہمارے مشاہدے میں یہ بات ہے کہ بہت سے لوگ جنہوں نے زندگی کا یہ سفر ہمارے ساتھ شروع کیا… اب وہ اس سفر میں ہمارے ساتھ نہیں… ہر روز ہم سے کوئی نہ کوئی بچھڑ جاتا ہے… خواہ اس سے ہمارا خون کا رشتہ ہو, ایمان کا یا قرابت کا… .
پہلی اقوام کے قصص اور خبریں جو ہم تک پہنچی ہیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اپنی طاقت اور قوت کے باوجود زندگی کے دوام کا مزا نہیں چکھ سکیں… اور تاریخ میں ہمیں مونجو دھڑو اور ہڑپا جیسے ترقی یافتہ شہروں کے بارے میں جاننے کو ملتا ہے کہ جن کی تہذیب و ثقافت آج کے اس ٹیکنالوجی کے دور کو چیلنج کرتی ہے… اپنی ہمیشگی کا سامان نہیں کر سکے…
وہ بادشاہ وملوک جو اپنی طاقت اور قوت کے نشے میں چور چور تھے اور دنیا میں اپنے آپ کو خدا سمجھے بیٹھے تھے آج دنیا ان نام نہاد خداؤں کے نام تک سے واقف نہیں… تب ان کی شان و شوکت اور شجاعت اور بہادری کے شامیانے بجتے تھے تو آج وہ شامیانے خاموش ہیں… نیز کائنات کی ہر چیز کو فنا حاصل ہے…
“كل نفس ذائقة الموت.”
دوام صرف اور صرف اللہ رب العزت کی ذات کے لئے ہے… جو اذل سے تھی اور ابد تک رہے گی…
“كل من عليها فان. ويبقى وجه ربك ذوالجلال والإكرام.”
نیز دنیا کی کوئی بھی مخلوق اس سے مبراء نہیں خواہ وہ حقیر اور ذلیل ہو یا افضل ترین ہر ایک اپنی مقررہ مدد لے کر آیا ہے… قصہ مشہور ہے کہ جب موت کا فرشتہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی روح قبض کرنے آیا تو آپ نے اسے گھونسہ دے مارا, ملک الموت نے بارگاہ الہی میں عرض کی کہ مجھے ایک ایسے انسان کی جانب بھیجا گیا ہے جو مرنا نہیں چاہتا تو اللہ عزوجل نے اس بات کے ساتھ ملک الموت کو دوبارہ بھیجا کہ جاؤ اور موسی سے کہو کہ وہ بیل کی پشت پر ہاتھ رکھیں اور ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ہر بال کے بدلے انہیں ایک سال زندگی مزید عطا کی جائے گی. موسی علیہ السلام نے عرض کیا کہ اس کے بعد کیا ہو گا؟ عرض کیا گیا کہ موت. نیز موت سے کسی کو چھٹکارا حاصل نہیں…
یہ شعر زندگی کی حقیقت کی عکاسی کچھ یوں کرتا ہے,
میں نے پوچھا کہ زندگی کیا ہے
ہاتھ سے گر کے جام ٹوٹ گیا
ہمارے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ جب اتنی عظیم ہستیاں اور اتنی شان و شوکت رکھنے والے یہاں سے کوچ کر گئے… تو کیا ہمارے لیے دوام ہے؟ یا ہم یہاں ہمیشگی کا پرمٹ لے کر آئے ہیں ؟ یقینا ایسا نہیں تو پھر ذرا سوچیے کہ کیا ہم اپنی اس زندگی کو (جو کہ میرے پاس امانت ہے) ایسے ہی گزار رہے ہیں کہ جیسے گزارنے کا ہمیں حکم ہے؟ اور کیا ہماری زندگی کا مقصد وہی ہے کہ جو اقبال نے کہا,
میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی
میں اسی لیے مسلماں میں اسی لیے نمازی