428

دکھ کی وادی

تحریر شئیر کریں

دکھ کی وادی افسانچہ

وہ ندی پہ کھڑی تھی۔کچھ ہی لمحے باقی تھے پھر سب دکھ درد ختم ہو جانے تھے۔لوگوں کی طنز بھری نگاہیں ہو یا نشتر چلاتے فقرے سب کچھ لمحوں کا کھیل تھا۔

وہ مرنے سے پہلے کچھ کرنا چاہتی تھی۔۔نیکی کا فرشتہ اسے ترغیب دے رہا تھا۔شاید وہ لمحوں میں الجھ کر بھول جاۓ کہ وہ کیا کرنے آئی ہے پر بدی کا فرشتہ اسے مسلسل اکسا رہا تھا کہ وہ جلدی سے اس دنیا سے نجات حاصل کرے۔جس نے اس کی زندگی جہنم بنا ڈالی تھی۔بالآخر اس نے موبائل آن کیا۔نیکی کے فرشتے کو اپنی کوشش رنگ لاتی دکھائی دی۔آخر انسانی جان کے ضیا ع کا معاملہ تھا۔اس کا پریشان ہونا حق بجانب تھا۔ادھر شیطان کے چیلے اسے آرزوں امنگوں کے جال میں پھنسا کر دکھ کی وادی میں پہنچا دینے کے در پے تھے۔دکھ کا یہ وقت گزر جاۓ گا ،یہ دنیا اور اس کی تکلیفیں عارضی ہیں۔۔نیکی کا فرشتہ صدا لگا رہا تھا۔شیطان کے چیلوں کا رقص جاری تھا۔آوازیں ابھر رہیں تھیں دم توڑ رہیں تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

پیغمبر اسلام ﷺ غیر مسلم مفکرین کی نظر میں

وہ موبائل ہاتھ میں پکڑے ویڈیو پیغام ریکارڈ کر رہی تھی۔ادھر بدی کا فرشتہ جلدی مچا رہا تھا۔کہ کہیں وہ بہل نا جاۓ تھی نا عورت پل میں تولہ پل۔میں پاشہ۔۔۔کیا پتہ بدل ہی نا جاٍے۔شیطان کی چالیں رنگ پکڑنے لگی۔وہ عجلت میں تھی۔اور عجلت ہمیشہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔نیکی کے فرشتے کا رنگ فق ہونے لگا تھا۔وہ ویڈیو ریکارڈ کر چکی تھی۔اب کسی کو سینڈ کر رہی تھی۔انسانوں سے الرجک دکھوں سے بچاؤ کی خاطر جان دینے والی بھول گئ کہ وہ ازلی دکھ کی وادی میں قدم رکھ چکی ہے۔نیکی کے فرشتے نے رخ پھیرکر اپنی ناک پہ ہاتھ رکھ دیا تھا۔اتنی بدبو کہ کھڑا ہونا محال تھا ۔۔۔۔بدبو تھی کہ نتھنوں سمیت ہر چیز پہ حاوی ہونے لگی۔اورانسانی گوشت کی بدبو لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں