364

زخمی جن

تحریر شئیر کریں



‘ایک زخمی جن کی کہانی جس نے ایک انسان کو بہت بڑی مشکل میں ڈال دیا”



” ایک خطرناک جن زادہ جو میری ٹانگ حاصل کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔
میرا نام اشرف ہے میری عمر 29 سال ہے۔۔۔ یہ میرے ساتھ پیش آئے ایک سچے واقع کی کہانی ہے۔۔۔۔جو آج سے 3 سال پہلے رونما ہوا تھا۔
جس کو میں کبھی بھول نہیں سکتا۔


اور مجھے بھولنا بھی نہیں چائیے۔۔۔ مجھ جیسے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی تو ہونا چاہیے تھا کیونکہ میں ایک ایسی بات پر خوش ہو رہا تھا جس پر مجھے خوش ہونے کا کوئی حق نہیں تھا۔
میرا گناہ بہت بڑا تھا اس لیے مجھے سزا بھی بڑی ملی۔۔۔۔
سردیوں کے دن تھے ۔۔۔۔۔رات کا وقت تھا۔
میں بس اسٹاپ سے ایسے واپس آ رہا تھا اور میں ایسے خوش تھا جیسے کوئی خونی کسی کو جان سے مارنے کے بعد لاش ٹھکانے لگا کر خوش اور مطمئن ہوتا ہے میرے
دل میں ایک بہت بڑی خوشی تھی۔
میں اتنا خوش تھا کہ یہ انتہا کی سردی بھی مجھے اچھی لگ رہی تھی۔
میں اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھا ایک گانا گنگناتے ہوئے اپنی مستی میں چلتا جا رہا تھا۔
” پنچھی بنوں اُڑتا پھروں مست گگن میں آج میں آزاد ہوں۔۔۔۔آج میں آزاد ہوں”
گانا پورا نہ ہو سکا کیونکہ سردی کی شدت سے میرے دانت بج رہے تھے۔
جی ہاں یہ خوشی آزادی کی تھی کیونکہ میں اپنی بیوی اور 4 بچوں کو بس میں بیٹھا کر آیا تھا وہ 10 دن کے لیے اپنے میکے گئی تھی۔
اور میں یہی سوچتا آ رہا تھا کہ یہ دس دن میں خوب آرام کروں گا فلمیں دیکھوں گا دوستوں کے ساتھ سیر کروں گا۔
جو دل کرے گا کروں گا نهاوں گا بھی نہیں ۔۔۔۔بے فکری کی زندگی ہوگی۔
پر سڑک پر جاتے ہوئے اچانک مجھے یوں لگا کہ میری موٹر سائیکل کسی چیزکے اوپر سے گزری ہے۔
میں نے چونک کر موٹر سائیکل روک دی اور پلٹ کر دیکھا۔
سڑک تو بالکل صاف تھی کوئی سپیڈ بریکر بھی نہیں تھا۔
سوچا کہیں سڑک پر کوئی چیز نہ پڑی ہو آج میری قسمت اچھی ہے دیکھتا ہوں۔
کہیں کوئی سونے کی اینٹ ہی نہ مل جائے۔
واپس گیا اور اب نظریں سڑک پر رکھ کر پھر سے وہاں سے گزرا پھر سے میری موٹر سائیکل کسی چیز پر سے گزری۔
اور اس بار کسی کی آہ فضا میں گونج گئی۔
میں چونک گیا۔
اور آس پاس دیکھا پر وہاں کوئی نہیں تھا وہاں سے بھاگنے لگا تھا کہ کوئی بولا۔
” رک جا وہیں پر میرا یہ حال کر کے مجھے چھوڑ کے جا رہا ہے”
میں نے پلٹ کر دیکھا تو۔۔۔۔۔سڑک پر
کوئی نہیں تھا۔۔۔۔پھر یہ آواز کس کی تھی کہیں میرے کان تو نہیں بج رہے تھے۔
میں پھر سے جانے لگا کہ۔۔۔۔
“میں نے کہا وہیں رک جاؤ” اب تو آواز بھی بلند تھی۔۔۔
میں نے آس پاس دیکھا۔۔۔۔
پہلے تو سڑک پر کوئی نہیں تھا۔
پھر اچانک ایک آدمی سڑک کے بیچ و بیچ نمودار ہوا۔
وہ میری ہی عمر کا تھا سفید کپڑوں میں ملبوس تھا۔
سر پر ٹوپی پہن رکھی تھی جبکہ اس ٹھنڈ میں بھی اس نے کوئی جیکٹ یا سویٹر نہیں پہنا تھا میں نے دیکھا اس کی ٹانگ بری طرح زخمی تھی۔
اور وہ اپنی ٹانگ پکڑے بیٹھا تھا۔
میں بری طرح چونک گیا۔۔۔۔اور ڈر سے میرا دل بہت زور سے دھڑکنے لگا
میں سمجھ گیا تھا کہ وہ کوئی انسان نہیں تھا۔
” خبر دار جو یہاں سے بھاگنے کی کوشش کی ادھر آ”
اس نے مجھے حکم دیا میں اس کی سمت گیا تو سہی پر میں بہت ڈرا ہوا تھا۔
” کیسی دنیا ہے تم لوگوں کی پہلے میں ایک بڑی بس کے نیچے آتے آتے بچا اور تم تم نے ۔۔۔۔پہلے مجھے زخمی کیا اور اب بھاگ رہے ہو۔۔۔۔
تم نے دو بار اپنی موٹر سائیکل میری ٹانگ پر سے گزاری ہے۔۔۔۔۔اب
تم کہیں نہیں جا سکتے آدم زاد تمہیں میری مدد کرنی ہوگی۔۔۔۔۔”
میں تو پہلے ہی ڈرا ہوا تھا۔ یہ لفظ سن کے اور بھی ڈر گیا اس نے مجھے جیسے آدم زاد کہا وہ انداز خاصا عجیب تھا۔
” اگر۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔ آدم زاد ہوں۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔تو تم کون ہو؟”
میں نے ڈر کر پوچھا۔
” میں ایک جن زادہ ہوں۔۔۔۔تمہاری دنیا میں سیر کرنے آیا تھا پر آتے ہی میرے ساتھ یہ سب ہو گیا۔۔۔۔ “
میں اس کی بات سن کے اچھل ہی پڑا تھا۔
“پر اگر تم جن زادے ہو تو اپنی ٹانگ جادو سے ٹھیک کیوں نہیں کر لیتے۔۔۔۔تمہیں میری مدد کی کیا ضرورت ہے”
میں نے کہا۔
” کیونکہ تمہاری دنیا کی سیر کو آنے کی یہی صورت تھی کہ میں اپنی طاقتیں اپنی دنیا میں چھوڑ کر آؤں۔۔ میں اپنے زخم نہیں بھر سکتا۔

یوآن ریڈلی سے مریم بننے تک کے سفر کی کہانی


پر ہاں کسی شک میں نہ رہنا اب بھی مجھ میں اتنی طاقتیں ہیں کہ میں تمھیں ہمیشہ کے لیے الو یا طوطا بنا سکتا ہوں۔”
میں اس کی باتیں سن کے ڈر گیا اور سوچنے لگا کہ الو بن کر بھلا میں کیسا لگوں گا۔
اور پھر اس نے کچھ ایسا کہا جس کو سن کر میرا منہ اتنا ہی کھل گیا کہ جس میں ایک پورا الو سما جائے۔
” میرے دوست صبح ہونے سے پہلے مجھے لینے آنے والے ہیں۔
اُن کے آنے سے پہلے مجھے یہ ٹانگ بدلنی ہوگی۔
تم مجھے کسی کی پنڈلی سمیٹ ٹانگ لا کر دو ۔۔۔”
اس کی بات پر میرے جسم میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔
” تمہیں کیا لگتا ہے یہاں جسمانی اعضاء کی سیل لگتی ہے میں کہاں سے تمہیں ٹانگ لا کر دوں؟”
میں اس جن سے ایسے ہی بحث کرنے لگا جیسے کبھی کبھی اپنی بیوی کی کسی مہنگی فرمائش پر کرتا تھا۔
” تو پھر میں تمہاری ٹانگ لے لوں گا۔۔۔۔یہ تو میری شرافت ہے کہ تمہیں ایک موقع دے رہا ہوں”
اس کی یہ بات سن کے میں بری طرح گھبرا گیا۔۔۔۔۔یہ تو میرے سر مصیبت پڑ گئی تھی اب میں کیا کرتا۔۔۔
میں نے ایک ترکیب سوچی۔۔۔۔اور اچانک کہا۔
وہ دیکھو تمہارے پیچھے کیا ہے۔۔۔۔۔
جیسے ہی اس جن کی توجہ ھٹی میں گویا سر پر پیر رکھ کر بھاگ اٹھا۔۔۔۔
اور موٹر سائیکل پر بیٹھا پر جانے اچانک کیا ہو گیا تھا کہ موٹر سائیکل اسٹارٹ ہی نہیں ہو رہی تھی۔
میں نے بار بار اسے سٹارٹ کرنے کی کوشش کی۔۔۔
پر جیسے اس میں کوئی جان ہی نہیں تھی میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ جن زادہ اپنی جگہ پر نہیں تھا جب میں سامنے کی طرف متوجہ ہوا تو میرا دل گویا میرے حلق کو آگیا۔
وہ میرے سامنے کھڑا تھا۔
” تمہیں کیا لگتا ہے مجھے بے وقوف بنانا اتنا آسان ہے۔۔۔۔۔۔
تم یہاں سے کہیں نہیں جا سکتے”.
جن کے چہرے پر چھائی وہ مسکراہٹ مجھے اس وقت زہر لگ رہی تھی۔
میں بہت بری صورتحال پھنس گیا تھا۔
ایک زخمی جن زادہ میری ٹانگ کا دشمن بنا کھڑا تھا اور میں کہیں بھاگ بھی نہیں سکتا تھا۔
وہ بضد تھا کہ میں اس کی بات مان لوں اور میں بھلا ایسی بات کیسے مان سکتا تھا۔
بہت سمجھایا اس کو پر وہ نہیں مانا۔
میں نے اس کو بہت واسطے دیے پر وہ نہیں مانا۔۔۔۔
میں نے اپنا مفلر اس کے زخم پر باندھ اور ایک بات سوچی۔
” دیکھو جن بھائی۔۔۔۔۔ تمہیں میری یا کِسی اؤر کی ٹانگ لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ہم اس ٹانگ کو ہی ٹھیک کروا لیں گے”
وہ حیران ہوا کہ کیا ایسا بھی ہوتا ہے۔
” ہاں کیوں نہیں جب ہم انسانوں کا کوئی جسمانی اعضاء زخمی یا خراب ہو جاتا ہے تو ہم اس کو ہی ٹھیک کروا لیتے ہیں
یہ تو بہت آسان ہے”
میں اس جن زادے کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ ڈاکٹر کے پاس لے گیا ڈاکٹر نے پٹی کی اور ایکس رے لکھ کردیا۔
ہم ایکس رے کروانے گئے تو وہاں پہلے سے ہی مریضوں کی لمبی قطار لگی تھی۔
مجھے تو لگتا تھا کہ دوچار گھنٹے تک ہماری باری نہیں آنی تھی
بہرحال حال میری نظر اپنے ماموں کے بیٹے پر پڑی جو وہاں کام کرتا تھا۔
اس سے سلام دعا کی اور کہا کہ کسی طرح ہمارا ایکس رے پہلے کروا دو۔
وہ مان گیا اور ہماری باری آگئی۔
جب جن زادہ ایکس رے مشین کے نیچے لیٹا تو ایکس رے مشین میں کچھ بھی نہیں آیا۔
آتا بھی کیسے یہ کسی انسان کا جسم تو تھا نہیں۔
وہ لوگ بار بار۔۔۔۔ایکس رے کرنے کی کوشش کرتے رہے مشین کو چیک کیا ایک شخص نے تو مشین کو زور دار دھکا دیا کہ شاید دھکے سے وہ چل جائے۔
میں نے مشین کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔کہ آج وہ پہلے سے ٹھیک مشین کو ٹھیک کرنے کی خاطر خراب کر دیں گے۔
پر مسئلہ مشین میں نہیں اس شخص میں تھا جو اس کے نیچے لیٹا تھا اور میں یہ بات کسی کو بتا بھی نہیں سکتا تھا۔
وہ سب اس نتیجے پر پُہنچے کہ ایکس رے مشین خراب ہو گئی ہے۔
اس لیے باہر بیٹھے سب گاہکوں کو یہ بتا کر معذرت کر لی کہ آپ کہیں اور سے ایکس رے کروا لیں۔
میں اُن کو روکتا بھی تو کیا کہہ کر۔۔۔
آخر ایسی بات کا یقین کون کرتا۔
میں تو اپنا سر پکڑ کر رہ گیا۔
اُنکے سب کے روز گار پر اس جن نے اپنی زخمی لاٹ دے ماری تھی۔
ہم وہاں سے نکلے۔۔۔
ہم ایک بازار سے گزر رہے تھے۔
اور وہ زخمی جن میرے پیچھے موٹر سائیکل پر بیٹھا تھا۔
” تم بھی عجیب انسان ہو۔۔۔ اتنے سارے لوگ ہیں یہاں کسی کی بھی ٹانگ کاٹ لو۔۔۔۔دوں کلہاڑی۔۔۔ ؟”
۔میں اس کی بات پر چونکا اور بریک لگائی۔
وہ آتے جاتے لوگوں کی ٹانگوں کو ندیدی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“وہ دیکھو۔۔۔ وہ ٹانگ مجھے پسند ہے”
یہ موصوف تو اپنے لیے ٹانگ ایسے پسند کر رہے رہے تھے جیسے کوئی اپنے لیے جوڑا پسند کرتا ہے۔
میں اسکو کیا سمجھاتا۔
اچانک اس کو پیاس لگ گئی میں اس کو ایک طرف کھڑا کر کے سامنے کی دکان سے پانی لینے گیا جاب واپس آیا تو وہ اپنی جگہ پر نہیں تھا۔
پہلے تو میں پریشان ہوا پھر سوچا مجھے کیا وہ کہاں مرضی جائے میرے لیے یہ موقع اچھا تھا میں بھاگ سکتا تھا پر اچانک میری نظروں نے کچھ دیکھا۔
جس کو دیکھ کر مجھے اس طرف جانا ہی پڑا۔۔۔۔۔
وہ موصوف ایک شخص کے پاس کھڑے بار بار اس کی ٹانگ کو دیکھتے ہوئے کچھ فرما رہے تھے۔۔۔۔
میں فوراً آگے بڑھا۔ اور جن سے پوچھا کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔
تو وہ شخص مجھے دیکھ کر بولا۔۔۔۔
” عجیب شخص ہے یہ کیسی باتیں کر رہا ہے کہتا ہے اپنی ٹانگ کتنے میں بیچو گے۔۔۔۔۔
کیا یہ کوئی مذاق ہے۔۔۔۔؟”
وہ آدمی تو بپھر سا گیا۔
مجھے اسے یہ سمجھانے میں 10 منٹ لگ گئے کہ یہ ایک پاگل ہے اور اکثر ایسی باتیں کرتا رہتا ہے۔۔۔
اس لیے اس کی باتوں پر توجہ نہیں دیں”
بہت مشکل سے معاملہ رفع دفع ہوا ۔
اور جن جی نے اپنی حرکت کا یہ جواز دیا کہ اس کو اس آدمی کی ٹانگ بہت پسند آگئی تھی۔
میں نے اسے ساتھ لیا اور
موٹر سائیکل کا رخ ایک پارک کی طرف موڑا جہاں اس وقت لوگ نہیں ہوتے تھے اور وہاں میں اپنا سر پکڑے بیٹھ گیا ۔
مجھے میری بیوی کی کال آئی وہ اپنے گھر پُہنچ گئی تھی اور یہی بتانے کے لیے کال کی تھی۔۔۔۔
میں نے بنا جن کی موجودگی کی پرواہ کیے اپنی بیوی سے اظہار محبت کرنا شروع کر دیا اور کہا کہ واپس آجائے۔۔۔۔
اور جواباً جو واپس آیا وہ ایک تلخ جواب تھا۔
” ایک تو تمہارے کاموں کی وجہ سے میں اپنے گھر نہیں آ سکتی اور اب جو اللہ اللہ کر کے آ ہی گئی ہوں تو تم مجھے واپس بلا رہے ہو۔۔۔
کوئی دیسی ٹھرا پی لیا ہے کیا۔۔۔۔۔
ہوش میں ہو۔۔۔۔
مجنوں بننے کی کیا پڑ گئی ہے۔۔۔۔پاگل واگل تو نہیں ہو گئے تم۔۔۔۔ “
اور میری بیوی نے کال بند کر دی میں سر جھکائے بیٹھا تھا۔
جب زخمی جن کی آواز پر چونکا۔
” تمہارے پاس صرف ایک گھنٹہ ہے جلدی کچھ کر لو ورنہ میرے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو جاؤ”
وہ پر سکوں انداز میں بولا تھا۔ اور میرا تو سکون برباد ہو چکا تھا۔
اس سے تو میں اپنی بیوی کے ساتھ ہی اچھا تھا کم از کم اس کے ساتھ مجھے اپنی ٹانگ کھو دینے کا ڈر تو لاحق نہیں تھا۔
میں سوچ رہا تھا کہ اب یہ مجھے اپنی دنیا میں لے جائے گا میری ٹانگ لے لے گا اور وہاں اگر کِسی اور کو کسی جسمانی اعضاء کی ضرورت ہوئی تو وہ ضرورت بھی مجھ سے پوری کی جائے گی۔
میں بری طرح گھبرایا ہوا تھا کہ میری آنکھوں نے کچھ دیکھا۔
اور میں نے اس زخمی جن سے اچانک کچھ ایسا کہا کہ وہ بھی حیران رہ گیا میں نے کہا تھا۔
” دو کلہاڑی۔۔۔ “
وہ حیران ہوا اور مجھے کلہاڑی دی۔۔۔میں ہمت کرتا ہوا سامنے کی سمت چل دیا۔
میں یہ کہاں جا رہا تھااور کیا کرنے جا رہا تھا نہیں جانتا تھا پر اس وقت اتنا ہی جانتا تھا کہ میں مرنا نہیں چاہتا تھا۔
میری بیوی کی زبان قنچی جیسی تیز اور میرے بچے جن کے بچوں سے بھی زیادہ شرارتی سہی پر میں اُن کو چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا تھا۔میں جس طرف جا رہا تھا
وہاں ایک بوڑھا فقیر سو رہا تھا۔
میں نے سوچا کہ اس کی ٹانگ کاٹ لیتا ہوں یہ ویسے بھی بوڑھا ہے فقیر ہے۔۔۔
مجھے اپنی جان بچانے کے لیے یہ کرنا ہی ہوگا۔
میرے ہاتھ کانپ رہے تھے وہ فقیر چادر کیے گہری نیند سو رہا تھا۔
اس کو نہیں پتہ تھا کہ میں اس کے ساتھ کیا کرنے والا تھا۔
۔میں نے ہمت کی اور۔
کلہاڑی کا ایک وار کیا اس کی ٹانگ ایک طرف جا گری میں ٹانگ اٹھا کر ایسے بھاگا جیسے بلی کا بچہ باورچی خانے سے بوٹی اٹھاکر بھاگ جاتا ہے۔
اور ٹانگ اس زخمی جن کی طرف اچھال کر اپنی سانسیں بحال کرنے لگا۔
میں نے ایک محاذ سر کیا تھا مجھے اب تک خود پر یقین نہیں آ رہا تھا پر میں خوش تھا کہ اب میری جان بچ جائے گی
کہ اس جن زادے نے وہ ٹانگ واپس میری سمت پھینک دی۔
میں نے اسے آنکھیں پھاڑ کر ایسے دیکھا جیسے میں اپنی بیوی کی طرف سے بل کی لسٹ تھامائے جانے پر اسے آنکھیں پھاڑ کر دیکھتا تھا۔
اور اس نے ناک بھی چڑھا رکھی تھی
” مجھے یہ ٹانگ نہیں چاہیے”
میں حیران رہ گیا کہ اس کے لیے میں نے کسی معصوم کی ٹانگ کاٹ ڈالی اور اس کو نخرے سوجھ رہے ہیں۔
” پر کیوں۔۔۔۔کیا خرابی ہے اس میں؟ کیا تمہیں کسی اور رنگ کی ٹانگ چاہیے یا اس پر کوئی گوٹا کناری لگی ہوئی چاہیے۔۔ یا پھر پر میڈ ان جاپان لکھا ہونا چاہیے۔۔۔
بولو۔۔۔۔”
میں تو باقاعدہ اسے ڈانٹے لگا تھا۔
اور جو اس نے کہا وہ سن کر میں حیران رہ گیا۔
” کیونکہ یہ ٹانگ لکڑی کی ہے”زخمی جن نے کہا اور میرے قدموں تلے سے زمین نکل گئی۔
تبھی ٹانگ کٹ جانے کے باوجود بھی بوڑھے فقیر کے منہ سے نہ تو آہ برآمد ہوئی تھی نہ اس کی نیند میں خلل پڑا تھا۔
میں اپنا سر پکڑ کر رہ گیا۔
” تمہارا ٹائم ختم ہو گیا ہے۔۔۔۔میرے دوستوں نے میری راہ پا لی ہے۔۔۔۔
میں نے تمہیں اپنی جان بچانے کا پورا موقع دیا۔۔اب تمہارے پاس مجھ سے شکایت کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں ہے۔
میں نے تمہیں پورا موقع اور وقت دیا تھا۔
پر شاید تمہارے ساتھ یہی ہونا لکھا تھا۔”
جن زادے نے گویا میری موت کا فرمان جاری کر دیا تھا۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
وہ مجھے ساتھ لئے ایک سمت جانے لگا۔
میری ٹانگیں کانپنے لگی۔۔۔
کیا یہ سب سچ میں ہو رہا تھا۔
کہ اچانک میں نے کیا دیکھا کہ
آسمان میں ایک سفید ہیولا سا بننے لگا تھا اور مجھے میری موت صاف نظر آ رہی تھی کہ۔
میری آنکھوں میں کچھ دیکھا اور میں حیران رہ گیا۔۔۔۔
کچھ پل بعد اس نے ایک ہاتھ اس ہیولے کی طرف بڑھایا اور ایک ہاتھ میری طرف۔۔۔
مطلب تھا چلو میرے ساتھ۔
میں نے گہری سانس لی اور کلہاڑی پر اپنی گرفت مضبوط کر کے ایک لمبی آہ بھری اور اگلے ہی پل
میں نے ایک ٹانگ اس جن زادے کے ہاتھ میں تھما دی اور وہ مجھے تشکر بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔وہ یہی سوچ رہا تھا کہ عین موقع پر میں نے اس کو اپنی ہی ٹانگ کاٹ کے دے دی ہے۔
اور ساتھ جانے کے عذاب سے خود کو بچا لیا۔
پر مجھے یقین ہے کہ راستے میں اس کو ضرور کچھ شبہ ہوا ہوگا کہ ٹانگ اس پر فٹ نہیں ہے۔
شاید وہاں جا کر اس کے دوستوں نے جب اُسے دیکھا ہوگا تو اس کی فیشن کی سینس پر کھل کر ماتم کیا ہوگا۔
کیونکہ میں نے اسے اپنی ٹانگ کاٹ کر نہیں دی تھی بلکہ قریب پرے ایک مردے گدھے کی ٹانگ کاٹ کر اس جن زادے کو تھما دی تھی۔
اس واقعہ کے بعد میں بھی اپنے سسرال چلا گیا اپنی بیوی کے لیے تحائف لے گیا۔
کیونکہ میں جان گیا تھا کہ میری بیوی لاکھ وبال جان سہی پر پھر بھی وہ اس زخمی جن سے بہتر تھی۔
اب جب بھی میری بیوی سسرال جاتی ہے میں بھی اُسکے ساتھ چلا جاتا ہوں ۔
بھلے ہی وہاں مجھے اپنی ساس کا بنایا بد مزا کھانا کھانے کو ملے۔۔۔
میرے سسر مجھے 1965 کی جنگ میں اپنی بہادری کے قصے مجھے ہزار بار سنانے کے باوجود بھی ایک ہزار ایک بار پھر سے سنانے بیٹھ جائیں۔۔ میرا سالہ مجھے بینک سمجھ کر پیسے مانگے یا میری چھوٹی سالی دن رات کی بک بک کر کے میری کان کھائے۔
پر میرے لئے تو وہی گھر میری جنت ہے۔
کیونکہ مجھے یقین ہے کہ وہاں کوئی جن بھی داخل ہونے سے پہلے ہزار بار سوچے گا۔
اس لیے میں جانتا ہوں کہ میں جتنا اس جگہ محفوظ ہوں اتنا اور کہیں محفوظ نہیں ہو سکتا۔۔۔
پر یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ کبھی کوئی میری طرح خوش نہیں ہو جیسے میں اس رات خوش تھا ویسے تو بالکل بھی نہیں کیونکہ کِسی کی خوشیوں کو نظر لگتے دیر کہاں لگتی ہے۔

زخمی جن کیسی لگی کمنٹ باکس میں ضرور کمنٹ کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں