379

ســـب ســـے زیـــادہ بـــابـــرکـــت ایـــام

تحریر شئیر کریں

سب سے زیادہ۔بابرکت ایام اور ان کی فضیلت

ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی پانچویں فضیلت یہ ہے کہ یہی وہ ایام ہیں جن میں ہر قسم کی عبادات جمع ہیں۔ ان دنوں میں کلمہ شہادت کے اقرار، تجدید ایمان اور کلمہ کے تقاضوں کی تکمیل کا بھر پور موقع ہے۔ ان دنوں میں صلاة پنجگانہ اور دیگر نفلی صلوات بھی ہیں، ان دنوں میں صدقہ و زکاۃ کی ادائیگی کا موقع بھی ہے۔ ان دنوں میں صوم کی عبادت بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ یہ دن حج و قربانی کے دن تو ہیں ہی، البتہ حج و قربانی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ صرف انھیں دنوں میں ادا کئے جاسکتے ہیں دیگر ایام میں نہیں۔ ذکر و دعا اور تلبیہ پکارنے کے بھی یہ ایام ہیں۔

ہر قسم کی عبادت کا ان دنوں میں اکٹھا ہو جانا یہ وہ شرف و اعزاز ہے جو ان دس دنوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس اعزاز میں اس کا کوئی اور شریک نہیں۔

ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ یہ وہ ایام ہیں جن کا ایک ایک لمحہ، ایک ایک منٹ اور سیکنڈ انتہائی قیمتی ہے۔ ان دنوں میں اللہ رب العزت کی طرف سے اعمال صالحہ کی شدید محبوبیت کا اعلان عام ہے، یہ وہ خصوصی پیشکش (اسپیشل آفر) ہے جو سال کے بقیہ دنوں میں حاصل نہیں ہے، یہ نفع کمالینے کا موسم ہے، یہ نیکیوں میں مقابلہ کرنے کا وسیع میدان اور سنہرا وقت ہے۔

عبد اللہ بن عباس ؓکی روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:*

مَا الْعَمَلُ فِي أَيَّامٍ الْعَشْرِ أَفْضَلَ مِنْهَا فِي هَذِهِ، قَالُوا: وَلَا الْجِهَادُ، قَالَ: وَلَا الْجِهَادُ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ يُخَاطِرُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ*

عشرة ذوالحجہ میں کئے گئےعمل صالح اللہ کو جس قدر زیادہ محبوب ہیں اتنا کسی اور دن میں نہیں۔ صحابہ اور مومنین نے دریافت کیا: حتی کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی اتنا پسندیدہ نہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنا جان ومال لے کر نکلا لیکن کچھ بھی لے کر واپس نہیں ہوا۔

صحیح بخاری ( 969 )

حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں کے نیک اعمال سے بقیہ دنوں کے کسی عمل کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا حتی کہ جہاد سے بھی نہیں جس کے فضائل معروف و مشہور ہیں، نہ جانی جہاد سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور نہ مالی جہاد سے۔ اور نہ بیک وقت دونوں جہاد سے اگر آدمی کی جان یا مال کچھ بھی سلامت رہ گئے۔ البتہ جو شخص جان و مال دونوں لے کر اللہ کی راہ میں نکلے اور پھر کچھ بھی لے کر واپس نہ ہو، سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کر دے اور اپنی قیمتی جان اللہ کی راہ میں قربان کرکے شہید ہو جائے۔ یہی تنہا وہ شخص ہے جو ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں نیک اعمال سے اپنا خزانہ معمور کرنے والے کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

ذرا غور کریں کہ اس کی ہمت اور ایسا موقع کس میں ہے کہ سارا جان و مال اللہ کی راہ میں قربان کر دے؟؟ اس کے مقابلہ میں یہ کس قدر آسان ہے کہ اللہ کی طرف سے دیئے گئے اس خصوصی پیشکش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عشرہ ذوالحجہ میں اعمال صالحہ کے ذریعہ اپنادامن مراد بھر لیاجائے۔!!*

نیز حدیث میں ہے جابر ؓ کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا*

عن جابرؓ قال قال رسول اللهﷺ : أفضل أيام الدنيا أيام العشر*

دنیا کے ایام میں افضل ترین ایام ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔

📚 | [ صحیح الجامع
الصغیر ( 1133 *

ســـب ســـے زیـــادہ بـــابـــرکـــت ایـــام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں