268

سورہ عصر: انسانیت کی نجات کے لیے کافی”

تحریر شئیر کریں

سورہ عصر کا مطلب وقت یا عہد ہے۔ یہ قرآن کی ا ایک اہم سورہ ہے جو قیامت کے دن کے اہمیت اور انسان کی زندگی کے لئے راہنمائی فراہم کرتی ہے۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے اس سورہ کی اہمیت کو سمجھا اور ان کے مطابق” اگر صرف سورہ عصر نازل ہوتی تو بھی کافی ہوتی “۔ اس سورہ میں انسانیت کی بنیاد کو مد نظر رکھتے ہوئے زندگی کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا ہے۔

سورہ عصر میں وقت کی اہمیت، ایمان لانے والوں کی طرف سے عمل کی ضرورت، ایک دوسرے کو حق بات کرنے اور صبر کرنے کی ترغیبات شامل ہیں۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا کہنا تھا کہ اگر انسان صرف اس سورہ کی چار باتوں پر عمل کر لے تو اس کی نجات ممکن ہے۔

ایمان لانا
اس پر عمل کرنا
حق کی وصیت
صبر کی وصیت

ہ اگر ہم درج بالا ان چار باتوں پہ عمل کر لیں تو ہمیں دنیا و آخرت میں فلاح و نجات ملے گی۔ اس سورہ کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں شامل کر کے ہم انسانیت کی بنیاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک بہترین انسان بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے
رزق میں کشادگی کی دعائیں

سورہ کہف کی ضرورت و اہمیت

اگر غور کریں تو نیکی ہو یا بدی دونوں راستوں پہ چلتے ہوئے ہمیں ان چاروں منزلوں سے گزرنا ہوتا مثلا ایک چور جب چوری شروع کرتا تو اسے یقین ہوتا کہ یہ اس کے لیے ٹھیک ہے مطلب ایمان لاتا پھر عمل کرتا یعنی باقاعدہ چوری کی واردات کرتا پھر دوسروں کو وصیت کرتا کہ آو دیکھو کتنا فائدہ اور اگر پکڑا جاتا تو چھترول کی صورت میں صبر بھی کرتا
نیکی کے راستے میں۔بھی یہی چاروں پڑاو آتے ہیں تو کیوں نا اس راستے پہ چلیں جس کی منزل خوبصورت ہے سورہ عصر: انسانیت کی نجات کے لیے کافی”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں