شب معراج کیا کرنا چاہیے؟
شب معراج انسا نیت کے کمال کی داستاں ہے اس رات انسانیت اپنے کمال کو پہنچی۔اللہ اپنے بندے کو زمین سے اٹھا کر آسمان کی رفعتوں سے بھی آگے لے گیا۔اتنا آگے کہ جہاں فرشتے بھی نہیں جا سکتے۔کیا اس سے بڑا کمال ہو سکتا۔پھر اسی پہ بس نہیں کیا اللہ نے انسان کو اتنا بڑا تحفہ عنایت کیا۔کہ جو لوگ یہاں تک نہیں آسکتے مگر ان کے لیے یہ تحفہ معراج سے کم نہیں۔میں سوچتی ہوں اس تحفے کے لیے اللہ نے اپنے پیارے نبی کو عرش تک کیوں بلوایا۔تاکہ اس کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔مگر افسوس صد افسوس ہم معراج کے اس تحفے کو بھلاۓ کسی نئ عبادت کسی نۓ وظیفے کے منتظر ہیں۔جس سے ثواب دارین حاصل کر سکیں۔نماز وہ تحفہ ہے جسے یہ امت بھلا چکی ہے۔بہت کم نمازی ہیں جو نماز کی روح سے واقف ہیں۔جو نماز پڑھتے نہیں بلکہ قائم کرتے ہیں۔
یہودیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ باقاعدہ مسلمانوں کی صبح کی نماز کی صفیں چیک کرتے رہتے ہیں کیونکہ انکی کتابوں میں لکھا ہے کہ جس دن مسلمانوں کی صبح کی صفیں جمعے کی صفوں کے برابر ہوں گئیں مسلمان کا عروج شروع ہو جاۓ گا۔کتنی فکر ہے ان کو اپنے عروج کے کھو جانے کی۔اور ایک ہم ہیں عروج تک لے جانے والی سیڑھی ہی گنوا بیٹھے ہیں۔حدیث مبارکہ ہے اسلام کی کڑیاں ایک ایک کرکے ٹوٹنا شروع ہوجائیں گیں خلافت پہلی کڑھی ہوگی جو ٹوٹے گی اور نماز آخری کڑی۔خلافت 3 مارچ 1924 میں ٹوٹ چکی اسکے 98 سال بعد نماز آخری کڑی بھی ٹوٹ گی۔۔2020 وہ سال ہے جس میں کرونا کی وجہ سے نمازوں کی کڑی ٹوٹی۔لوگوں نے مساجد جانا چھوڑ دیا۔کیونکہ انھیں ایسا کرنے پہ مجبور کر دیا گیا۔اور تو اور حرم شریف میں بھی گنتی کے چند لوگ یہ فریضہ سرانجام۔دے رہے تھے۔حج اور عمرہ تک موقوف کر دیا گیا۔حج اور کئ موقع پر موقوف ہوۓ مگر نماز کا کیاکریں جس کا ٹوٹنا کوئی چھوٹا سانحہ نہیں۔۔اس کے بعد کیا ہوگا؟سوچتے ہوۓ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔احادیث میں واضح طور پر بتا دیا گیا کہ جب نماز جو کہ آخری کڑی ہے ٹوٹے گی تو مدینہ کی ویرانی ہوگی اور ہروشلم کی آبادی ہوگی۔یعنی جنگوں کا اغاز ہوگا۔تباہی ہوگی۔خون بہے گا۔
فکر کریں یہ کڑی کیوں کھو گئ؟کیا ہمارے اعمال کی سزا؟یا معراج کی رات جو تحفہ اللہ نے عنایت کیا اسکی بے قدری کی سزا؟توبہ کے دروازے ابھی کھلے ہیں۔سورج مغرب سے طلوع نہیں ہوا۔آپ کی اور میری جان ابھی حلق میں نہیں اٹکی۔۔۔ابھی ہمارے پاس وقت ہے۔نمازوں سے جڑ جائیے۔مساجد کو آباد کیجیے۔نماز کی روح کو پہچانیں ۔موذن کی پہلی پکار پہ مسجدوں کی طرف بھاگیے۔ابھی اذان بلند ہو رہی ہے اس سے پہلے کہ وہ وقت آ جاۓ جب آپ کی نماز پڑھ دی جاۓ۔
شب معراج کی رات کیا پڑھیں ؟یہ وہ سوال ہے جو ہر سال شب معراج کے موقع پر لوگ پوچھ رہے ہوتے۔میں بھی ہر سال سوچتی کہ لوگ کیوں پوچھتے ہیں جبکہ قرآن وسنت سے کسی قسم کی عبادت ثابت نہیں ہے۔تو آج ان سب لوگوں کے لیے صرف اتنا کہوں گی کہ صرف آج کی رات نماز کی روح پر غور کیجیے۔نماز پڑھتے ہیں تو ویل اینڈ گڈ۔۔نہیں پڑھتے تو اس کے پڑھنے کا اہتمام کیجیے۔اس کی گہرائی میں جائیے۔معنی سیکھیے۔نماز آپ نے بچپن میں سیکھی ۔۔اسکے بعد کبھی اس کو دوبارہ سیکھا۔سوچا کہ کہیں کوئی غلطی نا رہ گئ ہو اس کو سدھار لیں۔قل ھو اللہ احد کے علاوہ بھی کبھی قرآن نماز میں پڑھا۔نہیں پڑھا تو اسے پڑھنے کی عادت ڈالیے۔تسبیحات سیکھیۓ۔۔سبحان اللہ العظیم اور سبحان ربی العلی کے علاوہ بھی تسبیحات ہیں جن سے اللہ کا قرب حاصل کیا جا سکتا۔کبھی سوچا کہ تسبیحات کو تین سے آگے بھی بڑھا کے دیکھ لیں۔