502

شوگر کے مریض روزه کیسے رکھیں؟

تحریر شئیر کریں

شوگر کے مریض روزہ کیسےرکھیں؟جانیے قلم کتاب پر

رحمتوں اور برکتوں والا مهینه همارے سروں پہ سایه فگن هے۔ایسے میں هر مسلمان کی خواهش هوتی هے که وھ زیاده سے زیاده برکات سمیٹے۔ایسے لوگ جو شوگر کے مریض هیں اور روزه رکھنے کے خواهش مند بھی هیں۔وہ کیسی تدابیر اختیار کریں که روزه رکھ سکیں۔
شوگر کے کون سے مریض بالکل روزه نا رکھیں؟
وہ لوگ جو انسولین پہ ہیں یا ٹائپ ون کے مریض هیں۔ان کے لیے انٹرنیشنل ڈایبٹکس آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ وہ روزہ نا رکھیں اگر وه روزه رکھتے هیں تو یه هلاکت میں ڈالنا هے کیونکه جب انسولین لگا رهے هوتے تو اتنی دیر تک خالی پیٹ رهنا مناسب نهیں۔
1۔ ایسے شوگر کے مریض جو بوڑھے هیں۔
3۔اور ایسے مریض جو اکیلے رهتے انکی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نهیں۔
۔۔۔پھر بھی اگر کوئی روزہ رکھنا چاہتا تو رمضان سے پهلے اپنی ڈوز سیٹ کرے اور شوگر کنٹرول کریں پهر ڈاکٹر کے مشورے سے روزه رکھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
کون سے مریضوں کو روزه رکھنے کی اجازت هے؟

یہ بھی پڑھیے

شوگر اور روزہ

ایسے مریض جو دوائیوں په هیں وه روزه رکھ سکتے هیں۔۔ان کو ضرور روزه رکھنا چاهیے۔روزہ شوگر کنٹرول کرنے میں بهت معاون ثابت هو سکتا هے۔اگر احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔
۔۔۔۔۔
کتنی بار شوگر چیک کریں؟

شوگر کے مریضوں کے لیے لازم هے که وه دو سے چار مرتبه ضرور شوگر چیگ کریں۔
۔شوگر چیک سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔اس پہ فتاوی موجود ہیں.شوگر چیک کے اوقات سحری سے پهلے اور افطاری کے دو گھنٹے بعد ضرور چیک کریں۔
۔۔۔۔۔
شوگر لیول کتنا ہونا چاہیے؟
شوگر لیول کھانے سے پہلے 1یک سو بیس تک اور کھانے کے بعد سو سو زیادہ نا ہو تو ٹھیک هے۔
۔۔۔۔۔
شوگر کتنی ہو تو روزہ توڑ دینا چاهیے؟
اگر ستر یا ستر سے لو ہو تو روزہ توڑ دیں اور تین سو سے اوپر هو تب بھی توڑ دینا چاهیے۔۔یہ معیار انٹرنیشنل ڈائبیٹک کے مطابق ہے۔
۔۔۔۔
جو لوگ انسولین پہ ہیں مگر شوگر کنٹرول هےایسے مر یض روزه رکھیں مکر سحری میں نا انسولین لکائیں اور نا هی دوا کھائیں بلکه افطاری میں ڈوز سیٹ کریں۔
نوٹ یه تمام تدابیر ضرور اختیار کریں مگر اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں