غیبت کیسے ترک کی جائے ؟جانیے قلم کتاب پر
آشفاق احمد سے کسی نے پوچھا لوک غیبت کیوں کرتے ہیں؟کہنے لگے اس لیے کہ ان کے پاس کرنے کو کوئی اور بات ہی نہیں ہوتی۔
غیبت کی ایک بڑی وجہ موضوع کا نا ہونا ہے اور دیسی پن ہے۔ہماری عورتیں اور اب مرد بھی اس کبیرہ گناہ۔میں مشغول پائے جاتے ہیں۔تو جانیے وہ ٹپس جن۔سے ہم اس گناہ کبیرہ سے بچ سکتے ہیں۔
جو لوگ غیبت سے باز نہیں آتے ان کی کمپنی میں بیٹھنے سے گریز کریں۔ اگر بیٹھنا ضروری ہے تو کسی انسان کی غیبت ہونے پہ بلا جھجک منع کر دیا کریں۔ اس انسان کا دفاع کریں، اس کی تعریف کریں یا وہاں سے اٹھ جائیں۔
اگر غیبت کی محفل سے اٹھ نہیں سکتے تو اللہ کی ناراضگی کے خوف سے اتنی جرأت کرنے کی عادت ڈالیں کہ کہہ سکیں “میں کسی کی برائی نہیں کرنا چاہتا۔ میں وضو سے ہوں۔” خود کو ہر وقت باوضو رکھیں تاکہ یہ بات کہہ سکیں۔
خود کو ایسا بنائیں کہ لوگ آہستہ آہستہ خود ہی آپ کے سامنے احتیاط سے بات کریں کیونکہ ان کو معلوم ہوگا کہ آپ غیبت نہ کریں گے نہ سنیں گے۔ لوگوں کی ناراضگی سے نہ ڈریں۔ لوگوں کو آپ کی ناراضگی کی فکر ہونی چاہیے۔
اپنے دل کو لوگوں کے بعض سے پاک کر کے۔
دل کو پاک کرنے کے لیے خیالات کو پاک کرنا ضروری ہے۔
جب کسی کے خلاف دل میں نفرت آئے تو اس خیال کو گزر جانے دیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کون آپ کے ساتھ اچھا نہیں ہے، لیکن اس کی برائی کو زیادہ سوچنے سے گریز کریں۔
اگر کسی کو منع نہیں کر سکتے تو اس شخص کا دفاع کریں۔ اللہ آپ کی غیر موجودگی میں آپ کے لیے اپنی طرف سے دفاع کرنے والا بنائے گا۔ انسان کی نیکی گھوم پھر کے اس کے پاس واپس ضرور آتی ہے۔
خاموش رہنا سیکھیں۔ ہر چیز شئیر نہیں کرنی چاہیے۔ ہر خوشی، ہر غم شئیر کرنے سے بچیں۔ کوئی نعمت ملے تو اس کو فوراً مشہور نہ کیا کریں۔ باتیں اپنے اندر رکھنے کی عادت ڈالیں۔ یوں غیبت کم ہو جائے گی۔
لوگوں کو مارجن دیں۔ ان کو سمجھنے کی کوشش کیا کریں۔ ان کو شک کا فائدہ دیا کریں۔ کوئی عذر پیش کرے تو اس کا عذر قبول کریں۔ جتنا آپ لوگوں کے حالات سمجھنے کی کوشش کریں گے، اتنا آپ کی زبان ان کی برائی سے رک جائے گی۔
کسی دوسرے کی غیبت کے دوران خاموشی بھی غیبت میں شمولیت ہے۔ اس سے بچیں۔
آپ اس گناہ سے تب ہی بچیں گے جب غیبت کرنے والے کو منع کریں یا جس کی غیبت ہو رہی ہے، اس شخص کا دفاع کریں۔
کتابیں پڑھیں اگر غیبت سے۔بچنا چاہتے۔جی ہاں جو۔کتابیں پڑھتے ان کے پاس ڈسکس کے لیے آئیڈیاز ہوتے ہیں لوگ نہیں۔غیبت کیسے ترک کی جائے۔جواب آیا کتابیں پڑھ کر