301

مچھر کی مثال قرآن میں

تحریر شئیر کریں

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“بیشک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ کوئی مثال بیان کرے، خواہ مچھر کی ہو یا اس سے بڑھ کر کسی چیز کی۔”

(سورۃ البقرہ: 26)

یہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی نشانیاں بیان کرنے کے لیے چاہے چھوٹی سے چھوٹی مخلوق کی مثال دے، اس میں بھی بے شمار حکمتیں چھپی ہوتی ہیں۔

اگر ہم مچھر کی تخلیق پر غور کریں تو یہ اللہ کی قدرت کا عظیم شاہکار ہے۔ الیکٹران مائیکروسکوپ کے ذریعے تحقیق سے معلوم ہوا کہ مچھر کے سر پر 100 آنکھیں، منہ میں 48 دانت اور ہر پر کے لیے ایک الگ دل موجود ہوتا ہے۔

مچھر کے سینے میں ایک مرکزی دل ہے اور ہر دل میں ایٹریئم، وینٹریکل اور دو ڈایافرام ہوتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مچھر کے پاس ایک تھرمل ریسیور ہوتا ہے، جو ہزارویں درجہ حرارت تک کی حرارت کو محسوس کر کے اندھیرے میں بھی اپنے شکار تک پہنچ جاتا ہے۔

مزید یہ کہ مچھر کے پاس خون کا تجزیہ کرنے والا آلہ، بے ہوشی کرنے والا آلہ اور خون کو مائع کرنے والا آلہ بھی ہوتا ہے۔ مچھر چھ ننھے چاقو استعمال کرتا ہے، جن میں سے چار مربع شکل کا زخم بناتے ہیں اور دو اسے خاص انداز میں سیل کر دیتے ہیں۔

مچھر کی ٹانگوں پر پنجے اور بھنویں بھی موجود ہیں، جو اسے بیٹھنے اور متوازن رہنے میں مدد دیتی ہیں۔

یہ سب نشانیاں بتاتی ہیں کہ اللہ کی ہر مخلوق میں عظمت چھپی ہے۔ قرآن میں مچھر کا ذکر ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے کہ کس طرح چھوٹی سی مخلوق میں بھی بے مثال نظام چھپا ہوا ہے۔

—

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں