پاور فل اذکار کون کون سے ہیں؟
الا بذکر اللہ تطمئن القلوب
یاد رکھو دلوں کا اطمینان اللہ کی یاد میں ہے۔
فی زمانہ جو الفاظ ہماری زندگی کی ڈکشنری میں بہت نایاب ہیں۔ان میں سے ایک سکون اور اطمینان بھی ہے۔سکون اور اطمینان ایسی حالتیں ہیں۔جن کے بارے میں بڑے دلچسپ مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔بس دیکھنے والی آنکھ ہونی چاہیے۔دیدہ بینا۔کبھی کبھی لوگ محلوں میں بھی سکون کو ترستے ہوۓ ملیں گے اور کبھی کبھی جھگیوں میں بھی لمبی تان کربے فکری کی نیند سونے والے بھی۔یہ سکون و اطمینان عطا ہے میرے رب کی،جس کو چاہے نواز دے۔اب سوال یہ ہے کہ اللہ کن کو نوازتا ہے۔قرآن کہتا ہے۔آگاہ رہو دلوں کا اطمینان اللہ کی یاد میں ہے۔جبکہ ہم اسے دنیا اور مادی لذتوں میں ڈھونڈتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
کہا جاتا ہے ہر لذت کی ایک حد ہوتی اس کے بعد وہی چیز بد مزا ہو جاتی۔لذیز سے لذیذ کھانا بھی جب بھوک ختم ہو جاۓ،پیٹ بھر جاۓ تو بے مزا لگنے لگتا۔یہی معاملہ دیگر لذتوں کا بھی ہے۔صرف اللہ کی یاد وہ لذت ہے جو جتنا زیادہ ہو اتنا مزہ دیتی۔۔۔تو کیوں نا اپنا مائنـڈ سیٹ بدل ڈالیں۔۔۔لذت صرف اور صرف اللہ کی یاد میں ہے۔دنیا کی سب راحتیں وقتی اور ختم ہو جانے والی۔۔ایک رب ہے جو ہمیشہ رہے گا ۔۔۔تو کیوں نا اسی سے لو لگائیں۔
۔۔۔۔۔۔
اللہ کا ذکر کیسے کیا جاۓ؟
۔۔۔۔الا بذکر اللہ تطمئن القلوب
۔
اللہ کے ذکر کا بہترین طریقہ وہ ہے جسے نبی کریم ﷺ نے اپنایا۔ان کی زبان سے نکلے پوۓ الفاظ سند کی حثیت رکھتے ہیں۔جن کی قبولیت میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔تو بہتر یہی ہے کہ سنت رسول سے اذکار ڈھونڈیے ۔۔۔۔
صبح و شام کے اذکار
صبح و شام کے اذکار عام دعاوں کی کتابوں میں مل جاتے ہیں۔ان پر باقاعدگی سے عمل کرنے سے انسان ایک مضبوط قلعے میں آجاتا ہے۔جسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
استغفار اور صبح وشام کی دعاؤں کو اپنی زندگی کا معمول بنا لیں۔یقین جانیے زندگی ویسی نہیں رہے گی جیسی اس سے پہلے تھی۔
پاور فل اذکار
وہ اذکار جو مسنون بھی ہیں اور قرآنی دعائیں بھی۔۔۔بہت پاور فل ہیں۔آج انہی پہ بات ہوگی۔
لا الہ الا للہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شی ء قدہر٠
یہ زکر صبح وشام کی دعاؤں میں بھی شامل ہے۔اس کی بہت تاثیر دیکھنے میں آئی ہے۔کوشش کریں ہر نماز کے بعد جتنا آپ سے ہو سکے اس کا ورد کریں۔اسے پرانے سے پرانے جادو میں بھی اکسیر دیکھا گیا ہے۔زندگی چلتے چلتے کہیں پھنس جاۓ تو اس زکر سے مدد لیجیے۔یقینا افاقہ ہوگا۔
۔۔۔۔
رضیت باللہ ربا و بحمد النبیا و بالاسلام دینا
۔۔۔۔
میں راضی ہوا اللہ کے رب ہونے پر ،محمدﷺ کے نبی ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر”
ہر حال میں راضی برضا ہونا ایک مومن کی شان ہے۔اللہ ہم سے یہی چاہتا ہے کہ ہم اسکی تقدیر پہ راضی رہیں۔یقینا اس نے جو بھی لکھا کمال لکھا۔اگرچہ ہم مانیں یا نا مانیں یہ ہماری کم فہمی ہے۔کبھی اس ذکر کو جو صبح وشام کی دعاؤں میں ہے خود پہ طاری کر کے سمجھ کے پڑھیں۔یقین جانیے۔کوئی غم کوئی فکر آپ کے دماغ میں نهیں رهے گی۔سکون کی کمی ہوں تو آنکھیں بند کر کے اللہ سے عہد کریں۔میں راضی ہوا تیرا رب ہونے پر۔۔۔۔کیا کمال کی کیفیت ہوگی۔۔کر کے دیکھیں۔
۔۔۔۔۔
لاالہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین٠
۔۔۔۔۔۔۔
آیت کریمہ بہت مقبول آیت ہے قرآن کی اور حضرت یونس علیہ السلام کے مچھلی کے پیٹ سے باہر آنے کا واحد سبب بھی۔روایت میں آتا ہے کہ اگر وہ یہ الفاظ نا پڑھتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔کہا جاتا ہے کہ ان الفاظ کے ساتھ جو حضرت یونس کی دعا بنے۔دعا کی جاۓ تو ضرور قبول ہوتی ہے۔کوئی بھی مشکل ہو اس کا ورد اکسیر ہے۔
۔۔۔۔۔۔
لا حول ولا قوتہ الا باللہ
۔۔۔۔۔
نہیں ہے کوئی قوت سواۓ اللہ تعالی کی قوت و طاقت کے”
دل و دماغ کو اس سچائی پہ آمادہ کیجیے۔پھر کوئی سپر پاور کوئی جھوٹا خدا کوئی باطل نظام آپ کو پسپا نہیں کر پاۓ گا۔
لا حول ولا قوته ۔۔۔عرش کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔اس کے پڑھنے والے سے سو رنج دور ہوتے ہیں جن میں سے کم ترین غم فقرو فاقہ ہے جس سے آج کل دنیا کی اکثریت مبتلا ہے۔
میرے ایک استاد جو علمی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔انھوں نے بتایا کہ میرے والد صاحب لا حول ولا قوتہ الا باللہ کا ورد کیا کرتے تھے۔ایک رات انھوں نے خواب دیکھا کہ ان کا آدھا جسم ان کے ساتھ نہیں ہے۔خواب کی تعبیر یہ بتائی گئ کہ آدھا جسم سے مراد معاشی فکر ہے۔جو ان سے ہٹا لی گی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہم سارے بہن بھائی اعلی تعلیم یافتہ ہیں جبکہ ہمارے والد صاحب کچھ بھی نہیں کرتے تھے۔ہمیں نہیں پتہ ہماری ضرورتیں کہاں سے پوری ہوتیں تھیں۔لا حول و لا قوتہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا ورد ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔یہ اللہ قسمت والوں کو عطا کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
سورہ طلاق کی 3 سے 5 نمبر آیت
من یتق اللہ یجعل لله مخرجا٠و یرزقه من
حیث لا یحتسب٠من یتوکل علی الله فھو حسبه۔ان اللہ بالغ امرہ۔قد جعل اللہ لکل شیء قدرا٠
۔۔۔۔۔۔۔
بہت ہی پاور فل اور آزمودہ ذکر ہے۔جس کسی کو بھی بتایا گیا جس کسی نے بھی صدق دل سے کیا۔اللہ کے حکم سے اسے ضرور فائدہ ہوا ہے۔
دیکھنے میں آیا ہے کہ اللہ غائب سے ایسے اسباب پیدا فرماتا ہے کہ انسان حیران و پریشان رہ جاتا ہے۔رزق کی کمی میں یہ ذکر اکسیر ہے۔اور اگر اس آیت پر عمل کر لیا جاۓ تو معجزے رونما ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
اللھم استر عوراتی و امن روعاتی
۔۔۔۔
اے اللہ میرے عیبوں کو ڈھانپ دے اور اور بے چینیوں کو قرار دے۔۔۔
سخت سے سخت وقت ہو،کلیجے منہ کو آن پہنچے ہوں۔تو اس زکر کو پڑھیے۔۔۔لمحوں میں دل کی حالت بدل جاۓ گی۔شدید ڈپریشن اور کسی عیب کے ظاہر ہونے کی ٹینشن پر اس کو پڑھیے۔
۔۔۔۔
یا ذولجلال والاکرام بید ک الخیر
۔۔۔۔۔۔
اے ذوالجلال ولاکرام ساری بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں۔
۔۔۔
شدید دل کی تنگی،گھبراہٹ میں پڑھیے۔
دل کی بیماریوں میں سرفہرست نفاق کی بیماری ہے۔اور نفاق ایسی بیماری ہے جو ایمان کو کھا جاتی ہے۔بہت ہی خطرناک بیماری۔۔۔اس بیماری سے دلوں کو بچائیے۔۔مسنون دعا
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔اللھم طہر قلبی من النفاق وعملی من الریای و لسانی من الکذبی و عینی من الخیانتی۔فانک تعلم خائنتہ الاعین و ما تخف الصدور٠
۔۔۔۔پاور فل اذکار کون کون سے ہیں؟