388

کرونا وائرس اور اعتکاف

تحریر شئیر کریں

اس وقت پوری دنیا کو عالمی وبا کا سامنا ہے۔ اس وبا سے جهاں بهت سے مسائل سامنے آۓ ہیں وهی ان میں سے ایک اعتکاف کا مسئلہ بھی هے۔


جیسا کہ مساجد جزوی طور پر بند ہیں ایسے میں گھر میں اعتکاف کیا جا سکتا یا نهیں؟

اعتکاف مساجد میں هوتا هے جس کی دلیل یہ آیت ہے..
وا نتم عاکفون فی المساجد۔۔۔اس آیت سے پته چلتا هے که اعتکاف کے لیے مساجدشرط هیں چاهے عورت هو یا مرد۔بغیر مسجد اعتکاف شر عی طور پر جائز نہہں ۔اس بات کو آپ اس طرح سے بهی سمجھ سکتے هیں که حج اور عمره کے لیے مکہ مکرمہ میں هونا شرط هے۔اگر کرونا کی وجہ سے حج اور عمره گھروں میں نهیں هو سکتا تو اعتکاف بھی نهیں هو سکتا۔حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ان النبی ﷺ کان یعتکف العشر الاواخر من رمضان حتی توفاه الله ،ثم اعتکف ازواجه من بعده ( بخاری:2026)


“نبی ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف کیا۔اور آپﷺ کی بیگمات بھی مساجد میں هی اعتکاف کرتیں تھیں۔امام نووی اس حدیث سے استدل کرتے هوے کهتے هیں که اعتکاف صرف مساجد میں هی هو گا۔
اور بھی احادیث هیں جن سے پته چلتا هے که آپ ﷺ نے مساجد میں هی اعتکاف کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں