545

کیا فیس بک انسانی دماغ کو پڑھ پاۓ گی؟

تحریر شئیر کریں

 

کیا فیس بک انسانی دماغ کو پڑھ پاۓ گی؟

فیس بک کا انقلابی پروگرام انسانی دماغ تک رسائی حاصل کرنا ہے۔


فیس بک سوشل میڈیا کی دنیا کا وہ کبوتر ہے جس نے انقلابی کام کیے ہیں۔اس کے صارفین کی تعداد دو ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔اس نے 1995 ء سے آغاز کیا تھا۔اور دیکھتے ہی دیکھتے کہاں پہنچ گئ۔

فیس بک کے زرک برگ ایک کری ایٹو انسان ہیں وہ اس میں نئ نئ چیزیں متعارف کروانے کا سوچتے رہتے ہیں۔

حال ہی میں ایک خبر میں یہ سننے میں آیا ہے کہ فیس بک ایک ایسا سنسر لاونچ کرنے جا رہا ہے جو لوگوں کے خیالات تک رسائی حاصل کر سکے۔اس کا مقصد ان خیالات تک پہنچ کر ان کو عملی شکل دینا یے۔
یہ تفصیلات فیس بک کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر نےاپنے سالانہ اجلاس میں لوگوں کو بتائیں۔

یہ بھی پڑھیے

موبائل بچوں کی صحت کے لیے مضر

انہوں نے مزید بتایا کہ اس سنسر کو کلائی پر لگایا جاتا ہے جس کی مدد سے دماغ سے آنے والے سگنل کو پڑھنا ممکن ہوگیا ہےاس سنسر سے آنے والے وقتوں لکھنے سے لیکر ویڈیو گیم تک کی سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔
فیس بک کا مشن ہے کہ ایک ایسا ٹول ہو جس کی مدد سے اگر کوئی پورا مضمون نہیں بھی پڑھنا چاہتا تو نا پڑھے۔اس ٹول کی مدد سے اسے سمرائز کرکے اس کا خلاصہ پڑھ سکے۔تاکہ وقت کی بچت ہو۔ان کا مزید کہنا ہے کہ اس سنسر کے ساتھ ساتھ فیس بک کی سپیڈ تیس گنا مزید بڑھ جاۓ گی۔
2021 میں فیس گوگل ٹرانسلیٹر کی مدد سے ٹرانسلیٹنگ کی سہولت بھی مہیا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کی مدد سے صارفین ڈیٹا جس زبان میں چاہیں گے منتقل کر سکیں گے۔

کیا فیس بک انسانی دماغ کو پڑھ پاۓ گی؟

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں