تحریر: روبینہ شاہین

الاسکا کی منجمد زمین اپنے اندر اتنے راز چھپائے ہوئے ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ احمد، فاطمہ اور مایا اس وقت جس غار میں موجود تھے، وہاں کی نیلی روشنی نے ان کے حواس پر ایک سحر طاری کر رکھا تھا۔ باہر برفانی طوفان کی گونج بتا رہی تھی کہ واپسی کا راستہ فی الحال مسدود ہو چکا ہے، مگر غار کے اندر موجود اس قدیم صندوقچے نے احمد کی سائنسی جستجو کو ایک نئی مہلت دے دی تھی۔
الاسکا کا کٹھن جیون اور ثقافتی جڑیں
احمد نے جب صندوقچے کی جمی ہوئی برف صاف کرنا شروع کی تو مایا ایک طرف بیٹھ کر اپنے ہاتھوں کو آپس میں رگڑنے لگی تاکہ حرارت پیدا کر سکے۔ الاسکا میں زندگی گزارنا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ یہاں کی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے مایا کہنے لگی:
“احمد، تم نے تو صرف یہاں کی برف دیکھی ہے، مگر ہم نے یہاں کی سنگدلاںہ فطرت کے ساتھ جینا سیکھا ہے۔ جب سردیاں آتی ہیں تو درجہ حرارت منفی 40 ڈگری تک گر جاتا ہے۔ ہماری زندگیوں میں سورج ایک مہمان کی طرح آتا ہے اور ہفتوں غائب رہتا ہے۔ یہاں کی سب سے بڑی مشکل ‘تنہائی’ اور ‘سپلائی’ کی کمی ہے۔ قدیم دور میں جب خوراک ختم ہو جاتی تھی، تو ہمارے آباؤ اجداد مچھلیوں کے تیل (Seal Oil) پر گزارا کرتے تھے تاکہ جسم کی حرارت برقرار رہے۔”
احمد نے مایا کی بات سن کر سر ہلایا۔ اسے یاد آیا کہ کیسے الاسکا کے لوگ خوراک کو محفوظ کرنے کے لیے زمین میں گڑھے کھود کر اسے قدرتی فریزر کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ یہاں کی ثقافت میں “Sharing” (بانٹنے) کا تصور بہت گہرا ہے، کیونکہ اکیلا انسان یہاں کی سردی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ مایا نے بتایا کہ ان کے قبیلے میں جب کوئی شکاری ‘وہیل’ (Whale) یا ‘کیربو’ (Caribou) کا شکار کرتا ہے، تو وہ اسے اکیلا نہیں کھاتا بلکہ پورے گاؤں میں تقسیم کرتا ہے۔ یہی وہ بقا کا فلسفہ ہے جو اسلام کے ‘ایثار’ سے بہت حد تک ملتا جلتا ہے۔
الاسکن پکوان: ذائقہ اور ضرورت
فاطمہ نے اپنے بیگ سے تھرمس نکالا اور مایا کو گرم قہوہ پیش کیا۔ مایا نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا اور پھر کہنے لگی، “کاش اس وقت ہمارے پاس ‘مکتک’ (Muktuk) ہوتا۔”
احمد نے حیرت سے پوچھا، “یہ مکتک کیا ہے؟”
مایا نے تفصیل بتائی، “یہ وہیل مچھلی کی جلد اور چربی کا ٹکڑا ہوتا ہے۔ اسے کچا کھایا جاتا ہے یا نمک لگا کر۔ یہ وٹامن سی اور ڈی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، جو ہمیں ان دنوں میں توانائی دیتا ہے جب دھوپ نہیں نکلتی۔ اور ہاں، ‘اسموکڈ سالمن’ (Smoked Salmon) تو ہماری پہچان ہے۔ ہم مچھلیوں کو لکڑی کے دھوئیں میں خشک کرتے ہیں تاکہ وہ پورا سال کام آ سکیں۔ الاسکا کا کھانا صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں، بلکہ جسم کو منجمد ہونے سے بچانے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔”
احمد کو لاہور کے مسالے دار کھانے یاد آگئے، مگر اسے احساس ہوا کہ ہر خطے کا ذائقہ وہاں کی جغرافیائی ضرورت کے مطابق ہوتا ہے۔ الاسکا کی “سوسج” اور “کیربو سٹیو” (Caribou Stew) یہاں کے لوگوں کی جفاکشی کی عکاسی کرتے ہیں۔
پراسرار صندوقچہ اور تاریخی انکشاف
باتوں کا سلسلہ جاری تھا کہ احمد نے کامیابی سے صندوقچے کا تالا نما لاک کھول لیا۔ اندر سے چمڑے میں لپٹا ہوا ایک قدیم نسخہ برآمد ہوا۔ جب فاطمہ نے اسے کھولا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ یہ ہرن کی کھال پر لکھی ہوئی ایک ڈائری نما تحریر تھی، جس میں عربی اور مقامی انیوٹ زبان کے ملے جلے الفاظ تھے۔
احمد نے اپنی ریسرچ کی روشنی میں اندازہ لگایا، “فاطمہ، ایسا لگتا ہے کہ 10ویں یا 11ویں صدی کے لگ بھگ، جب مسلمان ملاح بحرِ الکاہل کے راستے تجارت کرتے تھے، ان کا کوئی جہاز راستہ بھٹک کر یا کسی مہم جوئی کے تحت ان شمالی علاقوں تک پہنچا تھا۔ یہ تحریر کسی ‘عبداللہ’ نامی شخص کی ہے جو یہاں کے لوگوں کے ساتھ گھل مل گیا تھا۔”
تحریر میں لکھا تھا کہ کیسے ان مسافروں نے یہاں کے لوگوں کو ‘ایک خدا’ کا تصور دیا اور انہیں صفائی اور حیا کے اصول سکھائے۔ یہ انکشاف احمد کے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں تھا۔ مغربی تاریخ دان ہمیشہ یہ دعویٰ کرتے رہے کہ الاسکا کی دریافت بہت بعد میں ہوئی، مگر یہ نسخہ ثابت کر رہا تھا کہ اسلام کا پیغام ان منجمد وادیوں میں صدیوں پہلے پہنچ چکا تھا۔
مایا کا اضطراب اور ایمان کی جھلک
مایا یہ سب سن کر گہری سوچ میں ڈوب گئی۔ “تو اس کا مطلب ہے کہ میرا قبیلہ جس ‘غیبی نور’ کی بات کرتا ہے، وہ دراصل اسلام کی تعلیمات تھیں؟ احمد، کیا یہ ممکن ہے کہ ہماری بہت سی روایات، جیسے مہمان نوازی اور بزرگوں کا احترام، اسی دور کی یادگار ہوں؟”
احمد نے سنجیدگی سے جواب دیا، “بالکل مایا۔ حق کی خاصیت یہ ہے کہ وہ مٹتا نہیں، بلکہ سینہ بہ سینہ سفر کرتا رہتا ہے۔ تم دیکھو، یہاں کی سخت زندگی میں جہاں سانس لینا بھی مشکل ہے، وہاں ان لوگوں نے ایمان کی شمع جلائے رکھی۔ تمہارے قبیلے کی ‘حیا’ اور عورتوں کا اپنے سروں کو ڈھانپ کر رکھنا، شاید اسی قدیم ورثے کا حصہ ہے۔”
محصور رات اور بقا کی جنگ
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غار کے اندر کی آکسیجن کم ہونے لگی تھی۔ باہر طوفان کی شدت کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ احمد کو احساس ہوا کہ اگر انہوں نے جلد ہی نکلنے کا راستہ نہ ڈھونڈا تو یہ غار ان کی قبر بن سکتا ہے۔
اس نے غار کی نیلی روشنی کا دوبارہ معائنہ کیا۔ اسے محسوس ہوا کہ روشنی ایک خاص دیوار کی طرف سے آ رہی ہے جہاں سے ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی محسوس ہو رہا تھا۔ “مایا! فاطمہ! ادھر آؤ۔ یہاں کی دیوار پتلی ہے، شاید اس کے پیچھے کوئی دوسرا راستہ ہو۔”
تینوں نے مل کر پتھر ہٹانے شروع کیے۔ الاسکا کی اس کٹھن رات میں، وہ صرف اپنی جان نہیں بچا رہے تھے، بلکہ ایک ایسی تاریخ کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے جو صدیوں سے برف تلے دبی ہوئی تھی۔
جیسے ہی ایک بڑا پتھر ہٹا، سامنے سے آنے والی تیز روشنی نے ان کی آنکھوں کو چندھیا دیا۔ وہ روشنی غار کی نیلی روشنی سے مختلف تھی—وہ صبح کی پہلی کرن تھی جو برف کے شفاف کرسٹلز سے ٹکرا کر اندر آ رہی تھی۔
اختتامِ سفر کی نئی سمت
وہ غار کے دوسری طرف سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ سامنے کا منظر سحر انگیز تھا۔ الاسکا کا برفانی منظر نامہ صبح کی روشنی میں سونے کی طرح چمک رہا تھا۔ احمد نے وہ قدیم نسخہ اپنے سینے سے لگا لیا۔ اسے اپنی ریسرچ کا مقصد مل گیا تھا۔
فاطمہ نے آسمان کی طرف دیکھ کر شکر ادا کیا۔ “احمد، آج ہمیں صرف ایک قدیم نسخہ نہیں ملا، بلکہ یہ سبق ملا ہے کہ اندھیرے چاہے کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، اللہ کا نور اپنا راستہ بنا ہی لیتا ہے۔”
مایا نے دور افق پر چمکتے ہوئے پہاڑوں کو دیکھتے ہوئے کہا، “آج مجھے اپنے وجود پر فخر ہو رہا ہے۔ میں صرف ایک انیوٹ لڑکی نہیں ہوں، میں اس عظیم پیغام کی وارث ہوں جو میرے اسلاف تک پہنچا تھا۔”
احمد نے اپنی ڈائری نکالی اور آخری سطر لکھی: “الاسکا کی سردی اب مجھے خوفزدہ نہیں کرتی، کیونکہ میں نے جان لیا ہے کہ ایمان کی حرارت دنیا کی ہر برف کو پگھلا سکتی ہے۔”
Ye be parhey
اگلی قسط میں دیکھیے:
کیا احمد اس قدیم نسخے کو دنیا کے سامنے پیش کر پائے گا؟ اور مایا کے قبیلے کے سردار کا اس دریافت پر کیا ردِعمل ہوگا؟
کیا آپ چاہیں گے کہ میں اگلی قسط میں اس تاریخی نسخے کے مزید مندرجات اور احمد کی یونیورسٹی میں ہونے والی مخالفت کو بیان کروں؟