125

اندھیرے کے مکین قسط: 12

تحریر شئیر کریں

اندھیرے کے مکین (قسط: 12

آرکٹک کی صبح (جو کہ درحقیقت ایک طویل رات کا ہی تسلسل تھی) احمد کے لیے کچھ افاقہ لے کر آئی۔ بخار کی تپش کم ہو چکی تھی، مگر نقاہت ابھی باقی تھی۔ احمد نے اپنے بستر کے پاس پڑے فون کو اٹھایا تو انٹرنیٹ سگنلز بحال ہو چکے تھے۔ اس نے دیکھا کہ پاکستان میں اس وقت FBise HSSC 2nd Annual Result کی دھوم تھی اور طلباء اپنے مستقبل کے لیے پرامید تھے۔ اسے اپنا وہ وقت یاد آیا جب اس نے اسی فیڈرل بورڈ سے ٹاپ کیا تھا اور اس کے والدین کی آنکھوں میں فخر کے آنسو تھے۔ وہ کامیابی اسے آج آرکٹک کے اس تنہا مشن تک لے آئی تھی۔
اس نے کراچی کا موسم چیک کیا تو وہاں Karachi Temperature ابھی بھی معتدل تھا، جبکہ یہاں آرکٹک میں ہڈیاں منجمد کر دینے والی سردی تھی۔ اسے کراچی کی وہ گرم دوپہریں یاد آئیں جب وہ سمندر کنارے بیٹھ کر اپنی ریسرچ کے خواب دیکھتا تھا۔ آج وہ خواب حقیقت تو بن گئے تھے، مگر ان کی قیمت بہت بھاری تھی۔
مایا کمرے میں داخل ہوئی تو اس کے ہاتھ میں گرم سوپ کا پیالہ تھا۔ “تمہیں آرام کرنا چاہیے احمد،” مایا نے پیالہ میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
“مایا، سنسرز بتا رہے ہیں کہ بستی کا واٹر فلٹریشن پلانٹ منجمد ہو رہا ہے۔ زیرِ زمین پائپ لائنز میں برف کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے،” احمد نے لیپ ٹاپ کی سکرین کی طرف اشارہ کیا جہاں گراف تیزی سے نیچے گر رہے تھے۔
مایا کا چہرہ فق ہو گیا۔ “یہی وہ خبر ہے جو میں تمہیں سنانے آئی تھی۔ میئر نے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ بستی کا مرکزی ٹینک خالی ہو چکا ہے اور باہر درجہ حرارت منفی 45 ڈگری ہے۔ اگر پانی نہ ملا تو اگلے 24 گھنٹے میں یہ بستی ایک منجمد قبرستان بن جائے گی۔”
احمد کی آنکھوں میں ایک عزم چمکا۔ اس نے اپنا نیا Realme 16 Pro 5G اٹھایا، جس کے سینسرز اسے ریسرچ ڈیٹا کو تیزی سے پراسیس کرنے میں مدد دے رہے تھے۔ “مجھے میرے نقشے اور ریسرچ فائلز دو۔ میں نے پچھلے سال Calendar 2026 کے ڈیٹا ماڈل پر کام کیا تھا کہ کس طرح آرکٹک کی ‘جیو تھرمل انرجی’ کو استعمال کر کے پانی کو جمنے سے روکا جا سکتا ہے۔”
احمد نے نقشہ کھولا اور اس پر مختلف پوائنٹس مارک کرنے لگا۔ اسے یاد آیا کہ کس طرح کرکٹ کے میدان میں ناصر حسین (Nasir Hossain) جیسے کھلاڑی مشکل وقت میں ٹیم کو سنبھالتے ہیں، اسے بھی اس وقت اپنی تمام تر سائنسی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر سری لنکا بمقابلہ پاک (Sri Lanka vs Pak) کے میچ میں پاکستانی کھلاڑی دباؤ جھیل سکتے ہیں، تو وہ اس برفیلی موت کے سامنے کیوں ہمت ہارے؟
بستی کا بحران اور انسانیت کی تڑپ
احمد اور مایا مخصوص برفانی سوٹ پہن کر باہر نکلے۔ باہر کا منظر ہولناک تھا۔ اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ طاقتور ٹارچ کی روشنی بھی چند فٹ سے آگے نہیں جا رہی تھی۔ برف کے گالے پتھروں کی طرح چہرے پر لگ رہے تھے۔ احمد کی نقاہت ابھی پوری طرح دور نہیں ہوئی تھی، مگر اس کے قدموں میں ایک غیر مرئی طاقت تھی۔
جب وہ مرکزی پائپ لائن کے پاس پہنچے تو وہاں بستی کے کئی لوگ مایوسی کی حالت میں کھڑے تھے۔ میئر احمد کو دیکھ کر حیران ہوا۔ “احمد! تم اس حال میں یہاں کیا کر رہے ہو؟”
“میں نے حل ڈھونڈ لیا ہے، میئر،” احمد نے بلند آواز میں کہا۔ اس نے نقشہ کھولا اور لوگوں کو ہدایات دینا شروع کیں۔ اگلے کئی گھنٹے احمد نے برف کھودنے اور پائپ لائن کی سمت تبدیل کرنے میں گزارے۔ اس کی زبان پر مسلسل ‘یا حی یا قیوم’ کا ورد جاری تھا۔ مایا اس کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کر رہی تھی۔ اس نے پہلی بار دیکھا کہ ‘سائنس’ جب ‘ایمان’ کے ساتھ ملتی ہے تو وہ محض ایک فارمولا نہیں رہتی، بلکہ ایک معجزہ بن جاتی ہے۔
کامیابی کا لمحہ اور مایا کا سوال
کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد، جیسے ہی انہوں نے آخری والو (Valve) کھولا، پائپوں کے اندر سے گڑگڑاہٹ کی آواز آئی۔ چند لمحوں بعد، گرم پانی کا ایک فوارہ نکلا اور منجمد لائنوں میں زندگی کی لہر دوڑ گئی۔ بستی کے لوگوں کے چہروں پر خوشی کے آنسو تھے۔ میئر نے احمد کا ہاتھ تھام لیا، “تم نے ہمیں بچا لیا، نوجوان!”
احمد نے تھک ہار کر برف کے ڈھیر پر بیٹھتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا۔ “شکر ہے، مالک! یہ تیرا کرم ہے، میرا نہیں۔”
مایا اس کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ اس نے خاموشی سے احمد کو دیکھا اور پھر پوچھا، “احمد، تم نے یہ سب کیسے کیا؟ تمہارا جسم جواب دے چکا تھا، مگر تم نے وہ کام کر دیا جو پوری بستی کی مشینری نہ کر سکی۔”
احمد نے مسکرا کر مایا کی طرف دیکھا۔ “مایا، جب انسان کا مقصد بڑا ہو اور اس کا تعلق اپنے خالق سے مضبوط ہو، تو کائنات کی قوتیں اس کی مدد کرتی ہیں۔ میں نے وہی سچائی استعمال کی جو سوربھ دویدی (Saurabh Dwivedi) جیسے لوگ اپنی صحافت میں ڈھونڈتے ہیں، لیکن میری سچائی کا منبع میرا رب ہے۔”

Ye be parhey

اندھیرے کے مکین :قسط: 11

احمد کی ڈائری: رات کا آخری پہر (Journaling)
8 جنوری، 2026
آج میں نے زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھا۔ جب میں پائپ لائن ٹھیک کر رہا تھا، مجھے محسوس ہوا کہ جس طرح ہم نے بستی کے لیے پانی کا راستہ ہموار کیا، اسی طرح ہمیں اپنی روح کے لیے بھی خیر کا راستہ بنانا پڑتا ہے۔
آج سوشل میڈیا پر Merry Viral Videos Pakistan کی گونج تھی، لوگ چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں سکون ڈھونڈ رہے ہیں، مگر حقیقی سکون تو خدمتِ خلق اور رب کے حضور سجدہ ریزی میں ہے۔ مایا آج بہت بدلی ہوئی لگ رہی تھی۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں اسے وضو کرنا سکھا سکتا ہوں؟ اس کا یہ سوال میرے لیے آج کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔
کل انشا اللہ میں مایا کو وضو کے سائنسی اور روحانی فوائد سمجھاؤں گا۔ وہ جاننا چاہتی ہے کہ پانی کے چند قطرے چہرے پر گرنے سے دل کو اطمینان کیسے ملتا ہے۔ اے اللہ! اسے ہدایت دے اور مجھے ثابت قدم رکھ۔

ناول اندھیرے کے مکین کی بارہویں قسط۔ فیڈرل بورڈ رزلٹ کی یادیں اور کراچی کے موسم کا تذکرہ۔ کیا احمد اپنی ریسرچ سے بستی کو پانی کے بحران سے نکال پائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں