اندھیرے کے مکین 155

اندھیرے کے مکین: قسط 10

تحریر شئیر کریں

تحریر: روبینہ شاہین

اندھیرے کے مکین: قسط 10

Calendar 2026 کا دوسرا دن طلوع ہو چکا تھا—اگرچہ یہاں ‘طلوع’ کا لفظ محض استعارہ ہی تھا کیونکہ افق پر اب بھی سیاہی کا راج تھا۔ احمد اپنے کمرے میں لیمپ کی زرد روشنی میں ڈائری لکھنے میں مصروف تھا، جبکہ باہر برفانی ہواؤں کا شور ایک پس منظر کی موسیقی کی طرح گونج رہا تھا۔
احمد نے قلم تھاما اور اپنے دل کی کیفیت کو صفحہ قرطاس پر بکھیرنا شروع کیا:
> “ماشاءاللہ، اس نئے سال کا پہلا دن خیر و عافیت سے گزر گیا۔ آج میرے دل میں ایک عجیب سی تڑپ ہے کہ میں اس سال کو محض سائنسی اعداد و شمار کی نذر نہ کروں۔ مجھے اپنی پانچوں نمازوں کی ایسی حفاظت کرنی ہے جیسے کوئی شکاری اپنی قیمتی متاع کی کرتا ہے۔ میں نے ارادہ کیا ہے کہ ان بقیہ 364 دنوں میں دعاؤں کا ایسا اہتمام کروں گا کہ ان کے رد ہونے کا سوال ہی پیدا نہ ہو۔ میں آسمان پر دعاؤں کا ایک ایسا ‘رش’ لگا دینا چاہتا ہوں کہ اگر ایک دعا بظاہر قبول ہوتی نظر نہ آئے، تو دوسری اس کے پیچھے کھڑی ہو، اور اس کے پیچھے تیسری اور چوتھی۔ اس سال مجھے دعاؤں کو اپنی سانسوں سے زیادہ لازم کر لینا ہے۔ اللہ کی رحمت سے بہت امید ہے کہ خیر ہی ہوگی۔”
احمد ابھی لکھ ہی رہا تھا کہ اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو مایا کھڑی تھی، جو چپکے سے کمرے میں داخل ہوئی تھی اور اتفاقاً ڈائری کے آخری الفاظ پڑھ چکی تھی۔ مایا کی آنکھوں میں حیرت اور ستائش کی ایک عجیب لہر تھی۔

Ye be parhey

حکایتِ بوجھل پرواز
“احمد! تم اتنے ‘اسپریچوئل’ (روحانی) انسان ہو؟” مایا نے دھیرے سے پوچھا۔ “میں تو سمجھتی تھی کہ تم صرف لیب اور میگنیٹومیٹر کے آدمی ہوں۔”
احمد نے مسکرا کر ڈائری بند کی۔ مایا نے قریب آ کر سنجیدگی سے کہا، “احمد، تم جانتے ہو؟ میرے قبیلے میں ایک بات کہی جاتی ہے کہ سب سے ذہین وہ نہیں ہوتا جس کے نمبر زیادہ ہوں یا جس کا مالی درجہ بلند ہو، یہاں تک کہ وہ بھی نہیں جس کا IQ لیول بہت ہائی ہو۔ سب سے زیادہ طاقتور اور مضبوط وہ انسان ہے جو ‘روحانی طور پر’ (Spiritually) مضبوط ہو۔ کیونکہ جب برفانی طوفان سب کچھ چھین لیتا ہے، تو صرف وہی شخص زندہ بچتا ہے جس کا تعلق اپنے خالق سے مضبوط ہو۔”
یونیورسٹی کی جانب سے ایک نئی ‘ڈیڈ لائن’ آ چکی تھی۔ پروفیسر ہینز نے احمد کو مطلع کیا تھا کہ قطب شمالی کے اس حصے میں میگنیٹک فیلڈ کی تبدیلیوں پر اس کی ریسرچ رپورٹ عالمی سائنسی جریدے کے لیے ناگزیر ہے۔ احمد کا سارا دن لیب میں ڈیٹا پراسیسنگ اور پیچیدہ گراف بنانے میں گزرا۔ اسے یہ ثابت کرنا تھا کہ وہ قدیم دھاتی ٹکڑے کس طرح کرہ ہوائی کی بجلی کو جذب کر رہے ہیں۔ تاہم، بستی میں ایک نیا مسئلہ سر اٹھا رہا تھا۔ شدید سردی سے واٹر سپلائی کی پائپ لائنیں منجمد ہو گئی تھیں۔ پینے کے پانی کا حصول اب ایک بڑی مقامی مشکل بن چکا تھا جس نے احمد کے سائنسی ذہن کو ایک نیا چیلنج دے دیا تھا۔
اسی پریشانی کے عالم میں احمد نے جیکٹ کی زپ گردن تک چڑھائی اور بستی کے واحد گروسری اسٹور کا رخ کیا۔ اسٹور میں داخل ہوتے ہی اسے محسوس ہوا کہ یہاں کی قیمتیں کسی ‘سائنسی انکشاف’ سے کم ہولناک نہیں ہیں۔ شیلف پر پڑے ہوئے سامان کو دیکھ کر اسے لاہور کے بازار یاد آ گئے جہاں وہ بغیر سوچے سمجھے ٹالیاں بھر لیا کرتا تھا، مگر یہاں ایک ایک چیز اٹھانے سے پہلے اسے اپنے بجٹ اور ضرورت کا ترازو تھامنا پڑ رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ پودوں کی تھوڑی سی پتیوں اور ایک عام سے سیب کی قیمت اتنی تھی کہ پاکستان میں اس سے پورا خاندان ایک دن کا شاندار کھانا کھا سکتا تھا۔ چونکہ یہاں تازہ سبزیاں اور پھل صرف جہاز کے ذریعے آتے تھے، اس لیے ان کی قدر سونے کے برابر تھی۔ احمد نے بڑی احتیاط سے ایک دودھ کا ڈبہ، تھوڑی سی کافی اور خشک اناج اٹھایا۔ اسے محسوس ہوا کہ یہاں کی گروسری صرف پیٹ بھرنے کا سامان نہیں تھی، بلکہ یہ آرکٹک کی سخت زندگی میں زندہ رہنے کی وہ قیمت تھی جو ہر انسان کو چکانی پڑتی ہے۔
واپسی پر احمد نے انہی مہنگے داموں خریدے گئے دودھ سے مایا کے لیے ایک خاص تحفہ تیار کیا۔ اس نے کچن میں الائچی اور پتی کا ایسا امتزاج بنایا کہ اس کی خوشبو پورے اپارٹمنٹ میں پھیل گئی۔ جب اس نے مایا کے سامنے دھواں اڑتی کڑک “پاکستانی چائے” کا کپ رکھا، تو مایا نے حیرت سے اسے دیکھا۔ “یہ کیا ہے احمد؟”
احمد نے مسکرا کر کہا، “یہ میرے وطن کی وہ سوغات ہے جو ہر غم اور تھکن کا علاج ہے۔”
مایا نے پہلا گھونٹ بھرا تو اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون آ گیا۔ “احمد! یہ تو حیرت انگیز ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اس میں کوئی جادو ہے۔”
احمد نے دل میں سوچا کہ جادو چائے میں نہیں، بلکہ اس خلوص اور شکر میں ہے جو ان منجمد وادیوں میں بھی انسان کے دل کو گرم رکھتا ہے۔
حرفِ معتبر: ضمیر کی دستک
دعا صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ بندے کا اپنے رب سے وہ مکالمہ ہے جو ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔ Calendar 2026 کے ان دنوں میں اگر ہم نے دعاؤں کا ‘رش’ نہ لگایا، تو ہم اس مادی دنیا کے اندھیروں میں بھٹک جائیں گے۔ یاد رکھیے، اصل انٹیلی جنس آپ کا ہائی گریڈ نہیں، بلکہ آپ کا اللہ پر وہ توکل ہے جو آپ کو ٹوٹنے نہیں دیتا۔
اختتام:
اپنے سجدوں کو لمبا کریں اور اپنی سانسوں کو دعا کے ساتھ جوڑ لیں۔ جب آسمان پر دعاؤں کا رش ہوگا، تو زمین پر رحمتوں کی برسات خود بخود ہونے لگے گی۔

/andheray-ke-makeen-epi-10-spiritual-strength

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں