290

اندھیرے کے مکین: قسط 8

تحریر شئیر کریں

تحریر: روبینہ شاہین

اندھیرے کے مکین: قسط 8
تہہ خانے کی چھت سے مٹی اور برف گر رہی تھی، جیسے کوئی قدیم وجود کراہ رہا ہو۔ احمد کے ہاتھوں میں ایک دھاتی ٹکڑا اور ایلا کے دادا کی ڈائری تھی۔ اس کا سائنسی دماغ اسے بھاگنے پر مجبور کر رہا تھا، مگر ایک اور چیز تھی جو اسے روک رہی تھی—وہ تجسس، وہ کھوج کی پیاس جو ایک ریسرچر کی پہچان ہوتی ہے۔
اس نے مایا کو ایک نظر دیکھا جو خوفزدہ ہو کر سیڑھیوں پر کھڑی تھی۔ “مایا! اس دھاتی ٹکڑے کو دیکھو، اس کی ریڈنگز عام نہیں ہیں۔ یہ کچھ اور ہے، بہت قدیم اور طاقتور!”
اسی لمحے، تہہ خانے کا وہ تاریک کونا جہاں سایہ لہرایا تھا، مزید گہرا ہو گیا۔ احمد نے محسوس کیا جیسے سرد ہوا کا ایک جھونکا اس کے چہرے سے ٹکرایا ہو۔ یہ ریچھ نہیں تھا، اس کا سائنسی ذہن اسے بتانے سے قاصر تھا۔
“اِریقتق (Iriqtaq)!” مایا نے سرگوشی کی۔ اس کی آواز خوف سے کانپ رہی تھی۔ “میرے دادا کہتے تھے کہ یہ اندھیرے کے مکینوں میں سے ایک ہے۔ ایک بھٹکی ہوئی روح جو دنیاوی چیزوں میں قید ہو کر رہ جاتی ہے۔”
احمد کے ذہن میں بجلی کوندی۔ “قید؟” اس نے دھاتی ٹکڑے کو دیکھا۔ “کیا یہ دھاتی ٹکڑا کسی طرح اس روح سے جڑا ہوا ہے؟ کیا یہ مقناطیسی انوملی کوئی سائنسی حقیقت ہے جس سے انوپیٹ لوگ صدیوں سے واقف ہیں؟”
اس نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر، ڈائری کو کھولا اور ایک صفحہ پڑھا:
“اِریقتق کو نہ آگ جلا سکتی ہے، نہ برف جما سکتی ہے۔ یہ تب تک آزاد نہیں ہوتا جب تک اسے وہ نہ مل جائے جس کی اسے تلاش ہے۔ اور اس کی تلاش اکثر اس چیز میں چھپی ہوتی ہے جو اسے قید کرتی ہے۔”
احمد نے ایک گہری سانس لی۔ یہ اس کی سائنسی ریسرچ کا سب سے بڑا چیلنج تھا۔ وہ اس ‘اِریقتق’ کو ایک سائنسی پیمانے پر سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“مایا! تمہارے دادا نے جس قدیم چرواہے کے بارے میں لکھا تھا، جو اپنے ریوڑ کو کھو کر اسی تہہ خانے میں مر گیا تھا، کیا وہ ‘اِریقتق’ اس کی روح ہے؟” احمد نے پوچھا۔
“ہاں،” مایا نے دھیرے سے کہا۔ “میرے دادا کہتے تھے کہ وہ چرواہا صرف اپنے ریوڑ کی فکر میں مرا تھا۔ اسے خدا سے زیادہ اپنے ریوڑ اور مال و دولت کی فکر تھی۔ اسی لیے اس کی روح اس دنیا سے بندھی رہ گئی۔”
زمین ایک بار پھر لرز اٹھی۔ اس بار چھت سے ایک بڑا پتھر گرا۔ احمد کو معلوم تھا کہ اس کے پاس وقت بہت کم ہے۔ اسے کچھ کرنا ہوگا۔ اس نے اپنی جیب سے چھوٹا سا جیولوجیکل ہتھوڑا نکالا۔
“مایا! اگر یہ روح دنیاوی چیزوں میں قید ہے، تو اسے آزاد کرنے کا راستہ بھی دنیاوی ہی ہو گا،” احمد نے کہا۔ “اس کے پیچھے کی سائنسی حقیقت مقناطیسی لہروں میں ہے۔”
اس نے دھاتی ٹکڑے کو دیکھا، پھر ڈائری کی طرف۔ ڈائری میں ایک اور انوپیٹ لفظ لکھا تھا: “آگلیغناق (Agliġnaq)” – یعنی ایک ایسی چیز جو مقدس بھی ہو اور خطرناک بھی، ایک ٹیبو۔
احمد نے جیولوجیکل ہتھوڑے سے اس دھاتی ٹکڑے کے قریب دیوار پر لگی ایک ہڈی کو آہستگی سے ٹھوکا۔ وہ ہڈی ایک قدیم وہیل کی تھی۔ ہڈی لرز کر گری، اور اس کے پیچھے سے ایک اور دھاتی ٹکڑا ظاہر ہوا۔ یہ ٹکڑا بھی پہلے والے جیسا تھا، مگر اس پر کچھ عجیب و غریب کندہ کاری کی ہوئی تھی۔
جیسے ہی دوسرا ٹکڑا ظاہر ہوا، تہہ خانے میں مقناطیسی لہروں کی شدت کم ہونے لگی۔ میگنیٹومیٹر کی ریڈنگز نیچے آنے لگیں۔ زمین کی تھرتھراہٹ بھی مدھم پڑ گئی۔
“یہ سب کچھ آپس میں جڑا ہوا ہے،” احمد نے حیرت سے کہا۔ “قدیم انوپیٹ لوگ ان معدنیات کی مقناطیسی خصوصیات کو جانتے تھے۔ وہ شاید ان روحوں کو ‘گائیڈ’ کرنے کے لیے ان ٹکڑوں کا استعمال کرتے تھے، نہ کہ انہیں قید کرنے کے لیے۔”
اس نے دونوں دھاتی ٹکڑوں کو ایک خاص ترتیب سے زمین پر رکھا، جیسا کہ ڈائری میں ایک قدیم نقشے پر اشارہ کیا گیا تھا۔ جیسے ہی اس نے آخری ٹکڑا رکھا، تہہ خانے میں ایک مدھم سی نیلی روشنی پھیل گئی—بالکل ویسی ہی جیسی “شمالی روشنیوں” (Northern Lights) کی ہوتی ہے۔
“شکر! شکر! (Thank you! Thank you!)” ایک باریک، مگر سکون بھری سرگوشی سنائی دی۔ وہ سایہ جو کونے میں لہرایا تھا، اب مدھم پڑتا جا رہا تھا۔
“مایا،” احمد نے جذباتی انداز میں کہا، “انسان کا سب سے بڑا خوف نادانی ہے۔ جب ہم جانتے نہیں تو ہم چیزوں کو برا یا پراسرار سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن جب ہم علم اور عقل سے کام لیتے ہیں، تو ہم اندھیروں میں بھی روشنی دیکھ سکتے ہیں۔”
جیسے ہی احمد اور مایا تہہ خانے سے باہر نکلے، ٹھنڈی ہوا نے ان کا استقبال کیا۔ آسمان میں شمالی روشنیاں اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہی تھیں، جیسے فطرت احمد کی کامیابی پر جشن منا رہی ہو۔
احمد نے اپنے فون پر دوبارہ پروفیسر کو کال کی۔ “سر! میں نے معلوم کر لیا ہے! یہ مقناطیسی انوملی پرمافروسٹ کے ٹوٹنے کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ زمین کے نیچے موجود خاص معدنیات کی وجہ سے ہے، جنہیں قدیم انوپیٹ لوگ ایک خاص مقصد کے لیے استعمال کرتے تھے۔”
پروفیسر حیران رہ گئے۔ “ناقابل یقین! تم نے ایک قدیم راز کو سائنسی طریقے سے حل کر دیا!”
احمد کے دل میں سکون کی لہر دوڑ گئی۔ اسے نورین کے وہ الفاظ یاد آئے: “کیا یہ ماڈل اور پروجیکٹس تمہیں وہ زندگی دے سکتے ہیں جو یہ ‘آدمی’ مجھے دے سکتا ہے؟”
“ہاں، نورین!” احمد نے دل ہی دل میں کہا۔ “میرے علم نے مجھے وہ زندگی دی ہے جو تم تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ وہ زندگی جس میں اندھیرے صرف ایک چیلنج ہوتے ہیں، اور ہر خوف ایک موقع ہوتا ہے ایمان اور عقل کو آزمائش میں ڈالنے کا۔”
اس نے ایلا کو دیکھا جو ایک چھوٹی سی آگ کے پاس بیٹھی رسی سے کوئی نئی شکل بنا رہی تھی۔ اسے احساس ہوا کہ Utqiagvik نے اسے سائنس اور روحانیت کا ایسا سنگم دکھایا ہے جہاں ہر قدیم حکمت جدید علم سے ہاتھ ملاتی ہے۔
احمد کے لیے آج کی رات غیر معمولی طور پر پرسکون تھی۔ یہاں آنے کے بعد پہلی بار اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس کے اندر کا تلاطم تھم گیا ہے اور وہ ایک گہری، بے فکر نیند سو سکے گا۔ مگر جیسے ہی اس نے لیٹنے کا ارادہ کیا، باہر سے شور کی آوازیں آنے لگیں۔ آج سالِ نو کی رات تھی، اور اتکیانوک (Utqiagvik) کی برفیلی فضاؤں میں مقامی لوگوں اور سیاحوں کا ہلہ گلہ جاری تھا، جس نے خاموشی کا سینہ چاک کر دیا تھا۔ Happy New year eve 2026احمد نے بستر سے اٹھ کر کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں رنگ برنگی روشنیاں برف پر رقص کر رہی تھیں، لیکن اس کی نظریں وہیں رک گئیں جہاں کمرے کے کونے میں بچھائے ہوئے مصلے کی شکنیں اسے پکار رہی تھیں۔ عشا کا وقت گزر چکا تھا، مگر وہ جانتا تھا کہ اس کے رب نے اس کی سہولت کے لیے وقت کی گنجائش رکھی ہے۔ اس نے اس کھڑکی کے پاس مستقل جائے نماز اس لیے بچھائی تھی کہ دنیا کی رنگینیاں دیکھتے ہوئے بھی اسے یاد رہے کہ اس کا اصل کام اور ٹھکانہ اس “ربِ ذوالجلال” کی عبادت ہے جس نے اسے ان اندھیروں میں بھی تنہا نہیں چھوڑا تھا۔ اس نے ایک گہری سانس لی، باہر کے ہنگاموں سے نظریں پھیریں اور خاموشی سے وضو کے لیے اٹھ کھڑا ہوا؛ کیونکہ اس کے نزدیک نئے سال کا اس سے بہتر استقبال کیا ہو سکتا تھا کہ سر اس کے حضور جھکا ہو جو سال بدلنے پر بھی نہیں بدلتا۔

بقیہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں

اندھیرے کے مکین ناول

اندھیرے کے مکین قسط 2

اگلی قسط میں:
احمد کی ریسرچ اب کیا نئی جہت اختیار کرے گی؟ کیا وہ ان قدیم دھاتی ٹکڑوں پر مزید تحقیق کرے گا اور ان کے اسرار کھولے گا؟ اور ایلا کی انوپیٹ حکمت احمد کی سائنسی بصیرت کو کیسے مزید گہرا کرے گی، خاص طور پر جب سورج دوبارہ نکلنے والا ہے؟ کیا احمد اپنی حقیقی ‘سونا’ کو حاصل کر چکا ہے؟

اندھیرے کے مکین: قسط 8 آپ کو کیسی لگی رائے دینا مت بھولیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں