کبھی آپ نے محسوس کیا ہے کہ طویل سفر کے بعد یا ہنگامی صورتحال میں مسلسل مصروف رہنے کے باعث، اگر دانت صاف نہ کیے جائیں تو وہ کھردرے محسوس ہونے لگتے ہیں؟ اس کی وجہ ہمارے دانتوں پر بننے والی ایک نرم تہہ ہے جسے *پلیک* کہا جاتا ہے۔ یہ درحقیقت جراثیموں کا ایک گڑھ ہے، جہاں کھربوں کی تعداد میں بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں۔
اگر یہ پلیک مستقل طور پر صاف نہ کیا جائے تو یہ خوراک میں موجود معدنیات کے ساتھ مل کر سخت تہہ میں تبدیل ہوجاتا ہے، جسے *ٹارٹر* کہتے ہیں۔ ٹارٹر ایک ایسی جمی ہوئی پرت ہوتی ہے جو عام برش سے نہیں ہٹتی اور آخر کار دانتوں کے ڈاکٹر سے صفائی کروانا ناگزیر ہوجاتا ہے۔
دانت صاف کرنا جدید مگر قدیم روایت
دانتوں کی بیماریاں اور انکے عمومی صحت پر اثرات
شارک مچھلی دانت کیسے صاف کرتی ہے؟
ہمارے منہ میں تقریباً سات سو اقسام کے جراثیم ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ جیسے ہی ہم کچھ کھاتے ہیں، یہ جراثیم فوراً متحرک ہوجاتے ہیں اور کھانے میں موجود شکر یا کاربوہائیڈریٹس کو تیزابی مادے میں تبدیل کرتے ہیں، جس سے دانتوں کی سطح متاثر ہونے لگتی ہے۔ جیسے جیسے پی ایچ لیول کم ہوتا ہے، دانتوں کا کیلشیم کمزور ہونے لگتا ہے، جس سے دانتوں میں باریک سوراخ پیدا ہونے لگتے ہیں اور دانت رفتہ رفتہ خراب ہونے لگتے ہیں۔
یہی نہیں، منہ میں پائے جانے والے کچھ نقصان دہ بیکٹیریا گلے اور مسوڑھوں کی سوزش کا باعث بھی بنتے ہیں۔ اگر دانتوں کی صفائی کا خیال نہ رکھا جائے تو نہ صرف مسوڑھوں کی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں بلکہ دل کی بیماریوں، جوڑوں کے درد، برین ہیمرج اور *الزائمر* جیسی سنگین بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
آج جدید سائنسی تحقیقات اس بات کی تصدیق کر رہی ہیں کہ دانتوں کو دن میں کم از کم پانچ مرتبہ صاف کرنا ضروری ہے۔ اور یہی وہ سنتِ نبویؐ ہے جسے ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہمارے آقا ﷺ نے بھی ہمیں یہہ سکھایا ، تاکہ نہ صرف منہ بلکہ پورے جسم کو بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ کیا ہم اس عظیم سنت پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں؟
ہر نماز سے پہلے مسواک کیوں ضروری؟