خوف کا سوداگر 140

خوف کا سوداگر

تحریر شئیر کریں

خوف کا سوداگر

وہ عورت خاموشی سے سامنے کرسی پر بیٹھی تھی۔
ہاتھ کانپ رہے تھے، آنکھیں بار بار دروازے کی طرف اٹھتیں، جیسے کوئی سن رہا ہو۔
سامنے بیٹھا سیلف ہیلپ اسپیکر اس کی خاموشی توڑنے ہی والا تھا کہ وہ اچانک بول پڑی:

“میرا بیٹا… پانچ سال کا ہے۔”

لفظ اس کے گلے میں اٹک گئے۔ کمرے میں گھڑی کی ٹک ٹک تیز ہو گئی۔

کافی دیر بعد اس نے نظریں جھکائے کہا:
“اس کا باپ… میرا شوہر…”

جملہ مکمل نہ ہو سکا، لیکن بات مکمل ہو چکی تھی۔

Ye be parhey

حرفِ معتبر:کالم: معراجِ مصطفیٰ ﷺ اور انسانیت کی معراج

اسپیکر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا:
“آپ کو فوراً پولیس میں رپورٹ کرنی چاہیے۔”

عورت چونک گئی، لیکن فوراً ہی خوف نے اسے روک دیا:
“پھر ہم کہاں جائیں گے؟ لوگ کیا کہیں گے؟ کھانے کو کیا ہوگا؟ چھت کہاں سے آئے گی؟”

یہ سوال نہیں تھے، یہ خوف کے تالے تھے۔

اسپیکر نے آہستہ کہا:
“شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار خوف ہے۔
وہ گناہ نہیں کرواتا، وہ خوف پیدا کرتا ہے، اور پھر اسی خوف کے ذریعے معصوموں کو قربان کر دیتا ہے۔”

عورت کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے اطمینان سا آیا:
“میں نے سب بیٹے کے لیے کیا… خاندان بچانے کے لیے…”

اسی لمحے دروازے کے باہر ننھا سا سایہ لرز گیا۔
وہ بچہ جو ہر رات خاموش رہتا، جو سوال نہیں کرتا، بس دیواروں کو دیکھتا۔

اس کی زندگی تباہ کسی ایک گناہ سے نہیں ہوئی، بلکہ ایک خوف زدہ فیصلہ سے ہوئی۔

اسپیکر کی آواز سخت ہو گئی:
“یاد رکھیے، جب ماں خوف کو اپنا رہنما بنا لے، تو وہ بغیر جانے شیطان کا مہرہ بن جاتی ہے۔”

عورت کا سر جھک گیا۔ آنکھوں سے آنسو نہیں گرے، شاید بہت دیر ہو چکی تھی۔
کیونکہ بعض اوقات، خاموشی، چیخ سے زیادہ مہلک ہوتی ہے۔
اور خوف، گناہ سے بھی بڑا جرم بن جاتا ہے۔

—

ایک ماں کا خوف اور ایک بچہ کی تباہ ہوتی زندگی۔ جانیں کیسے خوف شیطان کا ہتھیار بنتا ہے اور غلط فیصلے بچوں کی زندگی برباد کر دیتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں