443

بچے صبر اور رمضان

تحریر شئیر کریں

بچے صبر اور رمضان پڑھیے قلم کتاب پر

رمضان صرف بڑوں کا ہی نہیں بچوں کا بھی مہینہ ہوتا ہے۔اس مہینے میں بچوں کی ایکسائٹمینٹ دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔کیونکہ رمضان میں رنگ برنگے پکوان اور سحری افطاری کی رونقیں بچوں کو بھی اٹریکٹ کرتیں ہیں۔اس کی ایک بڑی وجہ عید بھی ہوتی ہے۔جو کی رمضان کے فورا بعد آتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ بچے رمضان کیسے گزاریں؟کہ ان کی تربیت بھی ہو اور تفریح بھی۔۔۔دس سال سے چھوٹی عمر کے بچوں پہ عموما روزہ فرض نہیں ہے ۔اگر رکھنے کی ضد کریں تو ضرور رکھوانا چاہیے۔نئیں تو چڑی روزہ رکھوا دیں۔بہت چھوٹے بچوں کے لیے عصر سے مغرب اور بڑوں کےلیے ظہر سے مغرب تک بھی رکھوایا جا سکتا۔یہ پریکٹس بھی ہوگی اور بچوں کی تربیت بھی۔۔۔

یہ بھی پڑھیے

رمضان کے حوالے سے دنیا کے مختلف ممالک کی روایات

دعاؤں کا اہتمام کہ روزمرہ کے معمول کی دعائیں ضرور یاد کروائیں اور پڑھنے کا پابند بھی بنوائیں۔نماز با ترجمہ سیکھنے پہ لگائیں۔کسی کی مدد کرنا،بچوں کے ہاتھ سے صدقہ خیرات دلوانا یہ سب وہ کام جو چھوٹی عمر سے کرواۓ جائیں تو عادت میں ڈھلتے اور اجروثواب بھی ملتا۔

بچے صبر اور رمضان تینوں لازم و ملزوم ہیں۔روزے کا ایک مقصد صبر بھی ہے۔بچوں کو اگر رمضان میں صبر کی پریکٹس کروائی جائے تو کیا ہی کہنے۔۔بچے عموما ضدی ہوتے ہیں۔ضد کیا چیز ہے ضد میں بچہ جس چیز کی ضد کرتا اسے فوری مانگتا ہے۔ہمارے ہاں بچے کی ضد کو ہی ڈیل کرنے کے دو طریقے ہیں۔ایک تو وہ چیز دے دی جاتی ہے تاکہ بچہ چپ ہوجاۓ۔دوسرا اسے مارا پیٹا جاتا ہے۔یہ دونوں طریقے غلط ہیں۔

بچے کو ضد کرنے پہ کبھی چیز مت دیں۔اسے کہیں یہ چیز ضرور ملے گی مگر ابھی نہیں ۔۔۔کل ملے گی زیادہ ضد کریں تو چیز دکھا دیں تاکہ اسے تسلی ہو جاۓ۔
ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بچے کو کوئی ٹارگٹ دے دیا جاۓ کہ فلاں اسائنمینٹ مکمل کر لو یا گھر میں موجود گملوں کو پانی دے دو پھر ملے گی آپ کی مطلوبہ چیز ،اس طرح سے بچے کے اندر صبر بھی پیدا ہوگا اور اسے سمجھ آۓ گا کہ ہر چیز کی قیمت دینا پڑتی تب جا کر چیز ملتی ہے۔

بچے کو خود سے چیز لاکر دینی ہے تب بھی اسے بتاو کہ آج شام کو فلاں چیز ملے گی۔ اب وہ صبح سے انتظار کرے گا۔اسی کا نام صبر ہے۔رمضان صبر کا مہینہ ہے۔جب بڑے کھانا پینا ترک کرتے ہیں تو یہ عملی مثالیں بچوں کے اندر ایسا ڈیٹا فیڈ کرتی ہیں جو انھیں صبر پہ آمادہ کرتا ہے۔بچوں کو انبیاء اور صحابہ اکرام کے قصے سنائیں۔ان کے صبر کے واقعات کو ہائی لائٹ کریں کہ انھوں نے کیسے صبر کیا اور تب جا کر انھیں اتنا مقام ملا۔

صبر کو معمولی مت سمجھیں ۔اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے ان اللہ مع الصابرین “اور بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔صبر زبانی کلامی سیکھنے کی چیز نہیں ہے۔ماں باپ کو خود رول ماڈل بننا ہوگا۔اگر ان کے اپنے اندر صبر نہیں ہے تو بچوں کو کہاں سے سکھائیں گے۔

بچوں کو روزے رکھنے کی پریکٹس کروائیں ۔دس سال کی عمر تک پہنچ کر بھی روزہ نا رکھیں تو سزا دیں۔تاکہ روزہ ان کے عمل کا حصہ بن سکے۔

مغرب میں بچوں کےا ندر صبر دیکھنے کے لیے ایک ریسرچ کی گی۔بچوں کو ٹافیاں دیں گیں اور ان سے کہا گیا کہ یہ ٹافیاں آپ ابھی بھی کھا سکتے اگر آپ نے ایک گھنٹے بعد کھائی تو ساتھ میں ایک ٹافی اور بھی ملے گی۔بچوں کو اکیلا چھوڑ دیا گیا اور کلاس میں کیمرے نصب تھے۔جن بچوں نے ٹافیاں نہیں کھائیں۔ان بچوں کو بیس سال تک انڈر سٹڈی رکھا گیا۔تحقیق سے پتہ چلا کہ جن بچوں نے ٹافیاں فورا کھا لیں تھیں ان کے اندر صبر کا فقدان رہا۔اور بڑے ہونے کے بعد بھی وہ کوئی قابل ذکر کارنامہ سرانجام نہیں دے سکے جبکہ جن بچوں نے فورا نہیں کھائیں وہ زیادہ ترقی یافتہ نکلے۔

کہا جاتا ہے کہ ناروے میں قانون ہے کہ بچہ اگر رات کو رو کر دودھ مانگے تو اسے کبھی مت دو۔۔ورنہ یہ ساری عمر بلیک میل کرے گا۔صبر اتنی اہم چیز ہے کہ اللہ نے خود کو صبر کرنے والوں کے ساتھ کہا ہے۔جب اتنا بڑا وصف ہو تو پھر محنت بھی زیادہ کرنا ہوگی۔مائیں اگر اپنے بچوں کو ترقی یافتہ بنانا چاہتیں تو ان کے اندر صبر پیدا کرنا ہوگا۔اس سے بھی پہلے خود صبر کرنا سیکھنا ہوگا۔اگر وہ خود چیخیں چلائیں گیں تو بچوں کے اندر صبر کیسے آۓ گا۔

رمضان میں عموما مائیں کاموں کی زیادتی اور روزے کی وجہ سے اپنا غصہ بچوں پہ نکال رہی ہوتیں ہیں۔اس سے ان کا اپنا روزہ بھی خراب ہوتا دوسرا وہ بچوں پہ بہت برا امیج چھوڑتی ہیں جو کہ خلاف صبر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں