سنت ڈائری پڑھیئے قلم کتاب پر
میں کل سے شکر ادا کرتے نہیں تھک پا رہی،میرا پورا وجود شکر کے احساس سے لبریز سجدہ ریز ہے اس خالق ارض و سماں کے آگے ،بلاشبہ وہی ہنساتا اور وہی رلاتا ہے۔ہوا کچھ یوں کہ کل بریرہ نے پورا مگ چائے کا اپنے اوپر گرا لیا،ایک لمحہ لگا تھا،چائے ٹیبل پہ پڑی تھی اور بریرہ بالکونی میں کھڑی تھی،میں ایک نظر بریرہ کو دیکھ کر کہ بالکونی میں ہے ڈسٹ بن میں کوڑا پھینکنے آئی تھی،پتہ نہیں وہ بالکونی سے کب کمرے میں پہنچی اور چائے بھی گرا لی،چیخنے کی آواز کے ساتھ سب کمرے کی طرف بھاگے،گرما گرم چائے پورا کپ اس نے اپنے سامنے والے حصے یعنی سینے پہ گرایا ہوا تھا،فٹا فٹ شرٹ اتاری دیکھا تو سکن سرخ ہو چکی تھی،فوری طور پر ٹوتھ پیسٹ لگائی،تھوڑی دیر روتی رہی بریرہ پھر کھیلنے لگ گئی،میرا دل پتے کی طرح لرز رہا تھا۔کہ اتنی گرمی میں اگر کچھ ہوجاتا تو
فورا احتساب کا دفتر کھولا ، کیا ہواتھا؟کچھ ایسا جس کی پاداش میں اللہ نے یہ سب دکھایا،اچانک یاد آیا کچھ دیر پہلے بریرہ کو پیپر پہناتے ہوئے اس کے ریشز دیکھ کر بے ساختہ منہ سے نکلا تھا کہ ایک تو یہ کم بخت پوٹیاں جان نہیں چھوڑ رہی،فورا توبہ کی،بیماری کے وقت ناشکری کے کلمات منہ سے نکالنا منع ہے ۔اور اللہ نے فورا دکھا بھی دیا،شکر کرو گے تو اور دو ناشکری کرو گے تو وہ بھی چھین لوں گا جو ہے۔اللہ نے اس حادثے سے بال بال بچایا تھا،شکر اور احتساب جاری تھا،شام ہوگئ تھی اور شام سے رات مگر میرے دماغ سے یہ واقعہ نکل نہیں پا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
چلو ناشکری کے کلمات نکالے جبھی ایسا ہوا مگر بچت کیسے ہوئی ،آدھا کلو چائے گری تھی وہ بھی نازک حصے پر پھر بھی اللہ کا کرم ہو گیا نا کوئی چھالہ ابھرا اور نا ہی سکن جلی،کوندا سا لپکا صبح کے اذکار،جی ہاں صبح کے اذکار میں مذکور دعا بسم اللہ الذی لا یضر مع السمہ شی ء فی الارض و لا فی السماء و ھو السمیع العلیم”اللہ کے نام کے ساتھ کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی جو کچھ آسمان میں ہے اور جو زمین میں ہے وہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں اس دعا کی فضیلت کے بارے میں جو کوئی صبح شام پڑھے گا اسے اس دن کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی،پھر ان صحابی کا واقعہ ذہن میں آیا جن کے گھر کو آگ لگ گئی،وہ کام پہ تھے کسی نے اطلاع دی کہ آپ کے گھر کو آگ لگ گئ ہے وہ اطمینان سے بولے کچھ نہیں ہوگا صبح میں نے بسم اللہ الذی والی دعا تین بار پڑھی تھی اور اتنا یقین اور گمان ہو سونے رب پر تو نقصان کیسے ہو سکتا۔جب وہ صحابی گھر لوٹے تو آگ بجھ چکی تھی اور کوئی نقصان بھی نا ہوا۔
چین وہ ملک ہے جس نے حالیہ سالوں میں خود کو منوایا اور منواتا ہی چلا جا رہا،اس کی وجہ نت نئی چیزوں کے بارے میں تحقیقات ہیں۔ترقی ہو اور تحقیق نا ہو یہ کیسے ممکن ہے؟تو بات ہو رہی تھی بسم اللہ الذی والی دعا کی تو چائنہ نے اس دعا پہ تحقیق کی ،اس دعا کے پڑھنے پہ کمپیوٹر نے جو ایفیکٹ دکھایا تھا وہ ایک شیڈو یعنی سایہ سا تھا جو بن رہا تھا۔نبی کریم ﷺ کی بتائی ہوئی بات اور سائنس میں میل نا ہو یہ ممکن ہی نہیں۔آپ ﷺ نے بھی یہی گارنٹی دی تھی کہ اللہ کے کرم کی وجہ سے کوئی نقصان نہیں ہوگا،سائنس بھی بتا رہی تھی کہ کسی نادیدہ چیز کا سایہ ہے یقینا ابررحمت کا سایہ،دعا پہ تحقیق جاری رہی،اس دعا کو ہر بڑی سے بڑی بیماری مصیبت میں آزمایا گیا،نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا تھا۔اور کل بریرہ کے چائے گرنے والے واقعہ سے یقین کئی گنا بڑھ گیا تھا۔یقینا اس دعا کی بدولت بریرہ جلنے سے محفوظ رہی الحمدللہ کثیرا کثیرا،اللہ اسے ہر بلا سے مھفوظ رکھے۔آمین،
اور صبح و شام کے اذکار پڑھنے کا عجزہ بھی،کہیں پڑھا تھا کہ استغفار اور صبح و شام کے اذکار دو ایسی نیکیاں ہیں کہ ان کے پڑھنے کے بعد زندگی ویسی نہیں رہتی جیسی تھی،سراپا بدل جاتی ہے،یقینا اس بات میں زرا برابرا بھی جھوٹ نہیں ہے۔بریرہ ایسی بچی ماشاء اللہ سے کہ ہاتھوں سے پھسل پھسل جاتی ،شراری اور چلبلی سی،ٹک کے بیٹھنا اسے آتا ہی نہیں،ایسے میں بہت بار ایسا ہوتا کہ لگتا ابھی کچھ ہو جائے گا مگر اللہ اسے محفوظ رکھتا اور میرے اپنے ساتھ بہت کچھ ایسا ہوتا ہے مگر ان دعاوں اور چھوٹی چھوٹی سنتوں پہ عمل سے زندگی میں بہت برکتیں اور آسانیان ہیں،بلکہ یوں کہنا بے جا نا ہوگا،اگر کچھ اچھا ہے تو انہی اعمال کی بدولت،اللہ ہمیں سنت پہ عمل کرنے والے بنائے۔آمین
سنت ڈائری آپ نے پڑھی،اگر صبح و شام کے اذکار آپ پڑھتے ہیں تو بہت اچھا نہیں پڑھتے تو بسم اللہ کیجیے۔