غیبت اور جدید سائنس ۔جانیے قلم کتاب پر
غیبت کا لفظی مطلب ہے پیچھے سے کاٹنا ۔کچھ الفاظ اپنے اندر اتنے بھر پور ہوتے ہیں کہ وضاحت کی ضرورت ہی نہیں۔رہتی۔بیک بائٹنگ کو ہی دیکھ لیجیے۔کسی کو اگر غیبت کا مطلب سمجھنا ہو تو بیک بائٹنگ سے سمجھا سکتے ہیں.یعنی پیچھے سے کاٹنا۔۔جب آپ کسی کی غیبت کر رہے ہوتے ہیں تو دراصل اسے کاٹ ریے ہوتے ہیں۔غیبت بہت بری چیز ہے جو ْآپ کو اللہ اور اس کے بندے دونوں کی نظر میں نا صرف گرا دیتی ہے بلکہ مجرم بھی ٹھہراتی ہے۔
غیبت اور جدید سائنس
غیبت کے بارے میں سائنس کیا کہتی ہے جان کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اللہ رب العزت پہ بے ساختہ پیار آتا ہے کہ وہ یماری کتنی کیر کرتا ہے جبھی تو منع کیا غیبت جیسے کبیرہ گناہ۔سے۔۔۔ویل الکل ھمزتہ المزہ “ہر عیب جو اور طعنہ دینے واکے کے لیے ہلاکت ہے۔ویل جہنم کا ایک گھڑا ہے جہاں غیبت کرنے والوں کو ڈالا جائے گا۔
یہ۔بھی پڑھیے
جدید سائنس کہتی ہے کہ جونہی ہم کسی کی برائی بیان کرتے ہیں ہنارے دماغ میں۔ایک منفی ہارمون پیدا ہوتا ہے جو فورا خون میں شامل ہو جاتا۔خون میں شامل ہو کر یہ وایٹ سیلز ختم کرنا شروع کر دیتا ہے۔کینسر بھی یہی کام کرتا ہے تو ہمیں اہنی زبان کو منہ کے کینسر سے کیسے بچانا ہے؟یہ اب ہمارا ٹارگٹ ہونا چاہیے۔ابھی بھی نہیں سمجھیں گے تو کب سمجھیں گے۔یاد رکھیں غیبت سننے والا۔بھی غیبت کرنے والے کے جیسا ہے۔اگر ہم غیبت کرنے والے کے سامنے اس بندے کی اچھایئ بیان کرنا شروع کربدیں۔تو وہ خودبخود چپ ہوجاِے گا۔ایک دو بار ایسا کریں گے تو اندازہ ہو جائے گا۔یہاں میری دال نہیں گلنے والی۔
سوال یہ ہے کہ لوگ غیبت کیوں کرتے ہیں؟
آاس لیے کہ ان کے پاس بات کرنے کو کوئی اور موضوع نہیں ہوتا۔۔۔
بچنے کا طریقہ کیا ہے؟صرف اتنا کہ ہر روز چند صفحات کسی اچھی سی کتاب کے پڑھ لیا کریں۔آپ کے پاس اتنے موضوعات ہوں گے ڈسکشن کے لیے کہ کسی کی برائی کاموقع ہی نہیں ملے گا۔خوش رہیے خوشیاں باںٹتے رہیے۔پھر ملیں۔گے کسی نئے موضوع کے ساتھ اللہ کے حوالے