447

قرآن کے انیسویں پارے کے اہم نکات

تحریر شئیر کریں

قرآن کے انیسویں پارے کے اہم نکات ملاحظ کیجیے

Para # 19
Dawrah e Qur’an# 2021
Scholar Nighat Hashmi

اہم نکات

رسول جٹھلا دیے گئے
رحمان کے بندے
انبیاء علیہم السلام کی دعوت
قوموں کا عبرتناک انجام۔
ملکہ سبا اور حضرت سلیمان

سورۃ الفرقان

فرقان حق اور باطل میں فرق کرنے کو کہتے ہیں۔
مشرکین کے اعتراضات
مشرک لوگ کہتے ہیں کہ
یہ فرقان من گھڑت ہے اس کے ساتھ فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا اور اس رسول کو باغ اور خزانہ کیوں نہیں دیا گیا۔۔

آخرت سے ناامید ہونے والوں کے اعتراضات اور ان کے جوابات

مشرکین کو اعتراض تھا کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں بیجھے گئے اور انھوں نے تکبر کی وجہ سے اللہ کو اعلانیہ دیکھنےکا مطالبہ کیا۔

جس دن وہ فرشتوں کو دیکھ لیں گے تو ان کی چیخیں نکل جائیں گی۔
اس دن ظالم اپنے ہاتھ چپا کر کہے ہاۓ کاش میں رسول کا بتایا راستہ اختیار کرتا۔
اس دن ظالم حسرت کرے گا کہ اے کاش میں فلاں شخص کو دوست نہ بناتا اس نے مجھے بہکا دیا۔
اللہ تعالیٰ نے حشر کے میدان میں ظالم انسان کی حسرت ناک اور دل دوذ چیخوں کی صورت میں بری دوستی کا انجام بتایا ہے
اپنےدوستوں کے بارے میں فیصلہ کر سکیں۔
اس دن رسول کہے کہ میری قوم نے قرآن کو چھوڑا ہوا بنا رکھا تھا۔۔
کیا ہم بھی توقرآن کو چھوڑے ہوئے تو نہیں
اپنے گھروں میں ضرور دیکھئے گا۔۔

جو شخص خواہش نفس کو معبود بنا لیتا ہے، وہ اپنی مرضی کرتا ہے اور رب کی مرضی کو چھوڑ دیتا ہے۔

عباد الرحمن کی خصوصیات
زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں۔
جب جاھل ان سے بحث کرتے ہیں تو کہتے ہیں سلام ہو۔
اپنے رب کے حضور سجدہ اور قیام میں رات گزارتے ہیں۔
ان کا خرچ اعتدال کا ہوتا ہے
لغو پر سے شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں
جہنم کے عذاب سے بچنے کے لیے دعا مانگتے ہیں
اپنی بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک چاہتے ہیں
پرہیز گاروں کا امام بننے کی دعا کرتے ہیں

سورۃ الشعراء

جب موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے پاس جانے کا حکم ملا تو انھوں نے کہا کہ
مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے میرا سینہ تنگ ہوتا ہے میری زبان نہیں چلتی ہارون کو میرا مددگار بنا دیں۔

دین کے داعی کو اللہ کا پیغام پہنچاتے وقت موسی علیہ السلام جیسی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

موسیٰ علیہ السلام نے کہا مجھے رب العالمین نے بھیجا ہے

فرعون نے کہا رب العالمین کیا ہے
موسیٰ علیہ السلام نے کہا
مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہیں ان کا رب
آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، اسکا رب
تمہارا اور تمہارے آبا واجداد کا رب ہے

جابر بادشاہ نمرود کے دربارمیں رب العالمین کا تعارف۔۔

ابراہیم علیہ السلام نے کہا:
اللہ رب العالمین کے علاوہ یہ سب (بت)میرے دشمن ہیں۔
مجھے پیدا کیا اور وہی میری رہنمائی فرماتا ہے
جب بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے
جو مجھے موت دیگا اور دوبارہ مجھے زندگی بخشے گا
جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزے جزا میری خطائیں معاف کر دے گا

شاعروں کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں
کیونکہ شاعر دل پسند باتیں کرتے ہیں
غلو سے کام لیتے ہیں
شاعری کی بنیاد تخیل پر ہے۔
شعراء بے عمل ہوتے ہیں۔

سورة النمل

حضرت داؤد علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کو شکر گزاری کی وجہ سے اللہ تعالی نے علم وحکمت عطا کی گئی تھی۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے جن انسانوں اور پرندوں کے لشکر پورے ضبط میں رکھے جاتے تھے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کو پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی۔

چیونٹیوں کی وادی میں سے گزرتے ہوئے چیونٹیوں کی گفتگو سن کر سیدنا سلیمان علیہ السلام سلام مسکرائے ۔

چیونٹی نے کہا کہ اپنے بلوں میں گھس جاؤں کہیں سلیمان علیہ السلام کا لشکر بے دھیانی میں ہمیں کچل ڈالے۔
حیوانات بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی کامل علم نہیں رکھتا۔
اتنا بڑا اقتدار ہونے کے باوجود سیدنا سلیمان علیہ السلام غیب کا علم نہیں جانتے تھے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام لشکر میں ہدہدکو نہ پاکر غصہ ہوئے، اور کہا کہ اگرہدہدنےیہاں نہ ہونے کی کوئی معقول وجہ نہ بتائی تو اسے سزا ملے گی۔

سیدنا سلیمان علیہ السلام نےکیسے discipline کو maintain کیا ہو اتھا۔۔
ہدہد نے کہا میں قوم سباکےمتعلق ایک اہم خبر لایا ہوں۔
وہاں کی حکمران ایک عورت ہے
ان کی قوم اللہ تعالی کی بجائے سورج کی پوجا کرتی ہے۔
شیطان نے انہیں بہکا دیا اب وہ راہ نہیں پاتے
ایک پرندہ تک جانتا ہے کہ رب کون ہے

?ہم کیا کریں

اپنے نفس کی خواہشات سے بچنا ہے۔
ربانی انسان بننا ہے۔
عباد الرحمٰن کی خصوصیات کو اپنانا ہے۔
رسول کی سنت کو اپناناہے۔
برے دوستوں سے بچنا ہے اور نیک لوگوں کی صحبت اپنانی ہے۔
ان شاءاللہ

قرآن کے انیسویں پارے کے اہم نکات پڑھنے کے بعد ان پر عمل کی بھر پور کوشش اور دعا میں لگے رہیں۔اللہ ہمیں قرآن کا صحیح فہم اور عمل کرنے والا بناۓ۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں