554

قرآن کے تئیسویں پارے کے اہم نکات

تحریر شئیر کریں

تئیسویں پارے کے اہم نکات ملاحظ کیجیے۔

Para # 23
Dawrah e Qur’an
Scholar Nighat Hashmi

اہم نکات*
١.lسورة یٰس
سورة الصافات
سورة ص
سورة الزمر

پارہ نمبر 23*

سورۃ یٰسٓ
اس سورت سے متعلق فضیلت سے related تمام احادیث ضعیف اور موضوع ہیں۔

قرآن مجید نازل کرنے کا مقصد ان لوگوں کو ڈرانا ہے جن کے پاس پہلے کوئی رسول نہیں آیا تھا۔۔ مگر مشرکین اپنے تکبر کی وجہ سے صرف دنیاوی وسائل کو ہی دیکھتے ہیں۔۔

مرد مومن کی دعوت
اللہ تعالیٰ نے دو آدمی جو توحید کی دعوت دینے کے لیے بیجھے تھے ان کی تقویت کی لیۓ مرد مومن کو بیجھا ۔
مرد مومن نے لوگوں سے یہ نہیں کہا کہ تم لوگ عبادت کرو بلکہ کہا کہ میں اپنے رب کی عبادت کیوں نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔۔
مرد مومن نے اخلاص اور محبت کا ثبوت دیا

سورۃ الصافات
الصافات سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اپنے رب جے سامنے صفیں باندھ کر عبادت میں مشغول ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے کائنات کی تدبیر میں مصروف ہیں۔۔

ذکر کی تلاوت کرنے والے
اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کی قسم کھائی ہے جو نصیحت کے لیے قرآن لا کر سناتے ہیں۔۔

قرآن اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کی غذا ہے۔۔
رب والوں کا سرمایہ یہی ذکر تلاوت ہے۔اسی سے ان کے غمزدہ دل میں مسرت کی لہر دوڑتی ہے۔۔
جس طرح جنت ایک چٹیل میدان ہے اور اسے سر سبز و شاداب بنانے کے لیے ذکر کو مقرر کیا گیا اسی طرح ہمارے دل بھی ویران ہیں جسے اللہ کی یاد ہی پر کر سکتی ہے۔۔

اگر کوئی شخص ایمان لا کر بھی اللہ کی یاد سے غافل ہے تو وہ اپنے رب کے جلال سے ناواقف ہے۔۔

عظیم قربانی
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے نجات دی تو انھوں نے شام کے علاقے حرام میں ہجرت کی۔۔ اور اللہ تعالیٰ سے صالح اولاد کی دعا کی۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیل کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔۔
حضرت ابراہیم اور اسماعیل آزمائش پر پورے اترے اور انھوں نے ثابت کر دیا کہ اللہ کے حکم کے آگے کوئی چیز عزیز نہیں ہونی چاہیے۔۔
اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں نے اللہ کے جو اوصاف بیان کیے ہیں وہی اس کے جلال کے لائق ہے

سورۃ ص

ابو طالب کی وفات
جب حضرت ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو مکہ کے سردار ان کے پاس آۓ اور انھیں اپنے معبودوں پر قائم رہنے کی ہدایت دی۔۔۔ حضرت ابو طالب کفر کی حالت میں انتقال کر گئے اور جہنمیوں میں شامل ہو گئے۔۔

سرداروں کی مخالفت کی وجہ
مکہ کے سردار کہتے تھے اگر یہ کلام واقعی اللہ کی طرف سے ہے تو مکہ کے کسی سردار پر نازل کیوں نہیں ہوا۔۔ محمد پر کیوں نازل ہوا جو پیدائشی یتیم ہے۔۔۔

سورۃ الزمر*

جس طرح ہمیں مادی چیزیں خالص چاہیے اسی طرح اللہ تعالیٰ کو بھی ہم سے خالص عبادت مطلوب ہے۔۔

خسارہ اٹھانے والے
ان لوگوں کے لیے کھلا خسارہ ہے جو اپنی زندگی، اپنی قوتوں، اپنے مال اور اپنی اولاد سب کچھ لگا کر جہنم تک پہنچ جائیں۔۔

طاغوت
طاغوت ہر اس سرکش کو کہتے ہیں جو بندگی کی حد سے تجاوز کر جاۓ جیسے بت اور شیاطین۔۔

شرح صدر
حق قبول کرنے کے لیے سینے کا کھل جانا شرح صدر کہلاتا ہے۔۔ جو شخص یہ decide کر لیتا ہے کہ اللہ کی راہنمائی میں زندگی گزارنی ہے وہ غافل شخص کی مانند نہیں ہو سکتا۔

ہم کیا کریں ؟

قرآن کے احكامات پر عمل کرنے كا عہد كرنا ہے تاکہ قيامت کے دن میرے والدين كو بهى تاج پہنايا جاۓ
آج اپنے دانستہ و نا دانستہ گناہوں پر رو رو كر اللہ سے معافى مانگنى ہے اور آئیندہ كبهى وه كام نہ کرنے كا عہد كرنا ہے
خواہش نفس كى پيروى سے بچنا ہے
ان شاءاللہ

قرآن کے تئیسویں پارے کے اہم نکات پڑھیے اور قرآن فہمی سے لطف اندوز ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں