423

لاہور ہائیکورٹ نے قرآن کی تعلیم کو رواں سال سے لازمی قرار دے دیا

تحریر شئیر کریں

لاہور ہائیکورٹ نے قرآن مجید کی تعلیم کو نصاب میں شامل کرنے پہ زور دیتے ہوۓ کہا کہ تین سال سے اس فیصلے کو التوا میں ڈالا جاتا رہا ہے ان کا کہنا ہے کہ قرآن مجید کو باقاعدہ مضمون کا درجہ دیا جاۓ۔پہلی سے پانچویں تک ناظرہ جبکہ چھٹی سے انٹر تک قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھایا جاۓ گا۔رہی بات نمبروں کی کہ قرآن کے باقاعدہ نمبرز ہوں گے یا نہیں اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

قرآن کا نصاب میں تسلیم کیے جانا ایک اہم سنگ میل ہے۔بچوں کے اوہر تعلیم کا بوجھ بہت بڑھ گیا ہے۔ایسے میں قرآن کی تعلیم کو اتنی توجہ نہیں مل رہی جتنا کہ ضرورت ہے۔قرآن اللہ رب العزت کا آخری پیغام۔ جو رہتی دنیا تک ایک زندہ و جاوید معجزہ ہے۔یہ سراپا ہدایت اور سراپا خیر ہے۔اس کا پڑھنا پڑھانا سب خیر کے کام ہیں۔ہم وہ امت ہیں جن کو کوئی اور معجزہ نہیں دیا گیا۔قرآن ہی اس امت کا معجزہ ہے۔معجزہ اس چیز کو کہتے ہیں جس کے آگے عقل عاجز آجاۓ دنگ رہ جاۓ۔قرآن کے چودہ سو سالہ سفر میں اس امت نے بارہا دیکھا کہ اس کا ایک ایک حرف علم ودانش کے موتی بکھیرتا ہے۔سائنس تک قرآن کے اگے گھٹنے ٹیک چکی ہے۔

انگریز اس کو پڑھتے ہیں اور نت نئ ایجادات کرتے ہیں اور ایک ہم ہیں جن سے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو ہا رہا کہ قرآن سلیبس میں ہونا چاہیے یا نہیں ہوناچاہیے۔اس کے نمبرز لگنے چاہیے یا نہیں لگنے چاہیے۔یہ کسی بحثیں ہیں یہ کون لوگ ہیں اور یہ بات کر کس کتاب کے بارے میں رہے ہیں۔اگر سچ میں جان جاتے تو قرآن ہماری آخری ترجیح بنا سلیبس بننے کا منتظر نا ہوتا۔۔۔
اے اللہ کے بندو ہوش میں آؤ میں پوچھتی ہوں ساری دنیا کی کتابیں پڑھ لو ساری دنیا کے فلسفے اور مضمون پڑھ ڈالو اگر اس کتاب کو نا پڑھ تو ککھ نہیں پڑھا۔یقین نہیں آتا تو حکیم الامت کے قرآن پر فرمودات پڑھو ۔سید مودودی کے فرمان پڑھو تمہاری آنکھیں کھلیں کہ یہ کتاب نہیں ہے یہ الکتاب ہے۔خاص الخاص کتاب اللہ کی طرف سے بھیجی گئ ہے۔اس کو پڑھو گے تو باقی مضامین میں پاس ہوگے نہیں تو سب میں فیل۔۔ تم نے جو درجہ قرآن کودینا تھا انگریزی کو دے دیا۔۔۔ تف ہے تمہاری عقلوں پر۔

پھر میں نے حسد کرنا چھوڑ دیا

قرآن کی تعلیم کا طریقہ کیاہونا چاہیے؟


قرآن کی تعلیم کا طریقہ اب تبدیل ہونا چاہیے۔ناظرہ قرآن کے ساتھ ہی قرآن فہمی کی تعلیم بھی ہونی چاہیے۔جب انگلش بچہ پہلے دن سے پڑھ رہا ہوتا ہے تو قرآن سمجھ کر کیوں نہیں۔اور قرآن کو صرف رٹا نہیں باقی زرائع کی مدد سے بھی پڑھائیں۔قرآن کیوں لکھوایا نہیں جاتا۔۔۔جب کہ باقی سارے مضامین لکھے جاتے۔۔۔لکھنے سے سبق دماغ میں جلدی بیٹھتا ہے۔تمام سمعی وبصری آلات کی مدد سے قرآن پڑھائیں اور اس عظیم کام کے لیے اساتذہ کو ٹریننگ دی جاۓ۔پھر شروع کیا جاۓ۔مکمل منصوبہ بندی اور نیک نیتی شرط اول ہے۔اللہ ہمیں حامل قرآن بنادے۔۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں