پھر میں نے حسد کرنا چھوڑ دیا”
حسد ایسی بیماری ہے جو سب جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔سرکار دوعالم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا یے جیسے آگ لکڑی کو۔
امام حاتم الأصم رحمه الله کہتے ہیں: ’’میں نے دیکھا کہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے حسد کرتے ہیں، پھر میں نے الله سبحانه وتعالیٰ کے اس فرمان کو دیکھا:
{نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا}*
“دنیا کی زندگی میں ان کی معیشت کے سامان کو ہم نے تقسیم کیا ہے۔” (الزخرف:٣٢)
پھر میں نے حسد کرنا چھوڑ دیا اس لیے کہ یہ الله تعالیٰ کی تقسیم پر اعتراض کرنا ہے۔‘‘
جس طرح اس آیت نے ان کی رہنمائی کی ہم اور آپ بھی اس آیت کو اگر سمجھ لیں، تو جب بھی نفسِ امارہ ہمیں حسد کی طرف لے جائے تو یہ آیت ہمیں اس بری عادت کو چھوڑنے میں مدد کرے گی۔ (بإذن الله تعالى)
ژندگی بہت مختصر ہے۔نیکیوں کی حفاظت بھی ایسے ہی کرنی چاہیے جیسے ہم دنیاوی مال ومتاع کی کرتے ہیں۔ورنہ کل روزجزاء جب نیکیوں کی کرنسی چلے گی تو حسد جیسی بیماریاں انجانے میں ہمارے سارے اعمال اپنے ساتھ لے جا کر بھسم کر ڈالے گی۔حسد کینہ بغض صرف نیکیوں کی ہی نہیں ہمارے سکون کی بھی دشمن ہیں۔یی ایک واقعہ ہے ایک نصیحت ہے قرآنی علاج ہے۔عمل کرنا مت بھولیے