568

کیا ہم قدرتی آفات سے بچ سکتے ہیں؟

تحریر شئیر کریں

کیا ہم قدرتی آفات سے بچ سکتے ہیں؟

13 اکتوبر دنیا بھر میں حادثات سے بچاؤ کے دن کے طور پہ منایا جاتا ہے۔یقینا یہ ایک اہم سبق ہے جو ہر سال اس زمین کے باسیوں کو یاد دہانی کروانے آتا ہے کہ یہ زمین یہ دھرتی تمہاری ماں جیسی ہے اس کی حفاظت کرو اس کی بقا کا سوچو ،اپنے لیے نا سہی اپنے بچوں اپنی نسل کے لیے سہی۔
زمین وہ سیارہ ہے جس پہ سب سے زیادہ حادثات ہوتے ہیں۔کیونکہ انسان وہ مخلوق ہے جس کے اندر خیر کے ساتھ ساتھ شر بھی پایا جاتا ہے۔یہی شر مختلف حوادث کاباعث بھی بنتا ہے۔ہر دوسرے دن کہیں نا کہیں بلڈنگ گرنے کی خبر سنائی دیتی ہے۔ایسا کیوں ہوتا؟زیادہ تر ناقص میٹریل اس کی وجہ بنتا جو آدم کے بیٹے زرا سے فائدے کے لیے انسانیت داؤ پہ لگا دیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
زمین کیوں ہلتی ہے؟سیلاب کیوں آتے ہیں؟یہ قدرتی آفات ایسے ہی نہیں آجاتی،قدرت کی بنائی ہوئی زمین میں فساد برپا ہو گا تو کیا وہ چپ بیٹھے گا؟نہیں نا!بس یہی وجہ ہے قدرتی آفات آنے کی۔اگر اس سے بچنا ہے تو اپنے گناہوں پہ نادم ہو کر تجدید عہد کرنا ہو گا۔استغفار کو لازم پکڑنا ہوگا۔اپنے آنے کے مقصد کو کھوجنا ہوگا۔ہم اس دنیا میں کیوں آۓ؟جس دن یہ سمجھ آ گئ۔اس دن زمین حضرت انسان کے شر سے محفوظ ہاجاۓ گی۔حضرت عمر ؓکے عہد میں زلزلہ آیا تو آپ نے اہنا درہ زمین پہ مارتے ہوۓ کہا کیا عمر تیری زمین پہ انصاف نہیں کرتا۔۔۔ سوچیں آج انصاف کہاں ہے۔صرف کتابوں میں وی بھی الفاظ کی صورت میں۔
آپ ﷺ نے فرمایا جب اعلانیہ گناہ کیا جاۓ تو انتظار کرو آفات کا زلزلوں کا۔

جہاں بچوں کے ساتھ سرعام ریپ ہوں ۔جہاں عزتیں ناچتی ہوں۔جہاں نوجوان اعلانیہ گرل فرینڈ رکھنے لگے وہاں زلزلے نا ائیں تو اور کیا ہو؟ارشاد باری تعالی ہے “تم پہ جو بھی مصیبت آتی ہے تمہارے ہاتھوں کی وجہ سے آتی ہے۔اور سورہ روم میں فرمایا “خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا تمہارے ہاتھوں کے شر سے”

جی ہاں ہم قدرتی آفات اور اسکی تباہ کاریوں سے بچ سکتے ہیں اگر ہم خود کے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ مخلص ہو جائیں۔اگر ہم گناہ چھوڑ کر راہ راست پر آ جائیں۔پرانی قومیں کیوں تباہ ہوئیں کیونکہ انھوں نے ہدایت کے راستے کوچھوڑ دیا تھا۔

کیا ہم قدرتی آفات سے بچ سکتے ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں