
موبائل اسکول اور موبائل ہسپتال کے بعد جدید دور میں ایک دلچسپ پیش رفت ’’موبائل مسجد‘‘ کی صورت میں سامنے آئی۔ بظاہر یہ تصور حیران کن لگتا ہے کہ ایک ایسی مسجد بھی ہو سکتی ہے جسے ضرورت کے مطابق ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکے، لیکن جاپان نے اسے عملی شکل دے کر دکھا دیا۔
ٹوکیو کی کمپنی YASU PROJECT نے 2020ء کے ٹوکیو اولمپکس اور پیرا لمپکس میں آنے والے مسلمان کھلاڑیوں، حکام اور سیاحوں کی نماز کی سہولت کے لیے موبائل مسجد کا منصوبہ متعارف کرایا۔ اس کا ابتدائی ماڈل جولائی 2018ء میں پیش کیا گیا تھا۔
یہ دراصل ایک بڑے ٹرک کو اس انداز میں تبدیل کرکے بنایا گیا تھا کہ چند لمحوں میں اس کے اندر موجود جگہ ایک کشادہ نماز گاہ میں تبدیل ہو جاتی۔ پھیلنے کے بعد اس کا رقبہ تقریباً 48 مربع میٹر ہو جاتا تھا اور اس میں بیک وقت تقریباً 50 افراد نماز ادا کر سکتے تھے۔ وضو کے لیے بیرونی پانی کے نل بھی موجود تھے۔
یعنی جہاں مستقل مسجد تک رسائی مشکل ہو، وہاں نماز کے لیے ایک عارضی مگر باقاعدہ جگہ فراہم کی جا سکتی تھی۔
یہ صرف ایک گاڑی یا انجینئرنگ کا منصوبہ نہیں تھا؛ اس کے پیچھے ایک سادہ سا خیال تھا: ضرورت جہاں ہو، سہولت وہاں پہنچائی جائے۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنے معاشرے کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔
ہم اکثر ترقی کو بڑی بڑی عمارتوں، بلند میناروں اور شاندار تعمیرات سے ناپتے ہیں۔ یقیناً خوبصورت مساجد اور اسلامی فنِ تعمیر ہماری تہذیبی شناخت کا حصہ ہیں، لیکن مسجد کی اصل روح صرف اس کی عمارت نہیں؛ وہ انسانوں کو اللہ سے جوڑنے اور معاشرے میں خیر، آسانی اور اجتماع پیدا کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔
جاپان کے اس منصوبے کی دلچسپ بات یہ تھی کہ ایک غیر مسلم ملک نے اپنے مسلمان مہمانوں کی ایک بنیادی مذہبی ضرورت کو سمجھا اور اس کے لیے ایک عملی حل تلاش کیا۔ YASU PROJECT کے مطابق اس منصوبے کا مقصد صرف نماز کی جگہ فراہم کرنا نہیں بلکہ مختلف قوموں کے لوگوں کے درمیان خیرسگالی اور امن کے تصور کو بھی فروغ دینا تھا۔
یہاں سوال جاپان کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہم ضرورت کو کتنی جلدی سمجھتے ہیں اور اس کے لیے آسانی پیدا کرنے کے بارے میں کتنی سنجیدگی سے سوچتے ہیں؟
اسلام ہمیں صرف عبادت کا حکم نہیں دیتا بلکہ دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے، بھلائی کرنے اور معاشرے کے کام آنے کی بھی تعلیم دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ
’’اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔‘‘
(المائدہ: 2)
اس لیے شاید اصل سوال یہ نہیں کہ ہماری مسجد کتنی بڑی ہے، اس کا مینار کتنا بلند ہے یا اس پر کتنا خرچ آیا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اس مسجد سے کتنے لوگوں کے لیے آسانی پیدا ہوئی؟
کسی مسافر کو نماز کی جگہ مل گئی، کسی مزدور کو وضو کے لیے پانی مل گیا، کسی بچے نے مسجد میں قرآن پڑھنا شروع کر دیا، کسی ضرورت مند کو کھانا مل گیا یا کسی پریشان شخص کو چند لمحوں کے لیے سکون مل گیا—یہ سب مسجد کے معاشرتی کردار کی خوبصورت صورتیں ہیں۔
بلند عمارتیں یقیناً اچھی لگتی ہیں، مگر معاشرے کی اصل بلندی وہاں نظر آتی ہے جہاں انسان دوسرے انسان کے لیے آسانی بن جائے۔
جاپان کی موبائل مسجد ہمیں ٹیکنالوجی سے زیادہ ایک سوچ دیتی ہے:
ضرورت کو دیکھو، مسئلہ سمجھو اور پھر حل وہاں لے جاؤ جہاں اس کی ضرورت ہے۔
کاش ہم بھی اپنی مذہبی اور معاشرتی زندگی میں اسی سوچ کو مزید جگہ دیں۔
کاش ہماری مساجد صرف خوبصورت عمارتیں نہیں بلکہ آسانیاں بانٹنے کے مراکز بھی بنیں۔
کیونکہ مینار بلند کرنے سے صرف عمارت بلند ہوتی ہے؛
انسان اس وقت بلند ہوتا ہے جب وہ دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے۔
اور شاید یہی ’’موبائل مسجد‘‘ کا سب سے خوبصورت سبق ہے۔
دنیا کی پہلی موبائل مسجد