قرآن کے اٹھارویں پارے کے اہم نکات ملاحظ کیجیے
Para # 18
Dawrah e Qur’an # 2021
Scholar Nighat Hashmi
حجاب كيا ہے؟
حجاب حسن كى حفاظت ہے اور ہر قیمتی چيز كى حفاظت كى جاتى ہے
ہر پھل،ہر سبزى پر ایک محافظ ہوتا ہے-اسكا چھلکا اس كا حجاب ہوتا ہے جو اس كو محفوظ كرتا ہے-
اگر آپ كو بغير چهلكے کے پهل ملیں اور آپ حفظان صحت کے اصولوں كو جانتے ہوں تو کیا آپ ایسے پهل استعمال كر سکتے ہیں؟
وه عورتیں کیسے مضبوط إيمان والى تھیں کہ ادهر حكم نازل ہوا تو راتوں رات حجاب تيار ہو گئے،چادریں بن گئیں،وه كسى سے متاثر نہیں تھیں اور نہ ہى كسى كى پابند تھیں-انہوں نے اس کے ليے كسى اور سے اجازت بهى نہیں لى کیونکہ وه آزاد عورتیں تھیں-انہوں نے اس طرح سے اللہ تعالى کے حكم كو مانا جس طرح اللہ تعالى نے انہیں حكم ديا تها-
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت ( سراپا ) پردہ ہے، جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے-
عورت قيمتى ہے،آپ قيمتى ہیں،قيمتى ہيرا بنيں،وه ہيرا جو ناياب ہوتا ہے،ايسا پتھر نہ بنیں جو پھینک ديا جاتا ہے،بيت اللہ، اللہ تعالى كا گھر ہے اس پر بهى ایک حجاب ہے جسے بيت اللہ كا غلاف کہتے ہیں-کعبہ كا غلاف اس ليے ہے کے پتا چلے كہ یہ كوئى عام گھر نہیں ہے یہ اللہ رب العزت كا گھر ہے-عورت كا حجاب اس ليے ہے کے پتا چلے یہ كوئى عام عورت نہیں،یہ مسلمان عورت ہے-
ححاب ہمارے رب كا حكم ہے،حجاب عورت كى عزت كى علامت ہے،حجاب عبادت ہے..
Hijab is my right
Hijab is my choice
Hijab is my life
آیت نور
نور روشنی ہے،جب کسی چیز پر روشنی پڑتی ہے تو اچھا برا سب واضح ہو جاتاہے۔
اس سورت کے احکامات پڑھ کر ہم روشنی پائیں گے اور ہمارے دلوں کی کیفیات بھی واضح ہو جائیں گی، کہ ہمارے ایمان کا کیا درجہ ہے۔
نور کی مثال ایک غیر محدود ذات کے تصور کو قریب لانے کے لیے دی گئی ہے۔
نور سے مراد
“روشنی”ہے
“علم”ہے
“ھدایت”ہے
ھدایت کا سرچشمہ اللہ ہے۔
سورج چمکتا ہے۔اس کو کس نے ھدایت دی ، guidance دی ؟ اللہ نے۔
ھدایت، راہنمائی، روشنی کا ماخذ (source )اللہ رب العزت ہے۔
مشکواۃ۔۔۔۔ طاق سے مراد بندہ مومن ہے جسکی وجہ سے روشنی دوسروں تک پھیلتی ہے۔
اگر آپ کے دل میں نور ہوگا تو آپکی زبان سے اظہار ہوگا، آپ کے عمل سے ہوگا۔۔اور یہ روشنی دوسروں تک پھیلے گی۔
مصباح۔۔۔چراغ سے مراد ایمان کی استعداد ہے۔
ایمان آتا ہے تو دل روشن ہوتا ہے۔
زجاجه۔۔۔فانوس/ قندیل / شیشہ چراغ کو گھیرے ہوئے ہے۔
a crystal clear surrounding
جس شخص کے دل میں ایمان ہے ، اور اسکو ماحول بھی اچھا مل جایے تو اسکی روشنی دور دور تک پھیلے گی۔
وہ شخص پھر اپنی ذات میں نہیں جیتا بلکہ وہ تو پورا ماحول منور کر دیتا ہے۔
اچھا ماحول انسان کو خیر آگے پہنچانے میں مدد کرتا ہے۔
(اللہ تعالیٰ کے نور کی قندیلیں مساجد اور دینی اداروں ، مدارس میں روشن ہوتی ہیں)
نور علی نور
ایک چراغ سے کتنے چراغ جل اٹھتے ہیں۔
کبھی ماحول ایسا مل جاتا ہے کبھی بنانا پڑتا ہے
کوکب دری ۔۔۔موتی کی طرح چمکتا ہوا تارا ہے۔
(چمکتے دل والے لوگ)
having pure intensions
جتنے زیادہ صاف دل لوگ مل جائیں گے اتنا ہی آپ ذیادہ چمکیں گے۔ ایمان بڑھے گا ،پھیلے گا۔
چراغ زیتون کے تیل سے روشن ہوتا ہے، جو نہ مشرقی ہے اور نہ مغربی۔
ایمان کا یہ چراغ کہاں سے روشنی لیتا ہے؟
شجرة مباركة زيتونة ۔۔۔ سے مراد اسلام کا علم ہے۔۔وحی الہی قرآن وسنت کا علم ہے۔
یہ علم ایمان کو تقویت بخشتا ہے۔
لا شرقية ولا غربية۔۔۔ نہ اس نے مشرق سے اثر قبول کیا اور نہ ہی مغرب سے۔
اسکا تعلق کسی خاص گروہ سے نہیں ہے۔
مخصوص اللہ کی ذات ہو تو تیل خالص رہتا ہے ، خود بخود جل اٹھتا ہے۔
خواہ آگ نہ چھوئے۔۔۔یعنی کوئی support کرے یا نہ کرے، خالص چیز خود بخود چمک اٹھتی ہے۔
تیل (وحی کا علم) اپنی purity کی وجہ خود بخود چمک اٹھتا ہے۔
وحی کا علم ایسا علم ہے کہ اس میں خود بھڑکنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
نور علی نور۔۔۔ قرآن کا علم بیجھنے والی اللہ کی ذات اور پہنچانے والی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات۔۔
اتنے صاف چشمے کے باوجود سب فائدہ نہیں اٹھاتے۔
اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنے نور کی طرف ھدایت دیتا ہے۔۔
ایمان کے نور مل جانے کے باوجود دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
١.فانوس۔۔۔۔ماحول کی
٢. تیل۔۔۔علم ھدایت کی
اللہ تعالیٰ مثالیں بیان کرتا ہے۔
انسان کے اندر حق کی طلب موجود ہوتی ہے، یہ طلب powerful ہوتی ہے۔۔گویا کہ یہ petrol ہے، کہ آگ قریب بھی آئے گی تو بھڑک اٹھے گی۔
اگر اس طلب کو ضائع نہ کیا جائے تو ہر وقت حق کو پانے کی بےتابی رہتی ہے۔
اسلیے تو مومن کو جہاں سے بھی اللہ تعالیٰ کا نور ملے وہ بے تاب ہو کر لپکتا یے۔ کیونکہ اسی سے اسکا دل روشن ہوتا ہے۔
مقصد زندگی
اللہ تعالیٰ کے نور کو حاصل کرنے کے لیے ایسے گھروں میں رہنا جہاں اللہ کا ذکر بلند کیا جاتا ہے۔
*ہم کیا کریں?
قرآن وسنت کا علم سیکھنا ہے۔
ہدایت حاصل کرنی ہے۔ایسے گھروں میں جانا ہے جہاں نور کی روشنی دی جاتی ہے۔
ان شاءاللہ
قرآن کے آٹھارویں پارے کے نکات آپ نے پڑھے۔انھیں حرز جان بنا کر عمل کے زریعے ثابت کریں کہ آپ اس کے ماننےوالواں میں سے ہیں۔