421

قرآن کے سولہویں پارے کے اہم نکات

تحریر شئیر کریں

قرآن کے سولہویں پارے کے اہم نکات ملاحظ کیجیے

Parah # 16
Dawrah e Qur’an2021
Scholar Nighat Hashmi

  • اہم نكات پاره#16*
  • موضوعات:*
    1- قصہ حضرت موسی علیہ السلام و خضر علیہ السلام ، قصہ ذوالقرنین
    2- حضرت يحيى كى معجزانہ پیدائش ، حضرت عيسى علیہ السلام كى پيدائش كى حقيقت
    3- حضرت ابراہیم علیہ السلام اور انبیاء کے مزيد واقعات
    4- عقيده توحيد ، رد شرک اور مناظر قيامت
    5- حضرت موسی علیہ السلام ، فرعون اور بنى إسرائيل موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کے واقعہ سے سبق
    علم کے میدان میں صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔
    پیش آنے والے حالات سے بددل نہیں ہونا چاہیے۔
    ﷲ تعالیٰ بڑے نقصان سے بچانے کے لیے چھوٹا نقصان دیتے ہیں۔۔

ذوالقرنین کون تھا؟؟
ذوالقرنین دنیا کا فاتح تھا۔۔ وہ نفس پرست اور دولت کا حریص نہیں تھا۔۔اس کی فتح کے چرچے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے تھے۔

یاجوج اور ماجوج
دو وحشی قومیں تھیں۔۔ ان کے چہرے موٹے، آنکھیں چھوٹی، اور بال سرخی مائل سیاہ ہیں۔۔
ذوالقرنین نے انھیں ایک دیوار کے پیچھے بند کر دیا تھا۔۔ جب ﷲ تعالٰی کا حکم آۓ گا تو وہ باہر نکل کر زمین میں فساد برپا کریں گے۔۔
ترمذی: 3153

سورۃ مریم
سورۃ مریم میں توحید اور بعد الموت قیامت اور پچھلے انبیاء کا تذکرہ ہے۔۔

حضرت زکریا علیہ السلام
زکریا علیہ السلام نے اپنے رب سے اخلاص کے ساتھ دعا کی۔ sharing کی کہ انھیں خوف ہے کہ اگر ان کا وارث نہ ہوا تو mission کیسے پورا ہو گا۔۔۔
وہ جانتے تھے کہ وہ ایسی دعا کر رہےہیں جس کا کوئی سبب نہیں مگر انھوں نے کہا کہ
اے میرے رب!! میں آپ سے مانگ کر کبھی نا امید نہیں ہوا۔۔
اللہ تعالیٰ نے انھیں یحییٰ علیہ السلام کی خوشخبری دی۔۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام
یحییٰ علیہ السلام نرم دل، پرہیزگار، اور اپنے والدین کے فرمابردار تھے۔۔

حضرت مریم علیہ السلام
مریم علیہ السلام ایک پاکیزہ اور حیا والی لڑکی تھیں۔۔ عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ طور پر بن باپ کے پیدائش پر لوگوں نے ان پر الزامات لگائے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ماں کی گود میں ہی لوگوں سے کلام کیا۔۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام
عیسیٰ علیہ السلام نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کرنے والے اور اپنی والدہ کے فرمابردار تھے۔۔

سیدہ ابراہیم علیہ السلام
ابراہیم علیہ السلام ایک راست باز انسان تھے جنھوں نے حق پہچاننے کے بعد اپنے والد کو اسلام کی طرف دعوت تھی۔۔ ان کے والد نے ان سے بے رخی کا معاملہ کیا۔۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام پھر ان سے بے تعلق ہو گئے۔

سیدہ اسماعیل علیہ السلام
اپنے وعدے کے سچے تھے اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے۔

سیدہ ادریس علیہ السلام
راست گو انسان تھے۔۔ﷲ تعالیٰ نے انھیں بلند مقام عطا کیا۔۔

*سورۃ طحہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ پر جب وحی نازل ہوتی تو وہ پریشان ہو جاتے تھے ﷲ تعالیٰ نے طحہ کہہ کر مخاطب کیا ہے کہ آپ پر یہ کلام اس لیے نازل نہیں کیا گیا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں۔۔
موسیٰ علیہ السلام پر وحی کا نزول اور معجزات کا ملنا
مدین سے واپسی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے گھر والوں کے لیے سردی کی شدت کو دور کرنے کے لیے آگ ڈھونڈنے کے لیے نکلے اور اپنے رب کو ہی پا لیا۔۔ ﷲ تعالیٰ نےان سے براہ راست کلام کیا، انھیں وحی اور معجزات سے نوازا۔۔

موسیٰ علیہ السلام کی دعا
موسیٰ علیہ السلام نے ﷲ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان کی زبان کی گرہ کھول دیں اور ہارون علیہ السلام کو ان کا مددگار بنا دیں۔۔ﷲ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کر لی۔۔

موسیٰ علیہ السلام کی پرورش
موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے محل میں پرورش پائی۔۔ان کی والدہ ان کے لیے پریشان تھیں۔ موسیٰ علیہ السلام کو دودھ پلانے کے لیے خواتین آئیں مگر وہ دودھ نہیں پیتے تھے۔۔ ان کی والدہ بھی آئیں اور آخر کار موسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ کے پاس واپس پہنچ گئے۔۔

موسیٰ علیہ السلام اور جادگروں کے درمیان مقابلہ
فرعون کے دربار میں موسیٰ علیہ السلام اور جادگروں کی بحث ہوئی اور ان کے درمیان مقابلہ طے پایا۔۔ موسیٰ علیہ السلام کے عصا سے جو ازدھا بنا وہ باقی سانپوں کو نگل گیا اور جادوگر سجدے میں گر کر اللہ پر ایمان لے آۓ۔۔

موسیٰ علیہ السلام کا فرعون سے نجات
موسیٰ علیہ السلام رات کے وقت اپنے لوگوں کو لے کر نکل گئے۔۔
دریا میں راستہ بنا اور موسیٰ علیہ السلام کے لوگ گزر گئے۔۔ فرعون اور اسکی قوم جو ان کا پیچھا کر رہی تھی غرق ہو گئے۔۔

بنی اسرائیل کا گمراہ ہو جانا
موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر چالیس دن کے لیے گئے تھے تو ان کے پیچھے سے سامری جادوگر نے ان کو گمراہ کر دیا اور وہ بچھڑے کی پوجا کرنے لگے۔۔ سامری کو عذاب دیا گیا جس کے نتیجے میں کوئی اسے ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا تھا۔۔

آدم علیہ السلام کا جنت سے نکلواۓ جانا
حضرت آدم اور حضرت حوا کو شیطان نے پھسلا کر اللہ کی نافرمانی کا مرتکب بنایا۔۔ ﷲ تعالیٰ نے انھیں جنت سے نکال دیا اور کہا کہ اگر تمھارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آۓ تو اس کی پیروی کرنا۔۔

مقصد زندگى:

1- پاکیزگی اختيار كرنا ، لوگوں كى مشكلات دور كرنا
2- ﷲ تعالیٰ كا پسندیدہ انسان بننے كى كوشش كرنا ، ﷲ تعالیٰ كى عبادت كرنا
3- دوسروں كو سيدها راستہ دكهانا ، ﷲ تعالیٰ سے ڈرنا
4- ﷲ تعالیٰ كو راضى کرنے کے ليے جلدى كرنا ، ﷲ تعالیٰ كى ياد کے ليے نماز قائم كرنا
5- علم میں اضافے کے ليے دعا كرنا ، ہدایت كا راستہ اختيار كرنا

ہم كيا کریں؟

1- اپنى زندگى كو خوف و غم سے بچانے کے ليے قرآن کے احکامات کے مطابق زندگى گزارنى ہے
2- اپنى نيكيوں كو ضائع ہونے سے بچانے کے ليے حسد نہیں كرنا
3- خالص ﷲ تعالیٰ كى رضا کے ليے صدقہ كرنا ہے تاکہ دو گنا ثواب حاصل ہو
( ان شاء ﷲ)

قرآن کے سولہویں پارے کے اہم نکات آپ انے ازبر کیے۔اب ان پر عمل کب کرنا ہے؟سوچیے اور قدم اٹھائیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں