قرآن کے چوبیسویں پارے کے اہم نکات ملاحظ کیجیے
Para # 24
Dawrah e Qur’an
Scholar Nighat Hashmi
اہم نکات
١. سورة الزمر
٢. سورة المومن
٣. سورة حم السجدة
پارہ نمبر 24*
سورۃ الزمر
اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا
مشرکین اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔۔ جھوٹ باندھنے سے مراد اللہ تعالیٰ کی اولاد بنانا یا اس کے ساتھ کسی کو شریک بنانا ہے۔۔
مشرکین سچائی کو جھٹلاتے ہیں کہ اسلام سچا دین نہیں۔۔
سچائی کو جھٹلانے والوں کا انجام جہنم ہے۔۔
اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے
کفار قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کی تمنا کرتے تھے۔۔ انھوں نے اہنی خواہش کی تکمیل کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دینا چاہتے تھے۔۔۔ اسی پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو یقین دلایا کہ آپ کا رب آپ کے لیے کافی ہے۔۔
نفع و نقصان کا مالک
نفع و نقصان کا control صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔۔
مگر لوگ اللہ تعالیٰ کی مدد لینے پر اتنا اچھا محسوس نہیں کرتے جتنا یا علی مدد اور یا رسول اللہ مدد کہنے میں محسوس کرتے ہیں
جانتے ہیں ایسا کیوں ہے
کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کو ہی نہیں پہچانا۔۔ اللہ تعالیٰ سے وہ محبت نہیں کی جو فرض ہے۔۔
علم کے بغیر معرفت نہیں آتی اور معرفت کے بغیر محبت نہیں ہوتی۔
اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر ہی نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے
لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت نہیں کی، اس کا شکر ادا نہیں کیا اور اسے یاد بھی نہیں کیا۔۔
جہنمیوں کا گروہ
قیامت کے دن جہنمیوں کو گروہ در گروہ جہنم کی طرف دھکیلا جاۓ گا۔۔
جہنم کے فرشتوں کو بھی ان پر رحم آۓ گا اور وہ پوچھیں گے: نادانوں!!
کیا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟؟
جنتیوں کا گروہ
جنتی لوگ بھی گروہ در گروہ جنت میں داخل کیے جائیں گے۔۔ اور وہ اس میں مزے میں ہوں گے۔۔
سورۃ المومن
سرکش لوگوں کا انجام
ہر دور کے سرکش لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور انھیں اذیت دی۔۔ اللہ تعالیٰ باطل کے ذریعے جھگڑا کرنے والوں کو پکڑ لیتا ہے اور انھیں سخت عذاب دیا جاتا ہے۔۔
کامیابی ایمان والوں کا مقدر
اللہ تعالیٰ بعض اوقات اپنی حکمت اور معیشت کے تحت کافروں کو غلبہ دے دیتے ہیں لیکن بالآخر ایمان والے کامیاب ہوتے ہیں۔۔
کتاب سے فائدہ اٹھانے والے
کتاب(تورات) سے عقل مند لوگ ہی فائدہ اٹھاتے ہیں باقی لوگ تو صرف جانوروں کی طرح کتاب کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور علم نہیں رکھتے کہ کتاب کے اندر کیا ہے۔۔
سورۃ حم السجدہ
یہ سورت عتبہ بن ربیعہ کی موجودگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی گئی۔۔۔
عتبہ نے آپ کے سامنے چار نکاتی ایجنڈا پیش کیا۔۔
اگر آپ كو عورت چاہیے تو ہم آپ کا نکاح حسین عورت سے کروا دیتے ہیں۔۔
اگر آپ کو مال چاہیے تو ہم آپ کو مال دے دیتے ہیں۔
اگر آپ کو اقتدار چاہیے تو ہم آپ کو سردار بنا دیتے ہیں۔
اگر آپ کو دیوانگی ہے تو ہم آپ کا علاج کروا دیتے ہیں۔۔
کفار کا قرآن کی تلاوت میں دخل اندازی کرنا
جب قرآن کی تلاوت کی جاتی تو کفار سیٹیاں اور تالیاں بجاتے، بے ہودہ گوئی کرتے، چیخ و پکار کرتے تاکہ قرآن کی آواز لوگوں کے کانوں میں نہ پہنچے اور دل اسکے اثر سے محفوظ ہو جائیں۔۔
برائی کا بدلہ بھلائی سے دینا
اللہ تعالیٰ نے نیکی کی طرف بلانے والوں کو برائی کا بدلہ اچھائی سے دینے کا حکم دیا۔۔
یعنی اگر کوئی زیادتی کرے تو اسے معاف کر دو، غصے پر صبر کرو اور ناپسندیدہ باتوں پر حلم کا مظاہرہ کرو۔۔
ہم کیا کریں ؟
كتاب كا سچا وارث بننا ہے،آخرت کے حالات پر غوروفكر كرنى ہے
فجر کے وقت قرآن سننے اور پڑھنے كا اہتمام كرنا ہے
ان سب افراد كو معاف كرنا ہے جن سے مجھے كبهى تكليف پہنچى تاکہ اللہ تعالى بهى میرے گناہوں پر مجھے معاف كر دیں
ان شاءاللہ
قرآن کے چوبیسویں پارے کے نکات از بر کریں اور دیکھیں اللہ آپ سے کیا تقاضا کر رہا ہے۔