بچوں کی پوٹی ٹریننگ کب اور کیسے کی جاۓ؟انتہائی اہم موضوع جو ہر ماں کی ضرورت
پوٹی ٹریننگ ایک دشوار مرحلہ ہے جس سے ہر ماں کو گزرنا ہوتا جلد یا بدیر۔۔۔۔مگر کیا ہی ضروری ہو اگر یہ ٹرینگ جلد از جلد شروع کر دی جاۓ۔جس کے تین بڑے فائدے ہوں گے۔
بچہ جسمانی اور روحانی طور پر صاف ستھرا رہے گا۔
پیپر کی خریداری سے جو بجٹ پر بوجھ بڑھتا،کم ہوگا۔
بچہ جلد از جلد ڑینڈ ہو جاۓ گا۔وگرنہ پیمپرز کی عادت جتنی پختہ ہوتی جاۓگی اتنا ہی چھوڑنے میں وقت لگے گا۔
پیپرز کے نقصانات جو جلد پر مرتب ہوتے ہیں اگر ان پر تحقیق کر لی جاۓ تو لوگ پیمپرز لگانا چھوڑ دیں۔
سوال یہ ہے کہ پیمپرز کا متبادل کیا ہے؟
۔بچوں کو کپڑے کے ڈائپر پہنائیں جائیں وہ بھی جیسے ہی گیلے ہوں فورا اتار لیے جائیں۔
۔بچوں کو واش روم لے جایا جاۓ ہر پندرہ بیس منٹ کے بعد۔۔ کرنا صرف اتنا ہے کہ بچے کو واش روم جتنے منٹ بعد آتا ہے ایک دودن کی روٹین سے پتہ چل جائیں گا،اتنے منٹ کا آلارم لگا کر اسے واش روم لے جائیں۔اور اس کی کمر اپنے سینے کے ساتھ لگا کر سیس سیس کی آواز نکالنی ہے بچہ کچھ دن بعد ٹرینڈ ہو جاۓ گا۔
اگر بچہ ایک سال کا ہے تو اسے کہانیاں سنائیں اس کی گڑیا اور بھالو کو اتنی دیر واش روم میں رکھیں،بچوں کو بتائیں کہ گڑیا اتنی اچھی ہے واش روم جاتی ہے۔بچہ اگر اس تبدیلی کو جلدی قبول نہیں بھی کرتا تو صبر اور مستقل
مزاجی سے لگی رہیں
اپنے جاننے والوں کو بتائیں کی میرا بیٹا یا بیٹی تو اتنا اچھا ہے کہ واش روم بھی چلا جاتا،اس ضمن میں اہم بات یہ کہ بچے جب پوٹی وغیرہ کریں تو کبھی کراہت محسوس نا کریں۔بچے پہ اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔بہت سی ماؤں کوکراہیت محسوس ہوتی ہے پھر وہ سارا غصہ بچوں کو لعن طعن کر کے گزارتیں ہیں۔اس کی بجاۓ بچوں کو باتوں میں لگائیں ،خوب پیار کریں۔ایمرجنسی کے لیے تیار رہین۔
بچوں کی پوٹی ٹریننگ کے دوران اہم باتیں
بچوں کو ایک بار اگر ڈائپر کی عادت چھڑوا دی ہے تو دوبارہ مت لگائیں اس سے وہ کنفیوز ہو جاۓ گا۔کہ کب واش روم جانا اور کب نہیں۔اگر کبھی پاجامہ گیلا ہو بھی جاۓ تو اس پی ڈانٹ ڈپٹ کی بجاۓ یہ کہیں کوئی بات نہیں اس بار ٹانگیں خراب ہوئیں ہیں اگلی بار ہم وقت پہ واش روم جائیں گے۔
رات کو پلاسٹک کی شیٹس بیڈ پر بچھا لیں۔اس کے علاوہ سونے کے دوران بھی ایک دو بار واش روم ضرور لے کر جائیں۔آپ کو خود اندازہ ہو جاۓ گا کہ بچہ رات میں کتنی بار واش روم کی ضرورت سحسوس کرتا ہے۔
بچوں پوٹی ٹریننگ شروع کروائیں تب کروائیں جب آپ وہ ہفتہ گھر پہ ہوں۔کہیں آنا جانا نا پڑے۔
یہ بھی پڑھیے
بچوں کے لیے خالص غذا کا حصول ایک چیلنج
بچوں کی کتابوں میں دلچسپی کیسے پیدا کریں؟
گھر میں موجود لوگ پوٹی ٹریننگ میں ماؤں کی مدد کروا کر اس پروسیجر کو آسان بنا سکتے ہیں۔یہ بظاہر جتنا مشکل لگتا ہے اتنا ہے نہیں۔آزمائش شرط ہے۔
کی بچوں پوٹی ٹریننگ میں پیش نظر رہنی چاہیے۔جوہ بات مجھے سائیکالوجسٹ فاطمتہ الزہراہ جو فیس بک پہ کافی مقبول ہیں ان سے پتہ چلیں۔کہتیں ہیں کہ جن بچوں کے ساتھ پوٹی ٹریننگ میں سخت برتاؤ کیا جاتا ہے۔وہ بچے بڑے ہو کر نارمل بی ہیو نہیں کرتے۔شکی مزاج وہمی اور ڈرپوک ہوتے ہیں۔لہذا اپنے بچوں کو پیار اور نرمی سے سمجھائیں۔وہ نازک شاخ کی طرح ہیں جس طرف چاہیں گے مڑتے چلے جائیں گے سختی کریں گے تو ٹوٹ بھی سکتے۔ان کا بچپن اگر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا تو ساری عمر یہ توڑ پھوڑ ان کو سکون سے جینے نہیں دے گی۔
بچوں کو ایسے کارٹون بھی موجود ہیں جن کو دیکھ کر بچے پوٹی ٹریننگ سیکھ جاتے ہیں جیساکہ کوکو میلن کارٹون کا پوٹی سانگ۔میرے سسرال میںں ایک بچی نے اس سانگ کو دیکھ دیکھ کر باتھ روم جانا سیکھا ہے۔