360

ایک خبطی کی واک

تحریر شئیر کریں

ایک لمبی بیداری کے بعد اس کی آنکھ کھلی تھی۔کیا دیکھتا ہے کہ سرپٹ بھاگا جا رہا ہے ایک ٹریک پر۔۔ ۔۔۔اپنے اردگرد جھانکا تو اپنے ہی جیسے ہم شکل لوگ تھے جو اس کے ساتھ بھاگ ریے تھے۔تھوڑا غور کیا تو کچھ فریش تازہ دم اور کچھ تھکے ہوۓ پریشان حال مگر سب میں ایک ہی چیز مشترک لگی وہ تھی بھاگنا۔۔۔ اس بھاگم دوڑ کا مقصد کیا تھا ۔اس عجیب وغریب اور خبطی انسان نے آخرکار دریافت کر ہی لیا تھا۔۔ محض اس لیے کہ پیچھے نا رہ جاۓ۔پیچھے رہ جانے کا خوف اس کو سستانے نہیں دیتا۔بہت سے ضروری کام ہیں جنہیں رک کے نپٹانا ہیں۔مگر پیچھے رہ جانے کا خوف رکنے نہیں دیتا۔ کیسی احمق مخلوق ہے یہ انسان بھی ۔۔ پیچھے کی طرف دیکھتا ہے۔یہ کیوں نہیں سوچتا۔۔۔کہ اس بھاگم دوڑ کا احتتام کس منزل پہ ہوگا؟اچھا یا برا؟پھول ملیں گے یا انگارے؟سحر ہوگی یا سیاہ بھیانک رات؟انجام سے بے خبر حال سے بے پرواہ انسان سلیبس طاقوں میں بند کر کے نۓ اسباق پڑھنے میں مصروف ہے۔نئے سلیبس ڈیزائن ہو رہے ہیں۔یہ جانے بغیر کہ جس خالق نے مشین بنائی اسے چلانے کا طریقہ بھی تو اسی کے پاس ہے نا؟؟؟؟ جس قدرت نے سب تخلیق کیا۔اس کی یہ ساری کائنات جب ایک دوسرے کے مفاد کے لیے تخلیق کی گئ ہے۔جب اس کے موسم اس کی ہوائیں اس کے دن اور رات سب کے سب انسان کے لیے منفعت بخش ہیں تو اس کا ڈیزائن کیا ہوا سلیبس اور قانون اس کے لیے نقصان دہ کیسے ہوسکتا ہے؟ تھوڑا سا سستانے کے لیے رکا تھا مگر اس دھکم پیل میں قدم رکھ کہیں رہا تھا پڑ کہیں اور رہا تھا۔۔۔تھا نا خبطی۔۔۔عقل مند ہوتا نزدیک کی عینک سے دیکھ لیتا اور اپنے مستقبل کی فکر کرتا ایک سے دو اور دو سے تین بنانے کے گر سیکھتا۔مگر وہ تو ہمیشہ سے دور کی سوچتا تھا۔آنکھوں پہ چشمہ چڑھاتے اس کم عمر بوڑھے نے ایک بینچ پہ رک کے دھند میں دور تک دیکھنے کے لیے ہاتھوں کا چھجا بنایا مگر ہیولے ہی ہیولے تھے۔۔ کوئی چیز ٹھیک سے دکھ نہیں پا رہی تھی۔۔۔یہ عجیب سی دھوان نما دھند انسانوں کو کچھ سالوں سے اہنی لپیٹ میں لے رہی تھی۔۔۔اس خبطی انسان نے فوگ کو محسوس کرنا چاہا۔۔۔۔مگر وہ دھند ہوتی تو محسوس ہوتی نا وہ تو فوگ تھی۔۔۔سانس ناک اور آنکھ میں رکاوٹیں ڈالنے والی۔۔ جب سے انسان نے عقل کا چشمہ اتار کر جیب میں رکھا ہے تب سے یہی ہوا ہے دھند اور فوگ ایک ہی دکھائی دیتیں ہیں۔مگر یہ حقیقت میں الگ الگ۔۔۔ایک ٹھنڈی لو دیتی ہوئی دوسری دھویں کی طرح ۔۔۔ خبطی انسان چل رہا تھا۔اسمیں اور باقی انسانوں میں ایک ہی فرق تھا کہ وہ اندھا دھند بھاگتا نہیں تھا۔پیتل کوسونا نہیں سمجھتا تھا پیتل ہی سمجھتا تھا۔اس کی آنکھ کو ہرا دکھتا ضرور تھا مگر ہرا ہی ہرا سوجھتا نہیں تھا۔نفع نقصان کے سارے سبق اس نے اس انمول کتاب سے ازبر کیے تھے۔جو اس کا مینول تھا۔جو اس کا اصل سلیبس تھا۔بس اس نے جب سے یہ پڑھا پھر کچھ اور پڑھ ہی نا سکا۔۔۔کیسے پڑھتا۔۔۔اس کے اندر کی آنکھ جو روشن ہوگی تھی۔۔اس نے کہیں پڑھا تھا کہ انسانی آنکھ تب کھلتی ہے جب ہمیشہ کے لیے بند ہو جاۓ مگر یہ آدھا سچ تھا۔تب بھی کھلتی ہے مگر اللہ اپنے بندوں کو دنیا میں بھی ارنا الحق کی بصیرت سے نوازتا ہے۔تو دل دماغ اور روح سب کے تار جڑ جاتے ہیں۔اور جب حق کی برقی رو آن ہوتی ہے تو پھر وہ سب دکھتا ہے ۔۔۔انسانی آنکھ وہ منظر دیکھتی ہے جواسے اصل حقائق سے روشناس کرتے۔کامیابی اور فلاح کا فرق سمجھ آتا ہے۔اور یہی تو اصل۔کامیابی ہے۔اس خبطی انسان کی واک کا وقت ختم ہو رہا تھا۔سردیوں کی واک مزہ ضرور دیتی ہے۔مگر اتنا بھی نہیں ۔۔۔۔یہ سوچ کر اس نے گھر کی طرف قدم بڑھا دیے جہاں اس کی فلاسفر بیوی اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔فلاسفر سے یاد آیا آپ کہیں مجھے تو فلاسفر نہیں سمجھ رہے؟خیر جو بھی سمجھیں یہ وہ کھرا سچ ہے جس پر ہم نے اپنی آنکھیں بند کر رکھیں ہیں۔اپنا تو اتنا ہی کہنا ہے اپنا سلیبس اپنا مینول اٹھاو اور پڑھو اس انمول کتاب کو۔۔۔جو تمہارے لیے ہے۔۔۔صرف تمہارے لیے۔۔۔۔آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے پھر ملیں گےاگلی واک تک کے لیے اللہ حافظ ایک خبطی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں