428

تواضع اختیار کیجیے

تحریر شئیر کریں

تواضع اختیار کیجۓ۔کیونکہ اللہ کو متواضع لوگ پسند ہءں۔

تواضع یہ ہے کہ انسان اونچا مرتبہ رکھتے ہوۓ بھی کم حثیت افراد کے ساتھ فرق نا کرے۔اور خود کو ایسے لوگوں مین عام سمجھے۔ ،تواضع تکبر کے متضاد ہے ۔

سلف صالحین کی عادت میں تھا کہ جو ان سے چھوٹا ہوتا اس کو بیٹے جیسا اور اپنے سے بڑے کو باپ کی طرح اپنے ساتھ والے کو بھائی کا درجہ دیتے تھے ۔

جو دوسروں کو عزت و اکرام دیتا ہے
وہ عزت پاتا ہے ، ہر ایک کے لیۓ تواضع اختیار کیجیء۔چاہیے وہ مسلم غیر مسلم چھوٹا بڑا سب انسانیت کے ساتھ عزت و احترام کا معاملہ کیا جاۓ ۔معاف کرنا درگزر کرنا تواضع اختیار کیجیے یہ درجات کی بلندی کا ذریعہ ہے ۔ تواضع اللہ کے سامنے بندوں کے سامنے اور حق کے معاملے میں بھی ہوتی ہے کہ جو حق بات ہے اسے مانا جاۓ قبول کر لے حق کے لیۓ سر تسلیم خم کر دے

اگر اللہ نے کسی کو کوئی حق دیا ہے تو دوسروں کے حق کو مانا جاۓ اسکے حق کی ادائیگی عمدگی سے کی جاۓ۔ قرآن والے دوسروں سے بےپرواہ ہو کر زندگی نہیں گزارتے ہیں ۔ تکبر اور منفی رویہ الفاظ لہجے تواضع کے خلاف ہے ۔

متواضع دین کو سمجھتا ہے اس کے مطابق عمل کرتا ہے جو نہ سمجھ میں آۓ اس میں اپنی عقل کو قصور وار سمجھتا ہے ۔دین پہ عمل کرنے سے نفس تابع ہوتا ہے اور عاجزی آتی ہے ۔

متواضع تقدیر پہ راضی رہتا ہے ۔اللہ کے فیصلوں پہ اعتماد کرتا ہے۔ اس کی حکمت پہ یقین رکھتا ہے ۔

متواضع بندوں سے معاملہ عمدگی سے کرتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ایسے شخص کے بارے میں بتاؤں جو جہنم پہ حرام ہے ؟ وہ جو لوگوں کے قریب ہے نرم مزاج ہے لوگوں کے لیۓ آسانی کرنے والا ہے ۔ایمان میں کامل وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں جو محبت کرتے ہیں اور کیۓ جاتے ہیں ۔ بداخلاق و ترش رو میں کوئی خیر نہیں ہے ۔

اللہ کسی نیکی کی توفیق دے تو اپنے کسی بھی عمل کو بڑا نہیں سمجھنا چاہیے کہ اللہ صرف متقین سے نیکی قبول کرتا ہے ۔ ہر توفیق پہ شکر ادا ہو ۔

جب تم نصیحت سنو گے تو شیطان تمھارے دل میں خیال ڈالے گا کہ نہ کرو اور نصیحت کرنے والے کے لیۓ دل میں برے خیال ڈالے گا اس وقت اپنے لیۓ نصیحت قبول کرنا تواضع ہے ۔

اللہ تعالی کوئی مقام دے تو تواضع نہ جانے دیں بلند مرتبہ ہونے کے باوجود تواضع اختیار کریں قدرت پانے کے باوجود درگزر کریں ۔

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اصل عاجزی یہ ہے کہ تم دُنیوی نعمتوں میں اپنے آپ سے کمتر کے سامنے بھی عاجزی کا اظہار کرو حتی کہ تم یقین کرلو کہ تمہیں دنیوی اعتبار سے اُس پر کوئی فضیلت حاصل نہیں اور جو شخص دنیوی اعتبار سے تم پر فوقیت رکھتا ہے اپنے آپ کو اس سے بَرتر سمجھو حتی کہ یقین کرلو کہ اُس شخص کو دنیوی اعتبار سے تم پر کوئی فضیلت نہیں۔

کوئی ایمان کی بلندی کو نہیں پہنچ سکتا ہے جب تک کسی غیر سے اجنبی سے بھی ایسا عمدہ معاملہ نہ کرے جیسا اپنوں سے کرتا ہے ۔

انسان کو چاہیے کہ لوگوں کی معذرت کو قبول کرے ،بدگمانی نہ ہو اس کے ظاہر پہ معاملہ کیا جاۓ جھگڑے کو طول نہ دیا جاۓ

اللہ تعالی کے آگے نماز میں سجدے رکوع میں دعا میں تواضع دل اس کے آگے تواضع میں ہو خوشی سے اطاعت عبادت ہو ۔

یہ بھی پڑھیے

پیغمبر اسلام ﷺ غیر مسلم مفکرین کی نظر میں

عادات کیسے بنائیں جائیں؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں میں نہایت تواضع کا معاملہ کرتے تھے جہاں جگہ ملتی وہاں بیٹھ جاتے ۔اپنے لیۓ عاجزی والے الفاظ پسند کرتے تھے ۔
اپنے کام اپنے ہاتھ سے کرتے تھے ۔گھر کے کام خود کرنے کو باعث اجر سمجھیں یہ بھی تواضع ہے ۔

تواضع ہے کہ خود بڑھ کے سلام کرے ۔بھوکے کو کھانا کھلا دے کسی کا غم بانٹ لے ۔ کسی کی دل جوئی کریں ۔

جو عزت اللہ نے دی ہے وہ ہی اصل عزت ہے اسکے لیۓ کوئی ایسا کام نہ کیا جاۓ جو لوگوں میں تو عزت ہو اور اللہ کے نزدیک معاملہ الٹ ہو ۔

اسلاف اپنے ہر انداز میں عاجزی اختیار کرتے تھے چال میں بھی حال میں بھی قول میں بھی حتی کہ لوگوں کی مجالس کی بھی ۔

اسلاف خود سے لوگوں کو بیزار نہیں کرتے تھے۔ایسی بات نہ کرتے تھے جو ان کو بوجھل کر دے ۔ لوگوں میں نرمی و عاجزی سے متواضع ہو کر رہتے تھے ۔ تواضع اختیار کیجیے اور اس کے لیے دعا بھی کیجے

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ صَبُوْرًا
وَّاجْعَلْنِیْ شَکُوْرًا وَّاجْعَلْنِیْ
فِیْ عَیْنِیْ صَغِیْرًا وَّفِیْ اَعْیُنِ
النَّاسِ کَبِیْرًا.

“اے اللہ تو مجھے بہت صبر
کرنے والا اور بہت شکر کرنے والا بنادے,اور مجھے میری نظر میں چھوٹا اور دوسروں کی نظر میں بڑا بنادے” تواضع کیجیے یہ عمل آپ کو دنیا اور آخرت میں معتبر بنا دے گا۔

استاذہ فرحت ہاشمی
طالبات کے ساتھ ایک نشست
۱۵فروری ۲۰۲۱

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں